رسائی کے لنکس

logo-print

آصف زرداری سے الیکشن تک تفتیش نہ کی جائے: سپریم کورٹ


فائل فوٹو

چیف جسٹس نے وضاحت کی ہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے سابق صدر اور ان کی ہمشیرہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔

سپریم کورٹ میں مبینہ جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف آئی اے' کو حکم دیا ہے کہ وہ سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو 25 جولائی ہونے والے انتخابات تک تفتیش کے لیے نہ بلائے۔

ساتھ ہی چیف جسٹس نے وضاحت کی ہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے سابق صدر اور ان کی ہمشیرہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جمعرات کو جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات کا عمل روکنے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

اس موقع پر سابق صدر آصف علی زرداری کے وکیل ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک پیش ہوئے جبکہ مقدمے میں گرفتار ملزم معروف بینکر حسین لوائی کو بھی سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا۔

سماعت سے قبل یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں سپریم کورٹ نے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کو بھی طلب کیا ہے لیکن چیف جسٹس نے دورانِ سماعت کہا کہ دونوں رہنماؤں کو عدالت نے طلب نہیں کیا۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ آرڈر پڑھ کر سنائیں کہ اس میں کہاں لکھا ہے کہ آصف زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے؟

جسٹس ثاقب نثار نے مزید استفسار کیا کہ کیا یہ دونوں ملزمان کی فہرست میں شامل ہیں؟

اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان دونوں کا نام ملزمان کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر وکلا کو آرڈر کے سلسلے میں کوئی ابہام تھا تو پوچھ لینا چاہیے تھا۔ ہم نے آصف زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم نہیں دیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیےکہ ہر شخص کا اپنا وقار اور حرمت ہے۔ کسی کی تضحیک نہیں ہونے دیں گے۔

دورانِ سماعت آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کی ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نجف مرزا کو تبدیل کرنے کی استدعا چیف جسٹس نے مسترد کردی اور کہا کہ کرپشن ہوئی ہے تو سامنے آنی چاہیے۔ نجف مرزاکو تبدیل نہیں کریں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تحقیق کرنا چاہتے ہیں کہ 35 ارب کے بوگس بینک اکاؤنٹ کیوں کھولے گئے؟ زرداری گروپ کے اکاؤنٹ میں ڈیڑھ کروڑ کس نے ڈالا؟ اگر ڈیڑھ کروڑ رقم کے ذرائع لیگل ہیں تو بتا دیں۔ ہمارا مقصدیہ ہے کہ ایف آئی اے صاف شفاف تحقیقات کرے۔ اس کے علاوہ ہمارا کوئی مقصد نہیں۔

عدالت نے کہا کہ آصف زرداری ایف آئی اے سے تعاون کریں۔ جو الیکشن لڑ رہے ہیں ان کے لیے 30 جولائی تک رعایت ہے۔ شاملِ تفشیش ہونے پر کسی سے رعایت نہیں ہوگی۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس اور منی لانڈرنگ میں گرفتار آصف زرداری کے قریبی دوست حسین لوائی کے درمیان دلچسب مکالمہ بھی ہوا۔

حسین لوائی نے ماتحت عدالت کو ضمانت کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم ضمانت سے متعلق کوئی حکم کیسے جاری کر سکتے ہیں؟ کیا آپ نے ٹرائل کورٹ میں ضمانت کے لیے درخواست دی؟ آپ ٹرائل کورٹ میں درخواست دائر کریں۔ درخوست میرٹ پر ہوئی تو ضمانت ہوجائے گی۔ ضمانت مسترد ہونے پر آپ اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرسکتے ہیں۔ اگر میں بدنیتی سے کوئی کام کروں گا تو سول کورٹ کی ذمہ داری بھی مجھ تک آئے گی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حسین لوائی صاحب ہر کام میں آپ کا اور یونس حبیب کانام کیوں آجاتا ہے؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ تین سال سے تحقیقات ہو رہی ہیں۔

چیف جسٹس بولے عدالت کے نوٹس لینے پر تحقیقات دوبارہ شروع ہوئی ہیں۔ تحقیقات میں چوہدری شجاعت کی مٹی پاؤ پالیسی چل رہی تھی۔ آپ کی عمر 70 سال سے زیادہ ہے۔ اس عمر میں آپ کی گرفتاری پر افسوس ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملک میں صاف شفاف الیکشن کے لیے جو ہم کرسکتے ہیں وہ کریں گے۔ الیکشن میں جو غلطیاں ہوں، وہ ہمیں بتائی جائیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی اے 30 جولائی تک کسی بھی سیاسی بندے کو تنگ نہ کرے۔ جن کے نام ای سی ایل میں ڈالے ہیں وہ 6 اگست تک رہیں گے۔ عدالت نے آصف زرداری سمیت تمام فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 6 اگست تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2014ء میں ایف آئی اے بینکنگ سرکل سے مذکورہ مشکوک اکاؤنٹس کی تحقیقات کا کہا تھا تاہم 2015ء سے انکوائری سست روی کا شکار تھی۔

گزشتہ ہفتے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تحقیقات میں سست روی پر ازخود نوٹس لیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG