رسائی کے لنکس

50 برس سے لاپتا والد کو تلاش کرنے والا بیٹا آج بھی واپسی کا منتظر


ہوانگ ان چیول، نصف صدی سے اپنے والد کی آمد کا منتظر ہے

جنوبی کوریا کا ایک شہری ہوانگ ان چیول پچھلے تقریباً 50 برسوں سے اپنے گمشدہ والد کی واپسی کا منتظر ہے۔ اس تلاش میں وہ خود بوڑھا ہوچلا ہے لیکن اسے امید ہے کہ ایک نہ ایک دن اس کے والد گھر ضرور لوٹیں گے۔

نصف صدی پہلے شمالی کوریا کے ایک ایجنٹ نے جنوبی کوریا کا ایک طیارہ ہائی جیک کیا تھا جس میں 50 مسافر سوار تھے جن میں ہوانگ ان چیول کے والد ہوانگ وان بھی شامل تھے۔

خبر ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق طیارے کے تمام مسافروں کو جنوبی کوریا لے جایا گیا اور بعد میں ان میں سے 11 مسافروں کے علاوہ باقی 39 مسافروں کو رہا کردیا گیا۔

ان 11 افراد میں ہوانگ وان بھی تھے جنہیں پیانگ یانگ نے کبھی واپس نہیں کیا۔ ہوانگ ان چیول نے اپنے والد کی تلاش کو اپنے زندہ رہنے کا مقصد بنالیا۔ وہ آج بھی اپنے والد کی آمد کے منتظر ہیں۔

ہوانگ صرف دو سال کے تھے جب انہوں نے اپنے والد کو آخری بار دیکھا تھا۔ وہ آج بھی اپنے والد کو ان کی تصویر کے ذریعے ہی جانتے اور پہچانتے ہیں۔ ان کی جوانی کا بیشتر حصہ اپنے والد کی تلاش میں ہی گزرا ہے۔

ہوانگ وان جنوبی کوریا کے نشریاتی ادارے 'ایم بی سی' میں بطور پروڈیوسر خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ کورین ایئر کے ذریعے گینگ ننگ سے سول جارہے تھے اور بزنس کلاس میں سوار تھے۔

ہوانگ ان چیول والد کی تصویریں تھامے ہوئے ہیں۔
ہوانگ ان چیول والد کی تصویریں تھامے ہوئے ہیں۔

ٹیک آف کے چند منٹ بعد شمالی کوریا کے ایجنٹ چو چانگ ہی کاک پٹ میں گھس گیا اور گن پوائنٹ پر ہوائی جہاز کو پیانگ یانگ لے جانے کا حکم دیا۔

اس واقعے میں زندہ بچ جانے والے افراد کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے تین لڑاکا طیارے ہائی جیک طیارے کو لینڈ کرانے میں کامیاب رہے۔ فوجی افسروں نے ان سے مذاکرات کیے اور انہیں وہاں سے بھگا دیا۔ ان کے مطابق جہاز سے اتارنے سے قبل 50 مسافروں اور عملے کے دونوں ہاتھ باندھ دیے گئے تھے۔

اس واقعے نے پوری دنیا میں ہلچل مچادی تھی۔ اقوامِ متحدہ نے بھی ایک قرار داد میں ہائی جیکنگ کے اس واقعے کی مذمت کی تھی۔

دو ماہ بعد طیارے میں سوار 39 افراد کو وطن واپس بھیج دیا گیا لیکن ہوانگ کے والد وان، ان میں شامل نہیں تھے۔

جنوبی کوریا کی حکومت اور 'ریڈ کراس' کی جانب سے طویل عرصے تک جنوبی کوریا کے ان لاپتا 11 باشندوں کی وطن واپسی کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔ لیکن پیانگ یانگ نے بار بار انہیں روکے جانے سے انکار کیا اور دعویٰ کیا کہ کچھ مسافروں نے شمالی کوریا میں ہی قیام کا فیصلہ کیا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کی توجہ اس واقعے سے ہٹتی چلی گئی لیکن ہوانگ وان کے کنبے پر پڑنے والے اثرات کبھی کم نہیں ہوئے۔

ہوانگ وان کے بیٹے ہوانگ ان چیول کا کہنا ہے کہ" میری تمام زندگی مصائب میں بسر ہوئی۔ میری والدہ کے ذہن پر اس واقعے کا اتنا گہرا اثر ہوا کہ وہ بات بات پر ڈرنے لگیں۔ انہیں ہرچیز سے خوف آنے لگا۔ والد سے دوری کا صدمہ ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا جارہا تھا۔ وہ بچوں کو بائیسکل پر سوار ہونے سے بھی روک دیتی تھیں۔ انہیں خوف آتا تھا کہ کہیں سائیکلیں آپس میں نہ ٹکراجائیں۔"

سن 2001 میں پیانگ یانگ نے کورین جنگ کے باعث تقسیم ہونے والے خاندانوں کی ایک دوسرے سے ملاقاتیں کرانے کا اہتمام کیا جو 30 سال سے زیادہ عرصے میں میں ملاقاتوں کا پہلا موقع تھا۔

ہوانگ چیول کا کہنا ہے کہ ان کے والد اب 82 سال کے ہوں گے۔ ان کے 2017 تک زندہ رہنے کی اطلاع تھی مگر اب جب کہ شمالی کوریا کی حکومت ان کے والد سے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتی ہے، ان کے لیے اپنے والد کی تلاش دیرینہ دکھ اور درد بن کر رہ گئی ہے۔

چیول کا روزانہ کا معمول یہ ہے کہ وہ صبح چار بجے اٹھ کر آفس جانے کے لیے گھر سے نکل پڑتے ہیں۔ وہ ایک تعمیراتی پراجیکٹ پر صبح سے شام تک اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاں پوری کرتے ہیں۔

وہ شام پانچ بجے کام سے گھر واپس آتے اور پریس ریلیز لکھنے یا میڈیا کو انٹرویو دینے بیٹھ جاتے ہیں۔

وہ اس بات کا اعتراف خود کرتے ہیں کہ 50 سال سے جاری تلاش کے باوجود شاید اب اس کا کوئی حل نہ نکلے۔ کون جانے ان کے والد زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر میں نے ہار مان لی تو میں ایک اور جرم کا شریک کار نہ ہوجاؤں کیوں کہ اگر میرے والد جبری نظربندی کا شکار ہیں تو میں انہیں آزاد نہ کرانے کا مجرم بن جائوں گا۔

یہی وجہ ہے کہ چیول کی امیدیں اب بھی زندہ ہیں اور وہ آج بھی اپنے والد کی آمد کے منتظر ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG