رسائی کے لنکس

logo-print

شام: فوجی ہوائی اڈے پر باغیوں کے حملے جاری


صوبہ ادلب کے علاقے تفتناز کے نزدیک واقع فوجی ہوائی اڈے پر قبضے کے لیے باغیوں نے بدھ کو ایک بڑا حملہ کیا تھا۔

شام میں حزبِ اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی علاقے میں واقع ایک ہوائی اڈے کے ارد گرد باغیوں اور سرکاری افواج کے مابین لڑائی جمعرات کو مسلسل دوسرے روز بھی جاری ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی حزبِ اختلاف کی حامی تنظیم'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے مطابق صوبہ ادلب کے علاقے تفتناز کے نزدیک واقع فوجی ہوائی اڈے پر قبضے کے لیے باغیوں نے بدھ کو ایک بڑا حملہ کیا تھا۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'سانا' کا کہنا ہے کہ سرکاری فوجی دستوں نے "دہشت گردوں " کی جانب سے بدھ کو فوجی مرکز پر حملے کی کوشش کا "منہ توڑ" جواب دیا ہے۔

یاد رہے کہ منگل کو اسی نوعیت کے ایک حملے کے بعد حکام کو ملک کے تاریخی شہر اور معاشی مرکز حلب کا ہوائی اڈہ بند کرنا پڑا تھا۔

لبنان کے دارالحکومت 'کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر' سے منسلک تجزیہ کار اور شامی صحافی سمیع مبعید کے بقول باغیوں کے ان حالیہ حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسد حکومت کی فضائی طاقت کا زور توڑنا چاہ رہے ہیں۔

'وائس آف امریکہ' سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ حملوں کا اصل مقصد ان ہوائی اڈوں پر قبضہ نہیں بلکہ انہیں ناکارہ بنانا ہے تاکہ فوج انہیں استعمال نہ کرسکے۔

ادھر شامی حزبِ اختلاف نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی افواج کے طیاروں اور توپ خانے نے جمعرات کو دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں پر ایک بار پھر بمباری کی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز اقوامِ متحدہ نے شام میں گزشتہ دو برس سے جاری خانہ جنگی اور سیاسی کشیدگی کے دوران میں ہونے والی ہلاکتوں کی اندازاً تعداد بڑھا کر 60 ہزار کردی تھی۔
XS
SM
MD
LG