رسائی کے لنکس

'چین آئے نہ' کا واشنگٹن میں پریمیئر


فلم چین آئے نہ کے واشنگٹن کے پریمیئر میں اداکارہ سحرش خان اپنی نانی صبیحہ خانم کے ہمراہ۔

فلم کی بہترین چیز اس کی موسیقی اور نوجوان اداکارہ سحرش خان کی اداکاری رہی لیکن گھسے پٹے مکالموں، دقیانوسی کہانی، اور فرسودہ ہدایت کاری کے ساتھ فلم کا کیمرہ ورک اور سکرین پلے آج کے دور سے مطابقت نہیں رکھتا۔

پاکستانی فلم ’’ چین آئے نہ‘‘ کا پریمیر واشنگٹن ڈی سی کے قریبی شہر سٹرلنگ میں ہوا۔ پاکستانی کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد اس فلم کو دیکھنے مقامی تھیٹر میں جمع ہوئی جس کا اہتمام فلم کی ہیروئن سحرش خا ن اور ان کی ٹیم نے کیاتھا ۔ سحرش کے ساتھ ان کی نانی اور ماضی کی مشہور اد اکارہ صبیحہ خانم نے ریڈ کارپٹ پر لوگوں کا استقبال کیا۔

صبیحہ خانم، جنہوں نے 1950 میں ’’ بیلی ‘‘ اور ’’ دو آنسو‘‘ جیسی فلموں سے پاکستانی فلم انڈسٹری میں کام کا آغاز کیا تھا، اس موقع پر وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم پاکستان کے 70 سال منا رہے ہیں۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری کے 70 سال منا رہے ہیں اور انہیں خوشی ہے کہ ان کی نواسی آج ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔

سحرش خان صبیحہ خانم کی نواسی ہیں جنہوں نے نیو یارک فلم سکول سے اداکاری کی اور امریکی ریاست ورجینیا سے قانون کی تعلیم حاصل کی ہے ۔ وہ خواتین کی بہبود کے لیے کام کرنے والی ایک غیر منافع بخش تنظیم کے ساتھ بھی منسلک ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ سال 2015 میں ’’ مس پاکستان یو ایس اے ‘‘کا مقابلہ بھی جیت چکی ہیں۔ یہ ان کی پہلی فلم ہے۔

سٹرلنگ، ورجینا کے سینما ہال میں فلم چین آئے نہ کی نمائش
سٹرلنگ، ورجینا کے سینما ہال میں فلم چین آئے نہ کی نمائش

انہوں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اسے اپنی خوش قسمتی تصور کیا کہ انہیں اپنی پہلی ہی فلم میں پاکستانی فلم انڈسٹری کے بہترین اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ۔

یہاں فلم دیکھنے کے لیے آنے والوں نے واشنگٹن میں ایک پاکستانی فلم کے پریمیر پر خوشی کا اظہار ر کیا اور سحرش خان کی اداکاری کو پسند کیا ۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ انہیں فلم نے مایوس کیا۔ شائقین کا کہنا تھا کہ انہیں ایک تجربہ کار فلم ڈائریکٹر سے کچھ بہتر فلم کی امید تھی۔

ہدایتکار سید نو ر کی اس فلم میں ندیم بیگ، مصطفی قریشی، عتیقہ اوڈھو اور بہروز سبزواری جیسے منجھے ہوئے اداکاروں کے ساتھ شہروز سبزواری عادل مراد اور سحرش خان جیسے نو خیز اداکار شامل تھے ۔

فلم سے زیادہ امیدیں تو وابستہ نہیں تھیں، لیکن سید نور جیسے ہدایتکار سے اس سے بہتر فلم کی توقع ضرور تھی۔

سید نور 90 کی دہائی میں چوڑیاں اور مجاجن جیسی ایسی پنجابی فلمیں بھی بنا چکے ہیں جنہوں نے نہ صرف باکس آفس پر اچھا بزنس کیا بلکہ ناقدین نے بھی ان فلموں کی تعریف کی۔

ایک اچھی اردو فلم کے لیے کیا لوازمات ہوتے ہیں، شاید سید نور ابھی تک نہیں سمجھ پائے ہیں۔ فلم کے گھسے پٹے مکالموں، دقیانوسی کہانی، اور فرسودہ ہدایت کاری کے ساتھ فلم کا کیمرہ ورک اور سکرین پلے بھی آج کے دور سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بہترین اداکاروں کی موجودگی میں بھی سید نور ان سے بہترین کام نہیں لے پائے۔

فلم دیکھنے اور لوگوں سے بات کرنے کے بعد یہ لگا کہ پاکستانی فلم انڈسٹری کو شاید ابھی کچھ اوروقت لگے گا اس معیار کو قائم کرنے میں جس سے وہ بین الاقوامی فلموں سے مقابلہ کر سکیں۔ البتہ حالیہ برسوں میں پاکستانی سینما نے کچھ ایسی فلمیں ضرور بنائی ہیں جنہوں نے فلم انڈسٹری کی اور شائقین کے اعتماد کی بحالی میں مدد کی ہے۔

اسی سینما گھر میں عید الضحی پر ’’ پنجاب نہیں جاوں گی‘‘ نامی پاکستانی فلم ریلیز ہو رہی ہے جس میں مہوش حیات خان، ہمایوں سعید اور عروہ حسین مرکزی کردار ادا کرتے نظر آئیں گے۔ امید ہے آنے والی فلمیں امریکہ میں پاکستانی فلموں کے شائقین کو سینما گھروں تک کھینچ لانے میں اپنا کردار کریں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG