رسائی کے لنکس

فلمی صنعت کی بحالی، پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کی کوشش


(فائل)

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران ملک کی گلیوں، مساجد، امام بارگاہوں اور عوامی اجتماعات پر دہشت گردوں نے لوگوں کو نشانہ بنایا، جس سے ملک میں ’’وحشت اور دہشت پروان چڑھتی رہی‘‘

پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک میں فلمی صنعت کی بحالی کے لیے ایک پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں نوجوانوں کو ’’متبادل تفریح کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں‘‘۔

وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے ملک میں فلمی صنعت کی بحالی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے متعلق جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے سبب نوجوان ’’ایک خوف زدہ سوچ کے اسیر رہے۔‘‘ لیکن، اُن کے ذہنوں سے خوف، دہشت اور مایوسی کی کالی گھٹاؤں کو دور کرنے کے لیے متبادل معیاری تفریح کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران ملک کی گلیوں، مساجد، امام بارگاہوں اور عوامی اجتماعات پر دہشت گردوں نے لوگوں کو نشانہ بنایا، جس سے ملک میں ’’وحشت اور دہشت پروان چڑھتی رہی۔‘‘

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی اِسی لہر کے سبب عالمی منظر نامے پر پاکستان کا مثبت تشخص بری طرح متاثر ہوا۔

بیان میں کہا گیا کہ فلمی صنعت کی بحالی کو یقینی بنانا موجودہ حکومت کے اولین فرائض میں شامل تھا اور اس صنعت سے وابستہ فنکاروں اور ہنر مندوں کے لیے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے اور خصوصی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزارت اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ کی طرف سے بھیجی گئی تجاویز کو مد نظر رکھتے ہوئے ’’فلم کے بے نام اور بے شکل وجود کو ایک باقاعدہ صنعت کا درجہ دینے کا اعلان‘‘ کیا گیا ہے۔

پاکستان میں فلموں کی نمائش سے متعلق ایسوسی ایشن کے چیئرمین، زوریر لاشاری نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں کہا کہ ملک میں فلم کو صنعت کا درجہ دینا ایک تاریخی اقدام ہے۔

بقول اُن کے، ’’بہت عرصے سے ہم اسے ایک فلمی صنعت منوانا چاہ رہے تھے، تاکہ یہ باقاعدہ صنعت بنے اور انڈسٹری کے جو فوائد ہیں وہ اس شعبے کو بھی مل سکیں۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ اس فیصلے سے پاکستان میں نا صرف فلمی صنعت آگے بڑھے گی، بلکہ ملک کا مثبت تشخص بھی عالمی سطحی پر اجاگر ہوگا۔

حکومت کے فیصلے کے تحت فلمی صنعت سے وابستہ مالیاتی قوانین میں نرمی اور ٹیکس سے استثنیٰ کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔

فلمی صنعت کی بحالی کے اس پیکیج کے تحت بین الاقوامی معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے ’نیشنل فلم اینڈ براڈ کاسٹنگ کمیشن‘ ، ’نیشنل فلم انسٹیٹیوٹ اور اکیڈمی‘ کا قیام عمل میں لایا جائے گا، جب کہ فنکاروں کے مالی معاملات میں بہتری اور فلاح و بہبود کے لیے ’پرائم منسٹر آرٹسٹ ویلفیئر فنڈ‘ کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ فلمی صنعت کی بحالی کے فیصلے کے تحت، غیر ملکی فلم سازوں کو پاکستان کے سیاحتی، ثقافتی، تاریخی اور پر فضا مقامات پر فلم بنانے پر خصوصی رعایت دی جائے گی، تاکہ اس میڈیم کے ذریعے قومی اور بین الاقوامی سیاحت کو فروغ حاصل ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG