رسائی کے لنکس

logo-print

فلم’ پیہو‘ ریلیز سے قبل ہی کئی عالمی ایوارڈ جیتنے میں کامیاب


فلم کا ایک منظر

بھارت کے سینئر صحافی اسکرین رائٹر اور فلم ڈائریکٹر ونود نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہــ’ پیہو‘ ایک ایسی فلم کی کہانی ہے جس میں معاشرے کے اہم مسئلے کو اجاگر کیا گیا ہے

بالی ووڈ کی متعدد فلمیں ماضی میں ریلیز سے قبل ہی کئی بین الاقوامی سطح کے ایوارڈز جیتنے میں کامیاب رہی ہیں۔ ایسی فلموں میں بالی ووڈ ڈائریکٹر ونود کپری کی نئی فلم ’پیہو‘ کا بھی اضافہ ہوگیا ہے ۔

فلم’پیہو‘باضابطہ طور پر بھارت میں 16نومبر کور یلیز ہوگی لیکن یہ فلم باقاعدہ ریلیز سے پہلے بھارت سمیت کئی بین الاقوامی فیسٹیولز کی رونقیں بڑھا چکی ہے ۔

اس کا پہلا پریمیئر’ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا2017‘ کے موقع پر ہوا تھا جبکہ اسے فجر انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی نمائش کے لئے پیش کیا گیا۔

پھر چودھواں ٹرانس سہارن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول ہوا تو اسے پیپلز چوائس ایوارڈ کے تحت بہترین فلم قرار دیا گیا۔یہی فلم ’ بہترین فیچر فلم‘ کا ایوارڈ جیتنے میں بھی کامیاب رہی ۔

فلم کا آفیشیل ٹریلر گزشتہ مہینے 24 اکتوبر کو ریلیز ہوا جبکہ سنیما تھیٹرز میں فلم کی باقاعدہ نمائش 16نومبر کو ہونے جارہی ہے۔

فلم کی ریلیز سے تقریباً دو ہفتے قبل وائس آف امریکہ کی نمائندہ سے خصوصی بات چیت میں فلم کے ڈائریکٹر ونود کپری نے بتایاــ’’فلم ’پیہو‘ موضوع کے اعتبار سے اپنی نوعیت کی مختلف فلم ہے جس میں ایک 2 سالہ بچی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

بھارت کے سینئر صحافی اسکرین رائٹر اور فلم ڈائریکٹر ونود نے وائس آف امریکہ سے تبادلہ خیال میں کہا کہــ’ پیہو‘ ایک ایسی فلم کی کہانی ہے جس میں معاشرے کے اہم مسئلے کو اجاگر کیا گیا ہے۔

فلم میں اہم کردار ایک بچی ’پیہو ‘نے ادا کیا ہے۔ ونود نے وی او اے سے بات چیت میں کہا’ بڑوں کی کہانی کو میںنے ایک چھوٹی بچی کے ذریعے کہنے کی کوشش کی ہے ، بڑے بھی وہ جو رشتوں میں اپنی انا کی وجہ سے دراڑ پیدا کرلیتے ہیں۔‘

ونود کپری کا کہنا ہے کہ فلم ایک سچی کہانی پر مبنی ہے۔‘ فلم کے ٹریلر میں دکھایا گیا ہے کہ ایک معصوم بچی اپارٹمنٹ میں اکیلی ہے ۔وہ اپنی ماں کو جگانے کی کوشش کرتی ہے جو شاید مر چکی ہے۔ وہ بچی کبھی اپنے آپ کو ریفریجریٹر میں بند کرلیتی ہے تو کبھی آگ لگا لیتی ہے۔

دل دہلانے والے خوفزدہ مناظر نے سوشل میڈیا پر لوگو ں کی توجہ حاصل کی جس کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں کی طرف سے ملا جلا رجحان سامنے آرہاہے۔

ونودکپری کا مزید کہنا تھا کہ اس سے پہلے میں نے تقریباً50سے60 مختلف موضوعات پر دستاویزی فلمیں بنائی ہیں جن میں سب سے مختلف ’آ گوری سادھو نامیلوگوٕ ں پر ڈاکومنٹری تھی جب مردے کو جلایا جاتا ہے۔ یہ لوگ انسانی جسم کے بچ جانے والے حصوں کو’ پرشاد‘ یا ’تبرک‘ سمجھ کر کھاتے ہیں۔ ان کاعقیدہ ہے کہ اس کے کھانے سے ان کی بخشش ہوجائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ بھارت میں ٹائلٹ کے مسئلے پر، پاک بھارت تعلقات اور کئی دوسرے موضوعات پر بھی ڈاکومنٹری بنائیںاور مستقبل میں بھی کئی دوسرے پروجیکٹ پر کام کر رہا ہوں۔

فلم ’پیہو ‘ دنیا بھر کےکئی اور مشہور فلم فیسٹیولز میں دکھائی جا چکی ہے۔ ان میں کینیڈا کا وینٹوور فلم فیسٹول ،پام اسپرنگ فلم فیسٹول امریکہ، ایران و عمان کے فلم فیسٹولز میں بھی اسے نمائش کے لئے پیش کیا جاچکا ہے ۔

XS
SM
MD
LG