رسائی کے لنکس

logo-print

لاک ڈاؤن کے باعث معاشی مشکلات، پاکستان میں لوگ اثاثے بیچنے پر مجبور :سروے


فائل فوٹو

رائے عامہ کا جائزہ لینے والے بین الاقوامی ادارے 'گیلپ انٹرنیشنل' سے منسلک 'گیلپ پاکستان' کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن سے پیدا ہونے والے معاشی بحران پر پاکستان میں سروے کیا ہے جس کے مطابق ایک بڑی تعداد میں پاکستان کے عام شہریوں کے لیے نہ صرف غذائی اور مالی عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے بلکہ انہیں روز مرہ کی بنیادی ضروریات کے لیے بعض اثاثے فروخت کرنے پڑے ہیں۔

'گیلپ پاکستان' نے فون پر کیے جانے والے سروے کے نتائج جمعرات کو جاری کیے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریبا 69 لاکھ گھرانوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بنیادی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کے لیے روز مرہ کی خوراک میں کمی کی ہے۔

سروے کے مطابق لگ بھگ 23 فی صد پاکستانی ایسے ہیں جن کا روز مرہ کی بنیادی ضروریات کے لیے انحصار کم ترجیح کی حامل اور سستی اشیا خور و نوش پر ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ 40 افراد ایسے ہیں جنہوں اپنی خوراک کے حصول کے لیے قرض یا اپنے کسی دوست کا عزیز کی مدد پر انحصار کرنا پڑا۔

گیلپ کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی بحران سے مالی عدم تحفظ کا احساس بڑھنے لگا ہے۔

سروے میں سامنے آیا کہ ہر پانچ میں سے ایک پاکستانی شہری کا کہنا ہے کہ انہوں نے روزمرہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بچت کی ہے جب کہ تقریباََ ایک کروڑ بالغ افراد ایسے ہیں جنہوں نے اپنے خاندانوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی آمدن کے دیگر ذرائع کی تلاش شروع کر دی ہے۔

یاد رہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں لاک ڈاؤن سے ایک بڑی تعداد میں شہریوں کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس صورت حال میں حکومت نے احساس پروگرام کے تحت ضرورت مند افراد کی مدد شروع کی ہے جب کہ کئی فلاحی تنظیمیں بھی اس حوالے سے سرگرم ہیں۔

گیلپ سروے کے مطابق 30 لاکھ گھرانوں نے گزشتہ ہفتے روزمرہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت یا غیر سرکاری تنظیموں پر انحصار کیا ہے۔

دوسری طرف سروے میں سامنے آیا کہ ملک بھر میں لگ بھگ 18 لاکھ گھرانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ سات دن میں انہوں نے خاندان کی بنیادی ضررورت پوری کرنے کے لیے کچھ اثاثے فروخت کیے ہیں۔

پاکستان میں کاروباری افراد کی نمائندہ غیر سرکاری تنظیم پاکستان بزنس کونسل کے سربراہ احسان ملک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے علاوہ بیرون ملک، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے ذرائع آمدن ختم ہو گئے ہیں۔ ان کی ملازمیتں اور روزگار عارضی طور ختم ہو چکے ہیں۔

ان کے بقول اسی وجہ سے پاکستان کی بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ ہے۔ ان افراد کے پاکستان میں مقیم خاندانوں کو بھی مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔

احسان ملک نے کہا کہ اس وقت ملک کے اندر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ بیرون ملک سے واپس آنے والوں سمیت دیگر لوگوں کو بھی عارضی طور پر مدد کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا جاری احساس پروگرام ایک کم مدت کے لیے اچھا پروگرام ہے لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے متاثر ہونے والے افراد کی مستقل بنیادوں پر مدد کے لیے حکومت کو اصلاحات کرنی ہوں گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت اس بات کا تعین کرنا مشکل ہے کہ حتمی طور پر پاکستان میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے کتنے لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں کیونکہ پاکستان میں غیر سرکاری اور غیر روایتی شعبوں میں کام کرنے والے افراد کے بارے میں مصدقہ اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔

احسان ملک نے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے سے پہلے پاکستان میں بے روزگار افراد کی تعداد تقریبا 50 لاکھ تھی لیکن وائرس کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں رکنے سے اب بے روزگار افراد کی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب سرکاری عہدیدار کہتے ہیں کہ وہ کرونا وائرس کی وجہ سے ملک کے عام شہریوں کو درپیش مشکلات سے آگاہ ہیں۔ حکومت نے ضرورت مند افراد کی مالی امداد کے لیے احساس پروگرام بھی شروع کیا ہے۔

حکام کے مطابق حکومت کی اولین ترجیح ملک میں کرونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنا اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG