رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی، متحدہ کے کئی رہنماؤں کے خلاف ایک اور مقدمہ


مقدمے کے متین میں کہا گیا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے 12 مئی کو مزار قائد پر پارٹی کارکنوں کے اجتماع سے عدالتی پابندی کے باوجود ناصرف خطاب کیا بلکہ اس خطاب کے ذریعے ملک، ریاستی اداروں اور افسران کو دھمکیاں بھی دیں۔

کراچی ۔۔۔متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین سمیت کئی اہم رہنماؤں کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمہ بریگیڈ تھانے میں اس کے ایس ایچ او غلام نبی آفریدی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

مقدمے میں متحدہ کے سربراہ الطاف حسین، سینئر رہنما فاروق ستار،نامزد میئر کراچی وسیم اختر، سابق وزیرداخلہ سندھ روف صدیقی، رکن اسمبلی خالد مقبول ، کنور نویدجمیل اور قمر منصورکو نامزد کیا گیا ہے ۔

مقدمے کے متین میں کہا گیا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے 12 مئی کو مزار قائد پر پارٹی کارکنوں کے اجتماع سے عدالتی پابندی کے باوجود ناصرف خطاب کیا بلکہ اس خطاب کے ذریعے ملک، ریاستی اداروں اور افسران کو دھمکیاں بھی دیں۔ خطاب کے دوران ملک دشمنوں کوخوش کرنے اور پاکستان کےخلاف مجرمانہ سازش کے الفاظ بھی استعمال کیے گئے۔

متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ الطاف حسین کے خطاب سے آپریشن ضرب عضب اورکراچی آپریشن کوسبوتاژ کرنے ، پاکستان دشمنوں کو فائدہ پہنچانے، دہشت گردی اور افراتفری پھیلانے کی کوشش کی گئی۔

مقدمے کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ قائد ایم کیو ایم نے الزامات لگاکر کارکنوں کو ریاست کے خلاف اکسانے کی کوشش کی۔

متحدہ قومی موومنٹ نےجمعرات 12مئی کو مزار قائد کے باہر ’حاضری و فریاد‘ کے عنوان سے اپنے کارکنوں کا ایک اجتماع منعقد کیا تھا جس سے الطاف حسین نے ٹیلیفونک خطاب کیا تھا اوراس میں انہوں نے سیکورٹی اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

تاہم متحدہ کی رابطہ کمیٹی نے پولیس کی جانب سےمقدمہ قائم کرنے کے اقدام کی شدیدمذمت کی ہے ۔

رابطہ کمیٹی نے اس حوالے سے جاری ایک بیان میں کہا کہ 12 مئی کا اجتماع شہید اور لاپتا کارکنوں کے مسئلے کو اجاگر کرنے اور ان سے اظہار یکجہتی کیلئے منعقد کیا گیا تھا جبکہ اجتماع سے خطاب میں پارٹی قیادت سمیت دیگر رہنماؤں نے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل ، ان کی حراست اور گمشدگی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتےہ وئے مظالم بند کرانے کے مطالبات کئے گئے تھے۔

رینجرز قیام امن کے لئے ایک اور کردار
رینجرز کراچی میں قیام امن کی غرض سے ایک جانب جہاں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے وہیں اس نے تین مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطہ مہم بھی جاری رکھی ہوئی ہے ۔

اسی غرض سے کراچی سے تعلق رکھنے والی تین جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ ، مہاجر قومی موومنٹ اور پاک سر زمین پارٹی کے وفود نے رینجرز ہیڈ کواٹرز میں ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر سے ملاقات کی ۔

مہاجر قومی موومنٹ کی جانب سے اس کے سربراہ آفاق احمد ، متحدہ کی جانب سے عامر خان، نسرین جلیل، کنور نوید اور خواجہ اظہار حسن نے جبکہ پاک سر زمین پارٹی کی جانب سے مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی ملاقات میں موجود تھے۔ ملاقات ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ وقت تک جاری رہی۔

ترجمان رینجرز کے مطابق ملاقات میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ کراچی کا امن شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں اور قربانیوں کانتیجہ ہے جسے برقرار رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس لئے رواداری اور برداشت کی فضا کو فروغ دیا جائے۔

بھٹکے ہوئے لوگوں کو واپسی کا ایک موقع
پاک سرزمین پارٹی کے رہنمائوں مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی نے ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ’ بھٹکے ہوئے لوگوں کو واپسی کا ایک موقع ملنا چاہئے جن لوگوں کو ورغلایا گیا انہیں بحالی کے عمل سے گزارا جائے ۔‘

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ڈی جی رینجرز سے ملاقات کے دوران ہمیں بتایا گیا کہ بحالی سینٹر پر کام ہورہا ہے جو جلد کام کرے گا،لوگوں کو پکڑنے کے ساتھ ساتھ انہیں ’ری ہیب‘ بھی کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG