رسائی کے لنکس

logo-print

نواز شریف کے خلاف غداری کا مقدمہ، حکومت اور اپوزیشن کے ایک دوسرے پر الزامات


سابق وزیر اعظم نواز شریف لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطابات کر رہے ہیں۔

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف اور دیگر پارٹی رہنماؤں کے خلاف پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف سازش کرنے کے الزامات کے تحت لاہور میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں نواز شریف کے خلاف درج ایف آئی آر میں 120 اے اور بی، 121 اے اور بی، 123 اے اور بی اور 124 اے اور بی سمیت دیگر دفعات لگائی گئی ہیں۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف نے 30 ستمبر اور یکم اکتوبر کو ملکی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کیں۔

بدر رشید نامی شہری کی مدعیت میں درج ہونے والی ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کی تقریر مریم نواز اور راناثنا اللہ سمیت تمام دیگر پارٹی رہنماؤں نے سنی اور اس کی تائید کی۔ نواز شریف بھارتی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ ان کی تقاریر کا مقصد پاکستان کو ناکام ریاست قرار دلانا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق نواز شریف کی تقریر سے پاکستان کا عالمی تشخص متاثر ہوا۔ سابق وزیرِ اعظم کی تقاریر کا مقصد بھارتی افواج کے کشمیر پر قبضے اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے توجہ ہٹانا ہے۔

مقدمے میں نواز شریف کی تقاریر کی تائید کرنے والوں میں مریم نواز، راجہ ظفر الحق، سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، خرم دستگیر، اقبال ظفر جھگڑا، احسن اقبال، پرویز رشید، رانا ثنااللہ، مفتاح اسماعیل، محمد زبیر، مریم اورنگزیب، عطااللہ تارڑ، برجیس طاہر، عظمیٰ بخاری، شائستہ پرویز، سائرہ افضل تارڑ اور دانیال عزیز بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف بھی ریاست سے بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں رکنِ پنجاب اسمبلی عمران خالد بٹ کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔

حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات کے اندراج کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی چپقلش مزید بڑھ گئی ہے۔

حکومتی وزرا نے کہا ہے کہ نواز شریف نے ہمیشہ مخالفین پر غداری کے الزامات لگا کر اپنی سیاست چمکائی جب کہ لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر جمہوریت اور آئین کی بالادستی کا نام لینا بغاوت ہے، تو ہر روز بغاوت ہو گی۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی تقاریر میں اسٹیبلشمنٹ اور حکومت پر کڑی تنقید کی تھی۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی تقاریر میں اسٹیبلشمنٹ اور حکومت پر کڑی تنقید کی تھی۔

وفاقی وزیرِ ہوا بازی غلام سرور خان نے سابق وزیرِ اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف نے لندن میں بیٹھ کر نہ صرف پاکستانی اداروں پر تنقید کی بلکہ کھلم کھلا دو قومی نظریے کی نفی کی۔

اُن کے بقول نواز شریف کا بیانیہ غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ نواز شریف کا ایجنڈا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے۔ اُن کے بیانیے پر بھارت میں خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔

پیر کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ نواز شریف سزا یافتہ ہیں۔ وہ دھوکا دے کر ملک سے فرار ہوئے۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے بے نظیر بھٹو کو غدار قرار دیا تھا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کی فوج ڈسپلن اور میرٹ پر عمل کرنے والا ایک منظم ادارہ ہے۔ اگر فوج مضبوط نہ ہوتی تو ملک میں افراتفری پھیل جاتی۔

وزیرِ داخلہ اعجاز احمد شاہ نے ایک بیان میں کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی تحریک کا مقصد ملک میں انتشار پھیلانا ہے۔ نواز شریف بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستانی اداروں کو بدنام کر رہے ہیں۔

اُن کے بقول ریاست اس قدر کمزور نہیں ہے کہ قومی اداروں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کے آگے گھٹنے ٹیک دے۔

اپوزیشن جماعتوں کا ردعمل

مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف کے خلاف بغاوت کے مقدمے کے اندراج پر کہا ہے کہ اگر جمہوریت اور آئین کی بالادستی کا نام لینا بغاوت ہے تو یہ بغاوت ہر روز ہو گی۔

پیر کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اگر کشمیر کے سودے کی بات کرنا بغاوت ہے تو ہر روز ہوگی، جب الزام لگانے کے لیے کچھ نہ رہ جائے تو بغاوت کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی کے مطابق لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں آج ایک شہری بدر رشید نے ملک کے سابق وزرائے اعظم، سابق وفاقی وزرا اور سابق گورنر کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرایا۔ اس پرچے کے مطابق جو پاکستان چلایا کرتے تھے، وہ سب بغاوت کے مرتکب ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی وزرا میں جان ہے تو پھر بدر رشید کا نام نہ لیں، خود مقدمہ درج کرائیں۔

لیگی رہنما احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ پاکستان بنانے اور اجاڑنے والا کون ہے۔ پاکستان کو ترقی کے راستے پر ڈالنے والے آج غدار ہیں۔ غداری اور حب الوطنی کا کھیل اب نہیں چلے گا۔

پاکستان پیپلزپارٹی، جمعیت علماء اسلام سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی نواز شریف اور دیگر لیگی رہنماؤں کے خلاف مقدمے کے اندراج کی مذمت کی ہے۔

تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟

تجزیہ کار اور سینئر اینکر سلیم صافی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صورتِ حال روز بروز خرابی کی طرف جارہی ہے جو ملک اور حکومت کے لیے اچھی بات نہیں۔

اُن کے بقول حکومت کا کردار ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اداروں کی ڈھال بنتی ہے۔ لیکن عمران خان کی حکومت اداروں کے پیچھے چھپ رہی ہے۔ ان کے بقول اپوزیشن کو ریاستی اداروں سے لڑایا جا رہا ہے۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ اپوزیشن نے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے لیے ووٹ دیا تو ایک وزیر فوجی بوٹ لے کر پروگرام میں پہنچ گیا اور پوری اپوزیشن کو مشتعل کر دیا۔ اس انداز میں حکومت چلانا حکومت اور ریاستی اداروں دونوں کے لیے مشکل ہوتا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے بقول پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمات کا اندراج کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں بھی ماضی میں ایک دوسرے کی قیادت پر غداری کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG