رسائی کے لنکس

logo-print

اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس: 'ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں، انہیں لانے والوں سے ہے'


نواز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے اے پی سی سے خطاب کر رہے ہیں۔

پاکستان کی حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں اپوزیشن نے مشترکہ طور پر سات نکاتی 'ایکشن پلان' پیش کیا ہے۔

حزِبِ اختلاف کے ایکشن پلان کے تحت پہلے مرحلے میں آئندہ ماہ تمام صوبوں میں جلسے اور ریلیاں نکالی جائیں گی جس کے بعد دسمبر میں عوامی مظاہرے ہوں گے۔

اپوزیشن کے 'ایکشن پلان' کے مطابق جنوری 2021 میں حکومت کے خلاف لانگ مارچ کیا جائے گا۔

حکومت کی تبدیلی کے لیے عدم اعتماد کی تحریک اور اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں کا آپشن بھی حزبِ اختلاف کے 'ایکشن پلان' میں شامل ہے۔

سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے حکمراں جماعت تحریک انصاف اور ریاستی اداروں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی جدوجہد وزیر اعظم عمران خان نہیں بلکہ اُنہیں لانے والوں کے خلاف ہے۔

ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے اتوار کو لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی حکومت مخالف آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے دوران کیا۔

اے پی سی میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف، مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمٰن، محمود خان اچکزئی، امیر حیدر ہوتی، آفتاب شیرپاؤ، محسن داوڑ اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔

نواز شریف نے کہا کہ میں وطن سے دور ہوتے ہوئے بھی اچھی طرح جانتا ہوں کہ ملک کس دور سے گزر رہا ہے اور عوام کن مشکلات کا شکار ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کی بنیادی وجہ جمہوری نظام کا عدم تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو 73 سال سے حقیقی جمہوریت سے محروم رکھا گیا۔

نواز شریف نے 'ڈان لیکس' کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب اکتوبر 2016 میں ایک اجلاس کے دوران اس جانب توجہ دلائی گئی کہ دنیا کو ہم سے کچھ شکایات ہیں اور ہمیں اپنے معاملات بہتر کرنے کی ضرورت ہے تو اسے 'ڈان لیکس' کا نام دیا گیا۔

نواز شریف نے کہا کہ مجھے اس معاملے میں غدار قرار دیا گیا۔ ایک ماتحت افسر نے ٹوئٹ میں وزیرِ اعظم کے احکامات کو مسترد کرنے جیسے الفاظ استعمال کیے۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا کہ باضمیر ججز کے ساتھ پاکستان میں جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ یہاں ایسے منصف تلاش کیے جاتے ہیں جو ان کے جائز اور ناجائز احکامات تسلیم کریں اور نظریہ ضرورت بنائیں اور پروان چڑھائیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں بلکہ ہماری جدوجہد عمران خان کو لانے والوں کے خلاف ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ اگر ہم سب اس نظام کے خلاف متحد نہ ہوئے تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ایک دفعہ سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ ملک میں ریاست کے اندر ریاست ہے۔ تاہم اب یہ معاملہ ریاست سے بالاتر ریاست تک پہنچ گیا ہے۔

نواز شریف نے اپنے دورِ حکومت میں بلوچستان حکومت کی تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ سازش سینیٹ انتخابات میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے کی گئی۔

نواز شریف نے اپنے خطاب کے دوران سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ پر بھی تنقید کی۔ اُنہوں نے کہا کہ اربوں روپے کے اثاثے سامنے آنے کے باوجود کسی ادارے نے اُن سے سوال نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتساب کا راگ الاپنے والے وزیرِ اعظم نے بھی بغیر تحقیق کے عاصم سلیم باجوہ کو کلین چٹ دے دی۔

'مسلم لیگ (ن) اپوزیشن کی حکمتِ عملی کے ساتھ ہے'

سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ اب ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی وزیرِ اعظم ہاؤس کے گیٹ پھلانگ کر بندوق کی نالی تان کر اسے گرفتار کرے۔ یہ منظر میں نے خود دیکھا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس اتفاق رائے سے جو بھی حکمت عملی مرتب کرے گی مسلم لیگ (ن) اس کا بھرپور ساتھ دے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ اے پی سی روایت سے ہٹ کر ٹھوس اور جامع لائحہ عمل طے کرے۔

نواز شریف نے کہا کہ 1973 کے آئین میں آرٹیکل چھ ڈالا گیا تاکہ ملک کو جرنیلوں کی مہم جوئی سے بچایا جائے۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک آمر کو اس آرٹیکل کے تحت انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا، خصوصی عدالت قائم کی گئی۔ لیکن وہ ایک گھنٹے کے لیے بھی جیل نہیں گیا بلکہ اس عدالت کو ہی غیر آئینی قرار دے دیا گیا۔

سابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ عوام کی امانت میں خیانت کی جاتی ہے اور انتخابی عمل سے پہلے یہ طے کر لیا جاتا کہ کس کو جتوانا ہے اور کس کو ہرانا ہے۔ انتخابات میں دھاندلی سے مطلوبہ نتائج حاصل کر لیے جاتے ہیں۔ اور رہی سہی کسر حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ میں لگا دی جاتی ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان کو اس طرح کے تجربات کی لیبارٹری بنا دیا گیا ہے۔ اگر کوئی نمائندہ حکومت بن بھی جائے تو پہلے اسے بے اثر اور پھر فارغ کر دیا جاتا ہے۔ اس میں یہ بھی پرواہ نہیں کی جاتی کہ اس سے دنیا میں جگ ہنسائی ہو گی اور عوام کا اعتماد اُٹھ جائے گا۔

نواز شریف نے کہا کہ آج ملک میں میڈیا آزاد نہیں ہے۔ صحافیوں کو دن دیہاڑے اغوا کر لیا جاتا ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ نیب قوانین کا خاتمہ نہ کرنا ان کی حکومت کی غلطی تھی تاہم ان کہنا تھا کہ انہیں اس بات کا بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ ادارہ انتقام کا آلہ کار بن جائے گا۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ نیب اپنا جواز کھو چکا ہے جو صرف اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف سیاسی انتقام کے آلہ کار کے طور کام کررہا ہے۔

یاد رہے کہ نواز شریف بدعنوانی کے مقدمے میں سزا کے بعد عدالتی ضمانت پر علاج کی غرض سے لندن میں موجود ہیں اور حکومت نے ان کی وطن واپسی کے لیے برطانوی حکومت سے رابطہ کر رکھا ہے۔

سابق صدر آصف زرداری کا خطاب

آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ اے پی سی کے خلاف حکومت جو ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے یہی اس کانفرنس کی کامیابی ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ نواز شریف اور میری بات میڈیا پر نشر نہیں ہو سکتی، لیکن ایک سابق آمر کو ٹی وی پر بات کرنے کی اجازت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کیسا نظام ہے کہ جمہوریت پر یقین رکھنے والے ناپاک جب کہ جمہوریت پر شب خون مارنے والے پاک ہیں۔

اُن کا کہنا تھا ہم نے 18 ویں ترمیم کی صورت میں ایک دیوار بنائی ہے۔ تاکہ میلی آنکھ رکھنے والا اندر یا باہر سے پاکستان کو کمزور نہ کر سکے۔

وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم کی سوچ بہت چھوٹی ہے۔ وہ خود کو ذوالفقار علی بھٹو، مولانا مودودی، مفتی محمود سے زیادہ ہو شیار سمجھتے ہیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اس خطاب کے بعد میں بھی جیل میں جاؤں گا۔ اُمید ہے مولانا فضل الرحمٰن مجھے جیل میں ملنے آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ اس حکومت کا جمہوری اداروں کو بحال کرنے کا ارادہ ہے۔ ایسا لائحہ عمل طے کرنا ہو گا کہ جمہوریت کو مضبوط کر سکیں۔

سابق صدر نے کہا کہ ہم بلوچستان کاز کے لیے آواز بلند کرتے ہیں اور دوسرے محروم طبقات کا بھی ساتھ دیں گے۔

آصف زرداری نے کہا کہ ہم اس حکومت کو گھر بھیج کر ملک میں حقیقی جمہوریت بحال کر کے رہیں گے۔

حکومت کا ردِعمل

اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس پر ردِ عمل دیتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا کہ چور اکٹھے ہو جائیں تو سمجھیں ایمان دار تھانے دار آ گیا ہے۔

لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے شہباز گل نے کہا کہ آج پھر لوٹ مار ایسوسی ایشن اکھٹی ہوئی ہے۔ یہ سارے رہنما ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے ہیں، لیکن اپنی کرپشن بچانے کے لیے آج ایک ہو گئے ہیں۔

شہباز گل کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں جتنی بھی آل پارٹیز کانفرنس کر لیں، اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ عمران خان جب اقتدار میں آئے تو سابق حکمرانوں کی کرپشن کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ لیکن عمران خان نے بہترین حکمت عملی کے ذریعے ملکی معیشت کو بحال کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG