رسائی کے لنکس

logo-print

کیا بھارت میں دیوالی اس بار پٹاخوں کے بغیر ہو گی؟


(فائل فوٹو)

بھارت میں ہندو مذہب کے تہوار اور شادیوں کی اکثر تقریبات پٹاخوں اور آتش بازی کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہیں۔ بالخصوص دیوالی کا تہوار تو پٹاخوں کے بغیر منانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن ملک میں ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے حکومتی اقدامات پٹاخوں کی صنعت کے لیے مشکلات کا سبب بن رہے ہیں۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال دیوالی کے تہوار سے عین قبل یہ شرط عائد کی تھی کہ اب صرف ماحول دوست ’گرین کریکرز‘ کا استعمال کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ بھارت میں بڑھتی آلودگی کو روکنے کے لیے کیا گیا تھا۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال دیوالی کے تہوار سے عین قبل یہ شرط عائد کی تھی کہ اب صرف ماحول دوست ’گرین کریکرز‘ کا استعمال کیا جائے گا۔ (فائل فوٹو)
بھارت کی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال دیوالی کے تہوار سے عین قبل یہ شرط عائد کی تھی کہ اب صرف ماحول دوست ’گرین کریکرز‘ کا استعمال کیا جائے گا۔ (فائل فوٹو)

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق روایتی پٹاخوں پر حکومتی پابندیوں کے بعد سے پٹاخوں کی صنعت سے وابستہ افراد مشکلات کا شکار ہیں۔ کئی لوگ یہ پیشہ ہی ترک کر رہے ہیں تو کچھ مشکلات کے باوجود اس کام کو جاری رکھنے پر مصر ہیں۔

سیواکاسی بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو کا ایک علاقہ ہے۔ یہاں آتش بازی کا سامان اور پٹاخے بنانے کے سیکڑوں کارخانے موجود ہیں جب کہ ہزاروں افراد اس صنعت سے وابستہ ہیں۔

یہ صنعت سیواکاسی کے مقامی لوگوں کو بالواسطہ یا بلاواسطہ روزگار کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ متعدد مقامی خواتین بھی پٹاخوں کے کارخانوں میں کام کرتی ہیں۔

بھارت میں استعمال ہونے والے کل پٹاخوں میں سے 90 سے 95 فی صد سیواکاسی میں بنائے جاتے ہیں.
بھارت میں استعمال ہونے والے کل پٹاخوں میں سے 90 سے 95 فی صد سیواکاسی میں بنائے جاتے ہیں.

بھارت میں استعمال ہونے والے کل پٹاخوں میں سے 90 سے 95 فی صد سیواکاسی میں بنائے جاتے ہیں جب کہ ان پٹاخوں کی فروخت سے سالانہ سرمایہ 80 کروڑ ڈالرز کے لگ بھگ تھا لیکن اب لگتا ہے کہ اس دیوالی پر یہاں خاموشی ہوگی۔ پٹاخوں کی صنعت سے وابستہ افراد کو نہیں معلوم کہ وہ اب کیا کریں گے۔

سیواکاسی میں پٹاخے بنانے والے تقریباً ایک ہزار کارخانے موجود ہیں۔ انہی میں سے ایک کارخانے لیما فائر ورکس کے ڈائریکٹر ڈی متھن نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا ہے کہ عام طور پر لوگ دیوالی کے فوراً بعد ہمارے پاس آتے تھے اور آئندہ دیوالی کے لیے پٹاخوں کا آرڈر پیشگی ادائیگی کے ساتھ دے جاتے تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہو رہا۔ ان کی کمپنی کی پیداوار 60 فی صد کم ہو گئی ہے۔

بھارت میں کسی بھی بات کا جشن منانے کے لیے پٹاخوں کا استعمال عام ہے۔ (فائل فوٹو)
بھارت میں کسی بھی بات کا جشن منانے کے لیے پٹاخوں کا استعمال عام ہے۔ (فائل فوٹو)

ایک اور فیکٹری کے ملازم اروند کمار نے بتایا کہ حکومتی پابندیوں کے بعد کچھ لوگ تو یہ کام چھوڑ کر اب مزدوری کرنے لگے ہیں۔

کروپا سامے نامی شخص پٹاخوں کی ایک دکان کے مالک ہیں۔ انہوں نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا ہے کہ پٹاخوں کی فروخت میں 50 فی صد کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکام آلودگی کی بات کرتے ہیں لیکن ہم دوسروں کی نسبت تو کم آلودگی پھیلا رہے ہیں۔ صرف ایک دن پٹاخے جلا کر آلودگی پھیلانے سے کوئی زیادہ فرق تو نہیں پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہم پر پابندیاں سخت نہ کرے۔ سیواکاسی پٹاخوں کی صنعت کے بغیر ادھورا ہے۔ یہاں تقریباً ہر شخص اسی کاروبار سے وابستہ ہے۔

کروپا سامے نامی شخص پٹاخوں کی ایک دکان کے مالک ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ پٹاخوں کی فروخت میں 50 فی صد کمی آئی ہے۔ (فائل فوٹو)
کروپا سامے نامی شخص پٹاخوں کی ایک دکان کے مالک ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ پٹاخوں کی فروخت میں 50 فی صد کمی آئی ہے۔ (فائل فوٹو)

خیال رہے کہ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ پٹاخوں اور آتش بازی کے سامان سے اٹھنے والا دھواں فضا میں موجود دیگر گیسوں سے مل کر بھارت کے شہروں کی فضا کو آلودہ کر رہا ہے۔

بھارت کے کئی شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں شامل ہیں۔

روایتی پٹاخوں پر پابندی کے بعد سیواکاسی میں کئی لوگ حکومت سے تربیت حاصل کرنے کے بعد ’ماحول دوست پٹاخے‘ بنانے پر منتقل تو ہو گئے ہیں۔ لیکن قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کے پٹاخے بھی زیادہ فروخت نہیں ہوتے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG