رسائی کے لنکس

ٹرمپ اخلاقی طور پر صدر رہنے کے اہل نہیں: جیمز کومی


جیمز کومی کی فائل فوٹو

جیمز کومی نے صدر ٹرمپ کی صدارت کو "جنگل کی آگ" سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دور امریکہ کی اقدار اور روایات کو بری طرح تباہ کر رہا ہے۔

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف بی آئی' کے سابق سربراہ جیمز کومی نے الزام لگایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدارت کے منصب کے لیے "اخلاقی طور پرنااہل"ہیں اور ان کے بقول بعض ایسے شواہد بھی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ صدر نے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔

اتوار کی شب امریکی چینل 'اے بی سی نیوز' پر نشر کیے جانے والے ایک انٹرویو میں 'ایف بی آئی' کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ امریکہ کے صدر کو ان تمام اقدار کا احترام کرنا اور ان پر کاربند رہنا چاہیے جو امریکہ کی بنیاد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان تمام اقدار میں سب سے اہم سچا ہونا ہے جس پر صدر ٹرمپ پورا اترنے کے قابل ہی نہیں۔

جیمز کومی نے صدر ٹرمپ کی صدارت کو "جنگل کی آگ" سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دور امریکہ کی اقدار اور روایات کو بری طرح تباہ کر رہا ہے۔

جیمز کومی ان دنوں اپنی کتاب کی تشہیر میں مصروف ہیں جو رواں ہفتے فروخت کے لیے پیش کی جارہی ہے۔ ان کا اتوار کا انٹرویو بھی کتاب کی تشہیری مہم کے سلسلے میں تھا۔

جیمز کومی کی کتاب کا سرِورق
جیمز کومی کی کتاب کا سرِورق

اپنی اس کتاب میں جیمز کومی نے 2016ء کے صدارتی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت کی تحقیقات میں اپنے کردار اور اس دوران صدر ٹرمپ سے ہونے والی اپنی ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا ہے۔

کتاب پر تبصرہ کرنے والے ناقدین کا کہنا ہے کہ جیمز کومی کی کتاب میں کئی ایسی باتیں اور انکشافات موجود ہیں جو صدر ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

کومی نے اپنی کتاب میں صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنی برطرفی کی وجوہات اور اس سے قبل صدر کے ساتھ ہونے والی اپنی ملاقاتوں اور ان میں ہونے والی گفتگو پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔

جیمز کومی نے گزشتہ سال اپنی برطرفی کے بعد کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے بیانِ حلفی دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایک ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے انہیں اپنے اس وقت کے قومی سلامتی کے مشیر مائیکل فلن کے خلاف جاری 'ایف بی آئی' کی تحقیقات بند کرنے کا کہا تھا۔

اتوار کو اپنے انٹرویو میں اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے جیمز کومی نے کہا کہ یہ واقعہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی ایک مثال ہوسکتا ہے لیکن ان کے بقول اس معاملے کی مزید تحقیقات ہونی چاہئیں۔

صدر ٹرمپ پہلے ہی جیمز کومی کے اس الزام کی تردید کرچکے ہیں اور انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کومی کو "جھوٹا شخص" بھی قرار دیا تھا۔

اتوار کو اپنے ایک ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ سب سے بڑا سوال جس کا جواب نہیں ملا، یہ ہے کہ جیمز کومی نے کس طرح اپنی کتاب میں خفیہ معلومات افشا کیں اور انہوں نے کانگریس سے جھوٹ کیوں بولا؟

تاہم صدر نے اپنے ٹوئٹ میں اس بات کی وضاحت نہیں کی جھوٹ بولنے سے ان کا اشارہ کومی کے کس بیان کی جانب تھی۔

'اے بی سی نیوز' کے ساتھ اپنے انٹرویو میں جیمز کومی نے صدر کے ساتھ ہونے والی اپنی ایک اور ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صدر نے ان سے ذاتی وفاداری کا تقاضا کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر صدر نے انتخابی عمل میں روس کی مبینہ مداخلت کی تحقیقات کرنے والے آزاد تفتیش کار رابرٹ مولر کو ان کے عہدے سے برطرف کیا تو یہ ان کی جانب سے "قانون کی حکمرانی پر اب تک کا سب سے سنگین حملہ ہوگا۔"

جیمز کومی نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اگر رابرٹ مولر کو اپنا کام جاری رکھنے دیا گیا تو وہ یقیناً "سچ ڈھونڈ نکالیں گے۔"

ایک سوال کے حواب میں 'ایف بی آئی' کے سابق ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ روس کے پاس صدر ٹرمپ کی ایسی معلومات موجود ہوں جن کی بنیاد پر انہیں بلیک میل کیا جاسکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG