رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا ویکسین کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی، پہلے ہیلتھ ورکرز کو لگے گی


پاکستان ایئر فورس کا خصوصی طیارہ چین سے ویکسین کی پہلی کھیپ لے کر پاکستان پہنچا۔

کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے چین سے ویکسین کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی جسے اسلام آباد میں مرکزی اسٹوریج سینٹر میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ویکسین لگانے کا عمل آئندہ ہفتے سے شروع ہو گا۔

چین کی جانب سے پاکستان کو تحفے میں ملنے والی کرونا ویکسین کی پانچ لاکھ خوراکوں کی کھیپ لے کر پاکستان ایئر فورس کا خصوصی طیارہ پیر کو پاکستان پہنچ گیا۔

ویکسین کو پاکستان کی جانب سے وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے اسلام آباد کے نور خان ایئر بیس پر وصول کیا۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ پاکستان کو چین کی 'سائنو فارم' ویکسین کی کھیپ موصول ہو گئی ہے جس کے لیے انتھک محنت کرنے والے ہر شخص کے وہ مشکور ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے یہ ویکسین طبی عملے کو لگائی جائے گی۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی ادارۂ صحت کے پروگرام 'کوویکس' کے تحت پاکستان کو 'ایسٹرازینیکا' ویکسین کی 60 سے 70 لاکھ خوراکیں اس سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران موصول ہو جائیں گی۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کہتے ہیں کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کا پاکستان پہنچنا ایک اہم قدم ہے جب کہ اِس مہلک وبا سے بچاؤ کے لیے پاکستان میں ایک سے زیادہ ویکسینز استعمال کی جائیں گی۔

وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ ویکسین کا پاکستان پہنچنا شروعات ہے اور جیسا کہ وعدہ کیا گیا تھا کہ یہ ویکسین سب سے پہلے ہیلتھ کیئر ورکرز کو لگائی جائے گی۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ "سارے ہیلتھ کیئر ورکرز کا اندراج ہمارے پاس سسٹم میں موجود ہے۔ جنہیں رجسٹرڈ کر لیا گیا ہے۔ جن میں کرونا وارڈز میں کام کرنے والے عملے، کرونا یونٹس اور ریپڈ ریسپانس ٹیموں کے اہلکار شامل ہیں۔"

ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ طبی عملے کے بعد 65 سال سے زائد عمر کے افراد کو یہ ویکسین لگائی جائے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ طبی عملے کے زیادہ تر اراکین کو چین کی جانب سے عطیہ کی جانے والی ویکسین لگائی جائے گی جب کہ 'کو ویکس' کے تحت موصول ہونے والی ویکسین 65 سال سے زائد عمر کے افراد اور دیگر شہریوں کو لگائی جائے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ 65 سال سے زائد عمر کے افراد کا ڈیٹا مرتب کرنے اور اُنہیں رجسٹر کرنے کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی مدد لی جائے گی۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق حکومتِ پاکستان نے ویکسین خریدنے کی مد میں 15 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کر رکھی ہے۔

ویکسین کو محفوظ رکھنے کے انتظامات

پاکستان میں ویکسین کی فراہمی پر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے اپنی حکمتِ عملی کو حتمی شکل دے دی ہے۔ جس کے تحت ویکسین کی منتقلی اور محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔

درجۂ حرارت کو برقرار رکھنے اور وقت بچانے کے لیے سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں خصوصی طیاروں کے ذریعے ویکسین پہنچائی جائے گی۔

پاکستان میں ویکسین لگانے کے لیے ملک بھر میں ایڈلٹ ویکسی نیشن مراکز قائم کئے جا چکے ہیں جہاں ویکسی نیشن کا تمام تر عمل ڈیجیٹل میکنزم سے کنٹرول کیا جائے گا۔

'این سی او سی' کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ویکسی نیشن کے پہلے مرحلے کے لیے پنجاب میں 189، سندھ میں 14، خیبرپختونخوا میں 280، بلوچستان میں 44، اسلام آباد میں 14، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 25 اور گلگت بلتستان میں 16 اڈلٹ ویکسی نیشن سینٹر (اے وی ایس) قائم کر دیے گئے ہیں۔

'این سی او سی' کے مطابق ویکسی نیشن کے لیے صوبے، ضلع اور تحصیل کی سطح پر 'اے وی ایس' سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ محکمۂ صحت کے مطابق ویکسی نیشن کے عمل میں 'نیشنل امیونائزیشن مینجمنٹ سسٹم' کے تحت ویکسین پورے ملک میں بھجوائی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG