رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا جنگ میں تارکینِ وطن کا اہم کردار، مثبت تاثر میں اضافہ


امریکی شہریت حاصل کرنے والے امیگرینٹس کی تقریب کا ایک منطر

جب گزشتہ سال ترکی سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان سائنس دان جوڑے نے کووڈ نائنٹین سے بچاؤ کی ویکسین دریافت کی تو امریکی اخبارات اور ٹی وی چینلز نے ان کی کامیابی کو سرخیوں کے ساتھ نمایاں کیا۔

فائزر اور بائیو این ٹیک کمپنیوں کے لیے انتہائی موثر ویکسین بنانے والے اوگر ساہین اور ان کی اہلیہ اوزلم ترکی ان لاکھوں تارکین وطن میں سے صرف دو افراد ہیں جو کرونا وائرس کے خلاف امریکہ کی جنگ میں اہم ترین شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایسے کارکنان کی اکثریت غیر معروف ہے لیکن دنیا کے مختلف ممالک سے آ کر بسنے والے یہ کارکنان عالمی وبا کے دوران امریکی زندگی کو رواں دواں رکھنے میں کلید ی کردار ادا کر رہے ہے۔

ایک تازہ ترین تحقیق کےمطابق بعض سیاسی حلقوں میں امیگرینٹس کے خلاف بیان بازی کے باوجود امریکی عوام کی اکثریت تارکین وطن کے کرونا کے جاری بحران میں ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔

"انسٹی ٹیوٹ فار امیگریشن ریسرچ" کی عوامی آرا پر مبنی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لوگ امیگرینٹس کے صحت عامہ، فوڈ پراسینگ، اشیا کی ترسیل اور ٹرانسپورٹ کے انتہائی ضروری شعبوں میں کام کو سراہتے ہیں۔

ورجینیا کی جارج میسن یونیورسٹی کے تحت کام کرنے والے ادارے نے اس تحقیق کا آغازسن 2020 کے اوائل میں کیا اور اس پر مبنی رپورٹ کو دسمبرمیں مکمل کیا۔

دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی، اور اس سے ملحقہ ریاستوں میری لینڈ اور ورجینیا میں کئی موضوعات پر کی گئی اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ 61 فیصد امریکی تارکین وطن کے مذکورہ اہم شعبوں میں خدمات کا اعتراف کرتے ہیں اور امیگرینٹس کے متعلق مثبت رائے رکھتے ہیں۔

جیمز وٹ، تارکین وطن سے متعلق ریسرچ کے ڈائریکٹر
جیمز وٹ، تارکین وطن سے متعلق ریسرچ کے ڈائریکٹر

تارکین وطن سے میل جول اور ان کی طرف قائم کیے گئے رویوں کے اثرات کے متعلق اس سروے میں شامل مقامی لوگوں کی اکثریت نے کہا کہ کرونا کی وبا کے دوران امیگرینٹسن کے بارے میں مثبت رائے مزید مستحکم ہوئی ہے۔

تحقیقی ادارے کے سربراہ جیمز وٹ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کئی حالیہ اسٹڈیز یہ ظاہر کرتی ہیں کہ تارکین وطن اپنی آبادی کے تناسب سے صحت عامہ اور فوڈ پراسیسنگ جیسے انتہائی ضروری شعبوں میں کہیں زیادہ تعداد میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور وہ امریکہ کی عالمی وبا کے خلاف لڑائی میں بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

امیگرینٹس کے بارے میں رائے قائم کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ جو سوشل میڈیا یا کہی سنی باتوں پر یقین رکھتے ہیں، وہ عام طور پر تارکین وطن کے متعلق منفی تاثر رکھتے ہیں، جب کہ ایسے لوگ جو روائتی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے خبریں حاصل کرتے ہیں وہ تارکین وطن کے متعلق مثبت سوچ رکھتے ہیں۔

ریاست میری لینڈ میں فعال فلاحی ادار ے منٹگمری کاونٹی مسلم فاونڈیشن کے بانی طفیل احمد کہتے ہیں کہ تارکین وطن نہ صرف پیشہ وارانہ خدمات سے کرونا وائرس کے خلاف جاری جنگ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ انہوں نے اپنے خاندانوں کے ہمراہ چہرے پر ماسک لگانے اور سماجی فاصلوں کا خیال رکھ کر بھی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کی ہیں۔

طفیل احمد جنہوں نے پاکستان سے کئی عشرے قبل آ کر کاروبار میں کامیابی کے ساتھ امریکی خواب کو حقیت میں ڈھالا، کہتے ہیں کہ امیگرینٹس امریکی معاشرہ پر بھی اعتدال پسندی اور قانون کی پاسداری کے ذریعے مثبت اثرات ڈالتے ہیں اور اب صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں ان کے کئی نمائندوں کی شمولیت سے ان کے لیے موقع ہے کہ وہ اپنے کام کو بخوبی انجام دے کر امریکہ کی بہتری کے لیے مزید کام کریں۔

انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ امریکی عوام کو امیگرینٹس کے کام کا اعتراف کرنا چاہیے تاکہ امتیاز سے پاک ایک معاشرے کی تشکیل ہو سکے۔

نئی تحقیق کے نتائج مرتب کرنے والے محققین جیمز وٹ اور نورد دینی چند ماہ پہلے شائع ہونے والی " نیشنل امیگریشن فورم" کی ایک اسٹدی کا بھی حوالہ دیتے ہیں، جس میں کہا گیا کہ گزشتہ سالوں میں بنائی گئی ناموافق امیگریشن پالیسیاں عوامی رائے سے متصادم رہیں کیونکہ امریکی عوام کی اکثریت تارکین وطن کے ملک میں ترقی کے کردار کو سراہتے ہیں۔

امریکی بیورو آف لیبر سٹیٹسکس کے اعداد و شمارکے مطابق ملک میں 2019 میں محنت کش وکرز کی کل تعداد کا 17 اعشاریہ چار فیصد امریکہ سے باہر پیدا ہونے والے افراد پر مشتمل ہے۔

واشنگٹن کی اخبار "دی ہل" میں چھپے ایک مضمون میں شامل معلومات کے مطابق ان ورکرز میں 69 فیصد امیگرنٹس اور دستاویز کے بغیر رہنے والے ورکرز میں سے 72 فیصد انتہائی ضروری شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں امریکہ میں پیدا ہونے والے مزدور اور محنت کش لوگوں کا تناسب 65 فیصد ہے۔

جہاں تک صحت عامہ کے شعبے کا تعلق ہے تو 38 فیصد گھریلو ورکرز، 29 فیصد ڈاکٹر اور 22 فیصد نرسیں تارکین وطن برادریوں سے تعلق رکھتی ہیں۔

علاوہ ازیں امریکہ میں سائنسی تحقیق میں کام کرنے والے تارکین وطن کا تناسب 22 فیصد ہے ۔ کرونا وائرس کی ویکسین پر کام کرنے والی آٹھ کمپنیوں میں 11 ہزار وکرز بیرون ممالک سے 2010 سے 2019 کے دوران عارضی ویزوں پر امریکہ آئے۔ اسی طرح امریکہ کی فوڈ سپلائی چین میں 22 فیصد بیرون ممالک سے آئے کارکن شامل ہیں۔ کیلی فورنیا اور الاسکا کی ریاستوں میں خوراک کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کی تعداد مقامی لوگوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG