رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر پختونخوا میں رواں سال پولیو کا پہلا کیس سامنے گیا


فائل فوٹو

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے اتوار کو ایک بچے میں پولیو کی تصدیق کی ہے۔ پولیو سے متاثرہ 12 ماہ کے بچے کا تعلق جنوبی ضلعے لکی مروت سے بتایا گیا ہے۔

حکام کے بقول رواں سال 2020 میں خیبر پختونخوا میں یہ پولیو کا پہلا کیس ہے۔

سرکاری طور پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 12 ماہ کے متاثرہ بچے کا تعلق لکی مروت کی یونین کونسل بخمل احمد زئی سے ہے۔

واضح رہے کہ 2019 میں ملک بھر پولیو سے 136 افراد میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ ان میں سے 92 کا تعلق خیبر پختونخوا سے تھا جب کہ ان 92 پولیو متاثرین میں 32 کا تعلق جنوبی ضلع لکی مروت سے تھا۔

دنیا بھر پاکستان اور افغانستان دو ایسے ممالک ہیں جہاں پر ابھی تک پولیو کے جراثیم موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان آمد و رفت کرنے والے تمام افراد کے لیے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینا لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔

پاکستان میں گزشتہ دس برس میں رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز

تعداد

سال

1442010
1982011
582012
932013
3062014
542015
202016
82017
122018
1172019

پاکستان باقاعدہ طور پرعالمی سطح پر پوليو کے خاتمے کی مہم ميں 1994 ميں شامل ہوا۔

اس وقت وزيراعظم بينظير بھٹو نے اس مہم کا آغاز کیا جبکہ اپنی سب سے چھوٹی بیٹی آصفہ بھٹو زرداری کو سب سے پہلے قطرے پلائے۔

ايک محتاط اندازے کے مطابق اُس وقت پاکستان ميں 20 ہزار سے زائد پوليو کيسز تھے۔

پاکستان سے 25 سال بعد بھی پوليو وائرس کا خاتمہ نہیں ہو سکا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہر گزرتے سال کے ساتھ مختلف خدشات کا جنم لينا ہے۔ کبھی لوگ اپنے بچوں کو پوليو ويکسين پلانا مغرب کی سازش قرار ديتے ہيں تو کبھی انسداد پوليو رضا کاروں کو جاسوسی کے نيٹ ورک کا آلہ کار مانا جاتا ہے۔ کئی افراد اس کو غير شرعی بھی سمجھتے ہیں۔

فوجی آپريشنز کے بعد ملک کے بيشتر حصوں ميں امن قائم ہو چکا ہے ليکن پوليو کے خلاف خدشات ختم نہیں ہو رہے جبکہ اب بھی انسداد پولیو رضا کاروں پر مسلح حملے رپورٹ ہو رہے ہیں۔

ياد رہے کہ 2012 سے اب تک پوليو ٹيموں پر مختلف حملوں ميں 70 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہيں جن ميں پوليو ورکرز کے علاوہ سيکیورٹی فورسز کے اہلکار اور عام شہری بھی شامل ہيں۔

اپريل 2019 ميں پشاور کے نواحی علاقے ماشو خيل ميں ايک منظم پروپيگنڈے کی وجہ سے ملک بھر ميں پوليو مہم رک گئی تھی۔ جس کے بعد پوليو کيسز ميں بھی اضافہ ديکھا گیا اور پوليو ورکرز کو لاحق خطرات میں بھی اضافہ ہوا تھا۔

XS
SM
MD
LG