رسائی کے لنکس

logo-print

پولیو کیسز میں اضافہ، 2019 پاکستان کے لیے 'بھیانک' قرار


فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ کے ذیلی اداروں نے پاکستان میں رواں سال پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث 2019 کو بھیانک سال قرار دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام کام کرنے والے ادارے انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (آئی ایم بی) اور گلوبل پولیو اریڈیکیشن پروگرام (جی پی ای آئی) نے اپنی جاری کردہ 17 ویں سالانہ رپورٹ میں 2019 کو پاکستان میں پولیو وائرس کی جیت اور مریضوں کے لیے ’بھیانک سال‘ قرار دے دیا ہے۔

آئی ایم بی اور جی پی ای آئی کا کام دنیا بھر میں جاری پولیو پروگراموں کی مانیٹرنگ کرنا اور اپنی سفارشات اور تجاویز سے آگاہ کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، سال 2018 کے اوائل میں پاکستان کا پولیو پروگرام وائلڈ پولیو وائرس کی روک تھام کے بہت قریب پہنچ چکا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ صرف ایک سال کے اندر یہ منظرنامہ مکمل طور پر بدل گیا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا بدستور پولیو وائرس کے خطرے سے دوچار ہے۔

آئی ایم بی کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں انسداد پولیو پروگرام ایک ’سیاسی فٹ بال‘ کا کھیل بن کر رہ گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر پولیو پروگرام کو سیاست کی نذر ہونے سے بچانا چاہیے۔

رپورٹ میں درج ہے کہ پاکستان کے تمام بڑے صوبوں جس میں سندھ کا خصوصی ذکر ہے، مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں قائم ہیں، جن کی پالیسیوں کا اثر براہ راست پولیو پروگرام پر پڑتا ہے۔

سال 2018 اور 2019 کا موازنہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پولیو کا دم توڑتا وائرس 2018 کی تیسری سہ ماہی میں پھر سے زور پکڑنے لگا جو بڑھتے بڑھتے 2019 کی دوسری سہ ماہی میں پولیو کے 38 کیسز تک پہنچ گیا۔

خیبر پختونخوا کے علاوہ پنجاب سے حاصل کیے جانے والے نمونوں کے نتائج 100 فی صد مثبت آئے جو خطرناک تھا۔

اقوامِ متحدہ کے ذیلی اداروں کے مطابق، کراچی اور بلوچستان میں 11 مقامات سے نمونے حاصل کیے گئے، جو 69 فی صد مثبت آئے جب کہ 2018 میں انہیں علاقوں سے حاصل کیے جانے والے نمونوں کے نتائج صرف 38 فی صد مثبت آئے تھے۔

رپورٹ میں پانچ ایسے عوامل کا ذکر کیا گیا ہے جس نے پاکستان کے پولیو پروگرام کو کامیابی کے ٹریک سے اتار دیا، جن میں پولیو پروگرام مینجمنٹ کی جانب سے بے جا اور غیر ضروری خود اعتمادی، پولیو ویکسین سے متعلق لوگوں میں پائے جانے والے منفی رویے کو بھی کیسز میں اضافے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی سطح پر پولیو کے خاتمے کی مربوط حکمت عملی کے فقدان جب کہ سوشل میڈیا پر پولیو ویکسین سے متعلق منفی پروپیگنڈے نے بھی صورتِ حال خراب کی ہے۔

رپورٹ میں ان علاقوں کی مزید نشاندہی کی گئی ہے جہاں پولیو وائرس کا پھیلاؤ جغرافیائی بنیادوں پر ہو رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 2018 میں پاکستان کے پانچ اضلاع اس وائرس سے متاثر تھے، لیکن 2019 میں یہ وائرس ملک کے 25 اضلاع تک پھیل گیا ہے۔

پاکستان کو یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ وہ نائجیریا کی طرز پر سیاسی شخصیات اور مختلف کمیونٹیز کو پروگرام میں شامل کرے۔

حکومتِ پاکستان کا مؤقف

پاکستان میں پولیو پروگرام کے فوکل پرسن ڈاکٹر صفدر نے وآئس آف امریکہ کو بتایا کہ سال 2019 انسداد پولیو کے حوالے سے واقعی مثالی نہیں ہے۔ لیکن، وسیع پیمانے پر سیاسی شمولیت کو یقنی بنانے، معمول کی امیونائزیشن کو بہتر کرنے، نچلی سطح پر پولیو پر کام کرنے والوں میں ایک مطابقت کی فضا پیدا کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول، احتساب کے عمل کو بھی تیز کیا جا رہا ہے، تاکہ پولیو وائرس کی روک تھام تیزی سے کی جا سکے۔

پاکستان میں رواں سال پولیو کیسز کی تعداد 77 تک پہنچ گئی ہے، جو 2018 میں اسی عرصے کے دوران صرف پانچ تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG