رسائی کے لنکس

کراچی: پانچ منزلہ عمارت زمین بوس، 288 خطرناک قرار

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عمارت کراچی میں گزشتہ دو روز کے دوران ہونے والی بارش کی وجہ سے کمزور پڑگئی تھی۔ مکنیوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے کئی ماہ پہلے بلڈنگ کے مالک کو عمارت کی مرمت کرانے پر زور دیا تھا۔ لیکن، مالک نے مکینوں کی بات سنی ان سنی کر دی

کراچی کے قدیم علاقے، کھارادر میں حسیناں ایرانیاں امام بارگاہ کے قریب واقع ایک پانچ منزلہ خستہ حال عمارت منہدم ہوگئی۔ تاہم، خوش قسمتی سے حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

عمارت میں کوئی بھی شخص رہائش پذیر نہیں تھا۔ حال ہی میں کمشنر کراچی کی ہدایت پر اس عمارت کو بوسیدہ اور رہائش کے لئے خطرناک قرار دیے جانے کے باعث خالی کرا لیا گیا تھا۔

عمارت کے کچھ حصے منگل اور بدھ کی درمیانی شب زمین بوس ہوگئے تھے جبکہ بقیہ حصے بدھ کی صبح منہدم ہوئے۔ اس دوران، عمارت کو خالی کرنے سے قبل یہاں رہنے والے کچھ مکینوں نے وہاں رکھا ہوا اپنا کچھ سامان باہر نکال لیا۔ تاہم، جو سامان باہر نہیں نکالا جا سکا وہ ملبے کے ڈھیر میں دب گیا۔

بدھ کی شام وائس آف امریکہ کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے مکنیوں نے بتایا کہ انہوں نے کئی ماہ پہلے بلڈنگ کے مالک کو عمارت کی مرمت کرانے پر زور دیا تھا، لیکن مالک نے مکینوں کی بات سنی ان سنی کردی۔

کچھ مکینوں نے علاقے سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی جاوید ناگوری سے بھی اس کی شکایت کی کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت خدمات انجام دیں، حکومت یا انتظامیہ کی طرف سے انہیں مناسب مدد یا تعاون نہیں ملا۔

کراچی: پانچ منزلہ عمارت زمین بوس، 288 خطرناک قرار

جدید مشینوں کے ذریعے مہدم عمارت کا ملبہ اٹھایا جارہا ہے
1/7 جدید مشینوں کے ذریعے مہدم عمارت کا ملبہ اٹھایا جارہا ہے
کراچی میں پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے بھی قبل تعمیر ہونے والی عمارتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ زیادہ تر عمارتیں ایم اے جناح روڈ، اولڈ سٹی ایریا، کھارادر، لیاری، برنس روڈ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں واقعے ہیں
زمین بوس عمارت کا ایک اور منظر
2/7 زمین بوس عمارت کا ایک اور منظر
کراچی میں پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے بھی قبل تعمیر ہونے والی عمارتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ زیادہ تر عمارتیں ایم اے جناح روڈ، اولڈ سٹی ایریا، کھارادر، لیاری، برنس روڈ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں واقعے ہیں
ملبہ اٹھانے کے کام پر مامور ورکزز
3/7 ملبہ اٹھانے کے کام پر مامور ورکزز
کراچی میں پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے بھی قبل تعمیر ہونے والی عمارتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ زیادہ تر عمارتیں ایم اے جناح روڈ، اولڈ سٹی ایریا، کھارادر، لیاری، برنس روڈ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں واقعے ہیں
ممبر صوبائی اسمبلی جاوید ناگوری نے بدھ کی شام جائے حادثہ کا دورہ کیا
4/7 ممبر صوبائی اسمبلی جاوید ناگوری نے بدھ کی شام جائے حادثہ کا دورہ کیا
کراچی میں پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے بھی قبل تعمیر ہونے والی عمارتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ زیادہ تر عمارتیں ایم اے جناح روڈ، اولڈ سٹی ایریا، کھارادر، لیاری، برنس روڈ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں واقعے ہیں
برنس روڈ کے کونے پر واقعے ایک اور خستہ حال عمارت جس میں اب بھی کچھ لوگ مقیم ہیں۔ کجھ گیلریاں اور در و دیوار اس کا ثبوت ہیں
5/7 برنس روڈ کے کونے پر واقعے ایک اور خستہ حال عمارت جس میں اب بھی کچھ لوگ مقیم ہیں۔ کجھ گیلریاں اور در و دیوار اس کا ثبوت ہیں
کراچی میں پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے بھی قبل تعمیر ہونے والی عمارتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ زیادہ تر عمارتیں ایم اے جناح روڈ، اولڈ سٹی ایریا، کھارادر، لیاری، برنس روڈ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں واقعے ہیں
منہدم عمارت کے دائیں طرف قائم ایک اور عمارت جو 1932 ء میں تعمیر ہوئی تھی۔ اس کی خستہ حالی بھی تصویر میں نمایاں ہے
6/7 منہدم عمارت کے دائیں طرف قائم ایک اور عمارت جو 1932 ء میں تعمیر ہوئی تھی۔ اس کی خستہ حالی بھی تصویر میں نمایاں ہے
کراچی میں پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے بھی قبل تعمیر ہونے والی عمارتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ زیادہ تر عمارتیں ایم اے جناح روڈ، اولڈ سٹی ایریا، کھارادر، لیاری، برنس روڈ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں واقعے ہیں
پس منظر میں نظر آتی کچھ اور پرانی اور بوسیدہ عمارات
7/7 پس منظر میں نظر آتی کچھ اور پرانی اور بوسیدہ عمارات
کراچی میں پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے بھی قبل تعمیر ہونے والی عمارتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ زیادہ تر عمارتیں ایم اے جناح روڈ، اولڈ سٹی ایریا، کھارادر، لیاری، برنس روڈ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں واقعے ہیں
Previous slide
Next slide

ایم پی اے جاوید ناگوری بدھ کی شام علاقے کے دورے پر تھے۔ انہوں نے عمارت کا ملبہ اٹھانے پر مامور عملے کو ہدایات بھی جاری کیں۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عمارت کراچی میں گزشتہ دو روز کے دوران ہونے والی بارش کی وجہ سے کمزور پڑگئی تھی۔

شہر کی 288 عمارات خطرناک قرار
کراچی میں پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے بھی قبل تعمیر ہونے والی عمارتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ زیادہ تر عمارتیں ایم اے جناح روڈ، اولڈ سٹی ایریا، کھاردر، لیاری، برنس روڈ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں واقعے ہیں۔ بیشتر عمارات برطانوی دور حکومت کی ہیں جبکہ انگنت عمارتیں ہندوٴاور پارسی طرز تعمیر بھی رکھتی ہیں۔

مذکورہ عمارتوں میں سے سینکڑوں عمارات کو ہر سال کی طرح اس بار بھی برسات کے موسم سے کچھ ہفتے قبل بوسیدہ اور رہائش کے لئے انتہائی خطرناک قرار دیا جاچکا ہے۔

پاکستان کے سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے گزشتہ روز یعنی پیر کو ہی 288عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا تھا۔ اتھارٹی کے قائم مقام ڈائریکٹرجنرل ممتاز حیدر کے مطابق بوسیدہ اور رہائش کے لئے انتہائی خطرناک قرار دی گئی عمارات کی فہرست اتھارٹی کی نگرانی میں ماہرین تعمیرات اور تجربہ کار انجینئر ز پر مشتمل ٹیکنکل کمیٹی نے مرتب کی ہے۔

اتھارٹی کی جانب سے لاوٴڈ اسپیکرز پر بہ آواز بلند عمارتوں کے مکینوں کو متنبہ کیا گیا کہ خستہ حال عمارتیں خالی کردیں، برسات کے موسم میں یہ عمارتیں موسلا دھار بارشوں کا مقابلہ نہیں کرسکتیں اور کسی بھی وقت زمین بوس ہوسکتی ہیں۔

انتظامیہ اور اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ بار بار کی تنبیہ کے باوجود عمارت میں رہائش پذیر لوگ خستہ حال بلڈنگز خالی کرنے پر آمادہ نہیں۔

This item is part of
XS
SM
MD
LG