رسائی کے لنکس

کراچی: پانچ منزلہ عمارت زمین بوس، 288 خطرناک قرار

کراچی میں پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے بھی قبل تعمیر ہونے والی عمارتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ زیادہ تر عمارتیں ایم اے جناح روڈ، اولڈ سٹی ایریا، کھارادر، لیاری، برنس روڈ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں واقعے ہیں

بیشتر عمارات برطانوی دور حکومت کی ہیں، جبکہ انگنت عمارتیں ہندو اور پارسی طرز تعمیر بھی رکھتی ہیں۔

مذکورہ عمارتوں میں سے سینکڑوں عمارات کو ہر سال کی طرح اس بار بھی برسات کے موسم سے کچھ ہفتے قبل بوسیدہ اور رہائش کے لئے انتہائی خطرناک قرار دیا جا چکا ہے۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے گزشتہ روز یعنی پیر کو ہی 288 عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا تھا۔

منگل اور بدھ کی درمیانی شب کھارادر میں واقع ایسی ہی ایک بوسیدہ اور خستہ حال عمارت بارشوں کی تیزی برداشت نہ کرسکی اور منہدم ہوگئی۔

ذیل میں زمین بوس عمارت کے کچھ مناظر دیکھئے:
مزید

جدید مشینوں کے ذریعے مہدم عمارت کا ملبہ اٹھایا جارہا ہے
1

جدید مشینوں کے ذریعے مہدم عمارت کا ملبہ اٹھایا جارہا ہے

زمین بوس عمارت کا ایک اور منظر
2

زمین بوس عمارت کا ایک اور منظر

ملبہ اٹھانے کے کام پر مامور ورکزز
3

ملبہ اٹھانے کے کام پر مامور ورکزز

ممبر صوبائی اسمبلی جاوید ناگوری نے بدھ کی شام جائے حادثہ کا دورہ کیا
4

ممبر صوبائی اسمبلی جاوید ناگوری نے بدھ کی شام جائے حادثہ کا دورہ کیا

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG