رسائی کے لنکس

logo-print

تاریخ کا بدترین سیلاب، اعدادو شمار کے آئینے میں


منگل تک سیلاب سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد1500 کا ہندسہ عبور کرگئی جبکہ مجموعی طور پر25لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے۔ بے گھرافراد کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے جبکہ درجنوں افراد تاحال لاپتا ہیں

پاکستان آٹھ اکتوبر 2005ء کے زلزلے کے بعد اب سیلاب کی تباہ کاریوں کے حوالے سے دنیا بھر میں خبروں کا موضوع بنا ہوا ہے۔

موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گذشتہ 80سالوں میں آنے والا بدترین سیلاب ہے۔ خیبرپختون خواہ، پنجاب، بلوچستان، سندھ ، گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر غرض کہ ملک کا کوئی حصہ ایسا نہیں جسے سیلاب نے نہ گھیرا ہو۔

منگل تک سیلاب سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد1500 کا ہندسہ عبور کرگئی جبکہ مجموعی طور پر25لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے۔ بے گھرافراد کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے جبکہ درجنوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔ سیلاب کے باعث درجنوں دیہات صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں اورلاکھوں افراد اب بھی کھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔


سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ : خیبرپختون خواہ

صوبہ خیبر پختون خواہ میں پچھلے 50سالوں میں اتنی بارشیں نہیں ہوئیں جتنی اس سال ہورہی ہیں۔ ان غیر معمولی بارشوں کے سیلاب نے سب سے زیادہ خیبر پختون خواہ کو ہی متاثر کیا ہے۔ یہاں بدترین سیلاب اوربارشوں کے باعث تقریباً 1000افراد جاں بحق، 400 سے زائد زخمی اور 150کے قریب افراد لاپتا ہیں۔ضلع نوشہرہ میں پانچ لاکھ اور کوہاٹ میں چھ سو افراد بے گھر ہوئے ہیں جبکہ 15815گھر مکمل طور پر تباہ اور 761گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ چارسدہ ،مردان ، سوات، نوشہرہ ، ضلع کوہستان ، سوات ،شانگلہ، کالام ، بحرین،مدین، میاندم، مٹہ سب ڈویژن اور تحصیل کبل اس صوبے کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔ صوبے میں لاکھوں افراد تاحال امداد کے منتظر ہیں۔

پنجاب کے متاثرہ علاقے

پنجاب میں سیلاب سے درجنوں بستیاں زیرآب آگئیں۔ جنوبی پنجاب کے 5 اضلاع میں مجموعی طور پر 10 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ راجن پور، میانوالی، ڈیرہ غازی خان، لیہ، بھکر، خوشاب، ،مظفر گڑھ،تحصیل تونسہ شریف کے دیہات، بستی ببھان،بستی نصیر ،ملک پور ،فتح خان ،بستی کھر،پتی کھر،مور چھنگی ،بستی موگا ،بستی میرانی ،بستی عظیم پنج گرائیں،رسالپوروہ علاقے ہیں جو سیلاب سے بری طرح متاثرہ ہوئے۔


صوبہ سندھ: سیلابی ریلے کی گزرگاہ

ان دنوں دریائے سندھ میں غیر معمولی بلند درجے کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے جو 6 اگست تک گدو پہنچ جائے گا۔ بدھ کو گدو بیراج سے 9 لاکھ 50 ہزار سے 10 لاکھ 50 ہزار کیوسک کا غیر معمولی بلند سیلاب گزرے گا جبکہ اگلے ہی دن 9 سے 10 لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا سکھر پہنچے گا۔ دریائے سندھ میں شدید طغیانی سے گھوٹکی، سکھر، لاڑکانہ، نوابشاہ، حیدر آباد، شہید بے نظیر آباد اور نوشہرہ فیروز کے نشیبی علاقے زیرآب آنے کا خدشہ ہے۔ یہاں 26 مقامات حسّاس قرار دے دیئے گئے ہیں جبکہ کچے کے علاقے میں آبادتقریباً 20 ہزار افراد کو متبادل مقامات پر منتقل کیا جائے گا ۔


فصلوں کی تباہی

سیلاب کے باعث ملک بھر میں فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔ پنجاب میں ایک لاکھ ایکڑ رقبے پر پھیلی کپاس کی فصل تباہ ہو چکی ہے۔ چونکہ ایک عرصے سے پاکستان کے دریا خشک پڑے تھے لہذا لوگوں نے دریاؤں کے کنارے فصلیں اگالی تھیں جو سیلاب اور بارشوں کی وجہ سے ختم ہو چکی ہیں۔ بے قائدہ بارشوں او ر سیلاب سے چارہ اور سبزیوں کی فصلوں کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔


سیلاب زدگان کیلئے عالمی امداد

سیلاب سے بڑے پیمانے پر پھیلنے والی تباہی کو دیکھتے ہوئے عالمی برادری اکتوبر دوہزار پانچ کی طرح ہی میدان عمل میں اتر آئی ہے اور پاکستان کو ہر ممکن امداد فراہم کررہی ہے۔ اس میں مالی معاونت سرفہرست ہے۔ امریکا نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کےلئے ایک کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا ہے۔ علاوہ ازیں ایک لاکھ سے زائد غذائی اشیا کے پیکٹس بھی سیلاب زدگان کے لئے فراہم کئے گئے ہیں ۔

برطانیہ نے دس ملین پاوٴنڈ امداد کا اعلان کیا ہے۔اس کے علاوہ برطانیہ نے ایک لاکھ 36 ہزار ہائی جین کٹس، 4560 ٹوائلٹس، صابن کی 3 لاکھ 36 ہزار ٹکیاں، 2 لاکھ 70 ہزار بالٹیاں/کین، پانی صاف کرنے کے 4 لاکھ ساشے اور 8 لاکھ گولیاں فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔برطانوی امدادی ادارے نے سیلاب میں بہہ جانے والے پلوں کی جگہ نئے پلوں کی فراہمی تیز کرنے کیلئے بھی خیبر پختون خواہ حکومت سے اتفاق کیا ہے۔

آسٹریلیا نے 5 ملین آسٹریلوی ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ عالمی ادارہ خوراک نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے 35 ہزار خاندانوں کو خوراک کی تقسیم کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔جرمنی نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کیلئے 109 ملین روپے کا امدادی سامان فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔علاوہ ازیں یو این ایچ سی آر کی جانب سے پچاس ہزار ڈالر مالیت کاامداد ی سامان چارسدہ کے متاثرین میں تقسیم کیا گیا۔

سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن

خیبر پختونخوا ہ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک بحریہ نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن ‘مدد’کے نام سے جاری رکھا ہوا ہے جس کے تحت ریسکیو ٹیموں نے نوشہرہ میں ریلیف آپریشنز کے ذریعے محصور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے جبکہ انہیں طبی سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔

معاوضہ

پنجاب کی صوبائی حکومت نے سیلاب سے جاں بحق اور لاپتا افراد کے لواحقین کو تین تین لاکھ روپے امداد دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

بے قابو ہوجانے والے دریا

سیلاب سے ملک کے تمام چھوٹے بڑے دریا بے قابو ہوگئے ان میں دریائے سندھ، جہلم، چناب، کابل، سوات سیلہ شامل ہیں۔
سیلاب میں پھنسے والے غیر ملکی

سیلاب میں پاکستانی شہری ہی نہیں 95 چینی ، 12 جاپانی او 600دیگر سیاح بھی پھنس گئے جنہیں پاکستان کی افواج نے محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

مستقبل

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل قمر الزمان چوہدری کے مطابق رواں ہفتے مزید بارشوں کی توقع ہے جو بنگال سے ہوتی ہوئی بھارت کے راستے پاکستان میں داخل ہو رہی ہیں۔رواں ہفتے سندھ، پنجاب، کشمیر، خیبرپختونخوا ہ اور بلوچستان میں موسلادھار بارشوں کا قوی امکان ہے ۔اگر صورتحال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض بھی پھوٹنے کے امکانات ہیں جن کے مزید سنگین اور بھیانک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG