رسائی کے لنکس

logo-print

شاہ محمود کی روسی وزیرِ خارجہ سے ملاقات، افغان تنازع پر گفتگو


روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے ساتھ

چار ملکی دورے کے آخری مرحلے میں ماسکو پہنچنے کے بعد شاہ محمود قریشی نے بدھ کو اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ملاقات کی۔

چین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن کا جلد قیام پورے جنوبی ایشیا کے لیے مفید ہے اور چین مصالحت اور تعاون کے لیے افغان تنازع کے تمام فریقوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔

چین کی وزراتِ خارجہ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی چین کا دورہ مکمل کر کے روس پہنچے ہیں۔

چار ملکی دورے کے آخری مرحلے میں ماسکو پہنچنے کے بعد شاہ محمود قریشی نے بدھ کو اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ملاقات کی۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ملاقات میں خطے کی صورتِ حال بالخصوص افغانستان میں امن و مصالحت پر ہونے والی تازہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وزیرِ خارجہ کے پڑوسی ملکوں کے اس دورے کا مقصد خطے کے اہم ممالک کو افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتِ حال پر اعتماد میں لینا اور انہیں پاکستان کے نقطۂ نظر سے آگاہ کرنا تھا۔

شاہ محمود قریشی اس سے قبل کابل، تہران اور بیجنگ گئے تھے۔

یہ دورے ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب امریکہ کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کے عمل میں تیزی آئی ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکہ کے نمائندۂ خصوصی زلمے خلیل زاد کی قیادت میں امریکی وفد نے ابو ظہبی میں افغان طالبان کے نمائندوں سے تین روز تک مذاکرات کیے تھے۔

اطلاعات کے مطابق ان مذاکرات میں افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام، عارضی جنگ بندی اور افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے معاملات پر گفتگو ہوئی تھی۔

ان مذاکرات میں افغانستان، پاکستان، سعودی عرب اور میزبان ملک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان براہِ راست بات چیت اسلام آباد کی کوششوں ہی سے ممکن ہوئی ہے۔

'افغان تنازع کا حل سب کے مفاد میں ہے'

ادھر چین نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج میں کمی کا فیصلہ خود امریکہ نے کرنا ہے تاہم چین کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ افغانستان کے مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

چین کی وزاتِ خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ نے یہ بات افغانستان سے سات ہزار امریکی فوجی واپس بلانے کی اطلاعات سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی۔

منگل کو معمول کی پریس بریفنگ کے دوران چن ینگ نے صحافیوں کو بتایا کہ افغانستان پر چین کا یہ مستقل مؤقف رہا ہے کہ ''عسکری کارروائیاں افغانستان کے مسئلے کے حل میں مدد گار نہیں ہوں گی اور افغانوں کی قیادت اور سرپرستی میں سب فریقین کی شمولیت سے ہی افغان مسئلہ کا قابلِ عمل حل ممکن ہے۔"

ترجمان نے کہا کہ چین افغانستان میں مصالحت اور تعاون کے حصول کے لیے تمام فریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور اس ضمن میں تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ تمام فریقین افغان مصالحتی عمل کو جلد آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کریں گے تاکہ افغان عوام جلد امن و سلامتی اور ترقی سے مستفید ہو سکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG