رسائی کے لنکس

logo-print

شاہ محمود قریشی کی کابل میں افغان قیادت سے ملاقاتیں


پاکستانی وفد شاہ محمود قریشی کی قیادت میں کابل میں افغان وزیرِ خارجہ سے ملاقات کر رہا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کابل میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی ہے جس میں افغانستان میں قیامِ امن کے لیے جاری کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

پیر کو کابل میں افغان صدر سے ملاقات میں پاکستانی وزیرِ خارجہ نے افغانستان میں قیامِ امن کے لیے افغان حکومت کی قیادت میں جاری مصالتحی عمل کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق شاہ محمود قریشی نے ملاقات میں افغان صدر کو افغانستان میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

شاہ محمود قریشی پیر کی صبح چار ملکی دورے کے پہلے مرحلے میں کابل پہنچے تھے۔

کابل میں افغان صدر سے ملاقات کے علاوہ پاکستانی وزیرِ خارجہ نے اپنے افغان ہم منصب صلاح الدین ربانی کے ساتھ وفود کی سطح پر بات چیت بھی کی جس میں خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے باہمی رابطوں کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ نے افغانستان کا یہ دورہ ایسے وقت کیا ہے جب گزشتہ ہفتے ہی امریکہ کے نمائندۂ خصوصی زلمے خلیل زاد کی قیادت میں امریکی وفد نے ابوظہبی میں طالبان نمائندوں سے تین روز تک مذاکرات کیے تھے۔

ان مذاکرات میں افغانستان، پاکستان، سعودی عرب اور میزبان ملک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان یہ براہِ راست مذاکرات اس کی کوششوں سے ممکن ہوئے ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق پیر کو شاہ محمود قریشی کی افغان حکام سے ملاقاتوں میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات اور افغانستان میں امن و مصالحت کے بارے میں ہونے والی پیش رفت پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔

کابل میں ملاقاتوں کے فوری بعد شاہ محمود قریشی پیر کی دوپہر اپنے دورے کے اگلے مرحلے میں ایران روانہ ہوگئے ہیں۔

اپنے اس چار ملکی دورے کے دوران پاکستانی وزیرِ خارجہ چین اور روس بھی جائیں گے جہاں وہ ان ملکوں کی قیادت کے ساتھ افغان مفاہمتی عمل میں حالیہ پیش رفت کے علاوہ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات پر بھی تبادلۂ خیال کریں گے۔

پیر کو کابل روانہ ہونے سے قبل اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے شاہ محمود نے کہا تھا کہ پڑوسی ممالک کے دورے کا مقصد خطے میں ہونے والی پیش رفت پر دوست ممالک کو اعتماد میں لینا ہے۔

اُن کے بقول، "امن و استحکام کا حصول اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب خطے کی تمام قوتیں مل کر ایک سمت میں کام کریں۔"

انہوں نے کہا کہ تمام ملکوں کو ایک دوسرے کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG