رسائی کے لنکس

غزہ میں لڑائی کے چھ ماہ؛ کیا فوری جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی ممکن ہے؟

  • اسرائیلی وزیرِ اعظم حماس کو ختم کرنے اور یرغمالوں کو گھر لانے کا عزم ظاہر کرتے رہے ہیں۔
  • بن یامین نیتن یاہو پر استعفے کے لیے دباؤ ہے۔
  • امریکہ نے غزہ میں بگڑتی ہوئی صورتِ حال پر اسرائیل کے لیے حمایت واپس لینے کی دھمکی دی ہے۔

اسرائیل حماس کی جنگ کو چھ ماہ مکمل ہوگئے ہیں۔ اس جنگ میں مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جہاں غزہ کا ہنستا بستا شہر کھنڈر بن چکا ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ وہیں حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے لوگوں کا مستقبل غیر یقینی ہے۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کی رپورٹ کے مطابق حماس کے ہاتھوں سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے میں یرغمال بنائے گئے 250 افراد میں سے کچھ تو نومبر 2023 میں عارضی جنگ بندی کے معاہدے کے نتیجے میں رہا کر دیا گیا تھا البتہ باقی افراد کا کیا ہو گا؟ کیا ایک اور جنگ بندی کے معاہدے کے نتیجے میں وہ رہا ہو سکیں گے؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔

حماس کی تحویل میں ایک یرغمالی نوا ارگمانی ہیں۔ ان کی والدہ لیورا ارگمانی کی اپنی بیٹی سے ملاقات اب ان کی آخری خواہش ہے۔ لیکن حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ کے چھ ماہ گزرنے کے بعد لیورا ارگمانی کو وقت ختم ہوتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔

اکسٹھ سالہ لیورا ارگمانی دماغ کے کینسر کے چوتھے اسٹیج پر ہیں۔ وہ بڑی حسرت سے کہتی ہیں کہ ان کے پاس اب زیادہ وقت نہیں ہے اور جانے سے پہلے وہ ایک بار اپنی بیٹی کو دیکھنا چاہتی ہیں اور اس سے باتیں کرنا چاہتی ہیں۔

نوا ارگمانی کو سات اکتوبر 2023 کو جب حماس نے جنوبی اسرائیل پر حملے میں یرغمال بنایا تھا۔

نوا ارگمانی اس میوزک فیسٹیول میں موجود تھیں کو غزہ کی سرحد کے قریب ہو رہا تھا۔

غزہ جنگ کے چھ ماہ مکمل

حماس نے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس میں 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد اسرائیل نے غزہ کا اسی دن محاصرہ کرکے حملے شروع کر دہے تھے۔
1/35 حماس نے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس میں 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد اسرائیل نے غزہ کا اسی دن محاصرہ کرکے حملے شروع کر دہے تھے۔
حماس اور غزہ کی ایک اور عسکری تنظیم اسلامی جہاد نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر سیکڑوں میزائل بھی داغے تھے۔ 
2/35 حماس اور غزہ کی ایک اور عسکری تنظیم اسلامی جہاد نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر سیکڑوں میزائل بھی داغے تھے۔ 
اسرائیل کے مطابق حماس نے اسرائیلی علاقوں پر حملوں کے دوران یرغمال بنائے گئے افراد کو غزہ میں سرنگوں میں قیدی بنا کر رہا ہے۔ البتہ اب تک ان سرنگوں سے اسرائیلی فورسز قیدیوں کی بازیابی میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔
3/35 اسرائیل کے مطابق حماس نے اسرائیلی علاقوں پر حملوں کے دوران یرغمال بنائے گئے افراد کو غزہ میں سرنگوں میں قیدی بنا کر رہا ہے۔ البتہ اب تک ان سرنگوں سے اسرائیلی فورسز قیدیوں کی بازیابی میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔
اسرائیل نے غزہ پر سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد ہی فضائی حملے شروع کر دیے تھے جب کہ لگ بھگ تین ہفتوں کے بعد زمینی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔
4/35 اسرائیل نے غزہ پر سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد ہی فضائی حملے شروع کر دیے تھے جب کہ لگ بھگ تین ہفتوں کے بعد زمینی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔
اسرائیل کے مطابق سات اکتوبر کو حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں عام شہریوں کی اکثریت تھی۔ حماس نے اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر زمین، فضا اور بحری راستے سے ایک ساتھ حملہ کیا تھا۔
5/35 اسرائیل کے مطابق سات اکتوبر کو حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں عام شہریوں کی اکثریت تھی۔ حماس نے اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر زمین، فضا اور بحری راستے سے ایک ساتھ حملہ کیا تھا۔
اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کرکے فلسطینیوں کو شمالی غزہ خالی کرنے کے احکامات دیے تھے جس کے بعد ایک ایک کرکے بیشتر علاقوں کو شہریوں نے انخلا کیا اور اب رفح کے قریب پناہ گزین کیمپ میں ان کی اکثریت موجود ہے۔
6/35 اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کرکے فلسطینیوں کو شمالی غزہ خالی کرنے کے احکامات دیے تھے جس کے بعد ایک ایک کرکے بیشتر علاقوں کو شہریوں نے انخلا کیا اور اب رفح کے قریب پناہ گزین کیمپ میں ان کی اکثریت موجود ہے۔
اسرائیل کے غزہ پر حملے کے بعد بھی حماس نے میزائل حملوں میں  اسرائیلی علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
7/35 اسرائیل کے غزہ پر حملے کے بعد بھی حماس نے میزائل حملوں میں  اسرائیلی علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
غزہ میں اسرائیل کے حملوں کے سبب بیشتر عمارتین تباہ ہو چکی ہیں۔ امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تباہ حال عمارتیں اب رہنے کے قابل نہیں ہیں۔
8/35 غزہ میں اسرائیل کے حملوں کے سبب بیشتر عمارتین تباہ ہو چکی ہیں۔ امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تباہ حال عمارتیں اب رہنے کے قابل نہیں ہیں۔
حماس نے ساتھ اکتوبر 2023 کے حملے میں ڈھائی سو سے زائد افراد کو یرغمال بنایا تھا جن میں سے 100 سے زائد کو نومبر میں چند دن کی جنگ بندی میں رہا کر دیا گیا تھا جب کہ 100 اسرائیلی اب بھی حماس کی تحویل میں ہیں۔
9/35 حماس نے ساتھ اکتوبر 2023 کے حملے میں ڈھائی سو سے زائد افراد کو یرغمال بنایا تھا جن میں سے 100 سے زائد کو نومبر میں چند دن کی جنگ بندی میں رہا کر دیا گیا تھا جب کہ 100 اسرائیلی اب بھی حماس کی تحویل میں ہیں۔
اسرائیل اور حماس میں نومبر 2023 میں چند دن کی جنگ بندی کے دوران حماس نے 100 سے زائد یرغمالوں کو رہا کیا تھا جب کہ اس دوران اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کو رہائی ملی تھی۔
10/35 اسرائیل اور حماس میں نومبر 2023 میں چند دن کی جنگ بندی کے دوران حماس نے 100 سے زائد یرغمالوں کو رہا کیا تھا جب کہ اس دوران اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کو رہائی ملی تھی۔
اسرائیل نے غزہ میں کئی اسپتالوں میں بھی کارروائی کی ہے۔ اسرائیلی فورسز کا الزام ہے کہ حماس ان اسپتالوں کے نیچے سرنگوں کو اپنی عسکری کارروائیوں کے لیے استعمال کرتی ہے جب کہ حماس ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔
11/35 اسرائیل نے غزہ میں کئی اسپتالوں میں بھی کارروائی کی ہے۔ اسرائیلی فورسز کا الزام ہے کہ حماس ان اسپتالوں کے نیچے سرنگوں کو اپنی عسکری کارروائیوں کے لیے استعمال کرتی ہے جب کہ حماس ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔
حماس کی تحویل میں موجود 100 سے زائد یرغمالوں کی رہائی کے لیے اسرائیل میں مسلسل احتجاج ہو رہا ہے۔
12/35 حماس کی تحویل میں موجود 100 سے زائد یرغمالوں کی رہائی کے لیے اسرائیل میں مسلسل احتجاج ہو رہا ہے۔
اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ وہ حماس کے خاتمے اور یرغمالوں کی رہائی تک جنگ جاری رکھے گا البتہ آدھا سال گزرنے کے باوجود اسرائیل یرغمالوں کو بازیاب کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔
13/35 اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ وہ حماس کے خاتمے اور یرغمالوں کی رہائی تک جنگ جاری رکھے گا البتہ آدھا سال گزرنے کے باوجود اسرائیل یرغمالوں کو بازیاب کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔
عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں چھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران فلسطینیوں کو امداد کی فراہمی ناکافی ہے۔ ان کو خوراک، ادویات اور دیگر ضروریات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
14/35 عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں چھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران فلسطینیوں کو امداد کی فراہمی ناکافی ہے۔ ان کو خوراک، ادویات اور دیگر ضروریات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
اسرائیل کے حملوں میں فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے امدادی رضاکار بھی ہلاک ہوئے ہیں جس کے سبب اسرائیل پر جنگ بندی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
15/35 اسرائیل کے حملوں میں فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے امدادی رضاکار بھی ہلاک ہوئے ہیں جس کے سبب اسرائیل پر جنگ بندی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے جنگ میں ڈھائی سو سے زائد اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
16/35 اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے جنگ میں ڈھائی سو سے زائد اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
غزہ کی آبادی لگ بھگ 23 لاکھ ہے جس میں سے 90 فی صد سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان بے گھر فلسطینیوں کی اکثریت رفح میں عارضی کمیپوں میں منتقل ہو چکی ہے۔
17/35 غزہ کی آبادی لگ بھگ 23 لاکھ ہے جس میں سے 90 فی صد سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان بے گھر فلسطینیوں کی اکثریت رفح میں عارضی کمیپوں میں منتقل ہو چکی ہے۔
اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم گزشتہ چھ ماہ میں حماس کے میزائل حملوں کو ناکام بناتا رہا ہے۔
18/35 اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم گزشتہ چھ ماہ میں حماس کے میزائل حملوں کو ناکام بناتا رہا ہے۔
غزہ میں جنگ کے دوران ہلاک ہونے والوں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔
19/35 غزہ میں جنگ کے دوران ہلاک ہونے والوں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔
اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر حماس کے حملوں اور لبنان سے عسکری تنظیم حزب اللہ کے میزائل حملوں کے سبب شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
20/35 اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر حماس کے حملوں اور لبنان سے عسکری تنظیم حزب اللہ کے میزائل حملوں کے سبب شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
غزہ کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی کارروائیوں میں چار سو سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔
21/35 غزہ کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی کارروائیوں میں چار سو سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔
غزہ میں بیشتر اسپتال بند ہو چکے ہیں اور جو چند اسپتال فعال ہیں ان میں بھی پوری استعداد کے ساتھ زخمیوں کا علاج کرنے کی سہولیات موجود نہیں ہیں جس کے سبب رضاکار زیادہ اموات کا اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
22/35 غزہ میں بیشتر اسپتال بند ہو چکے ہیں اور جو چند اسپتال فعال ہیں ان میں بھی پوری استعداد کے ساتھ زخمیوں کا علاج کرنے کی سہولیات موجود نہیں ہیں جس کے سبب رضاکار زیادہ اموات کا اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
23/35 عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
غزہ میں مسلسل اموات کے سبب ہلاک ہونے والوں کو اب اجتماعی قبروں میں دفنایا جا رہا ہے۔
24/35 غزہ میں مسلسل اموات کے سبب ہلاک ہونے والوں کو اب اجتماعی قبروں میں دفنایا جا رہا ہے۔
اسرائیل میں شہریوں کی جانب سے یرغمالوں کی بازیابی اور حکومت سے مستعفی ہونے کے لیے احتجاج میں بھی شدت آتی جا رہی ہے۔
25/35 اسرائیل میں شہریوں کی جانب سے یرغمالوں کی بازیابی اور حکومت سے مستعفی ہونے کے لیے احتجاج میں بھی شدت آتی جا رہی ہے۔
پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں جنگ بندی اور غزہ میں امداد کی فراہمی کے لیے احتجاج کیا جا رہا ہے۔
26/35 پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں جنگ بندی اور غزہ میں امداد کی فراہمی کے لیے احتجاج کیا جا رہا ہے۔
امریکہ سمیت بعض ممالک غزہ میں شہریوں کو فضا سے امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
27/35 امریکہ سمیت بعض ممالک غزہ میں شہریوں کو فضا سے امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسرائیلی فورسز حماس کی کئی سرنگیں تباہ کر چکی ہے جب کہ فورسز کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے حماس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو تباہ کر دیا ہے۔
28/35 اسرائیلی فورسز حماس کی کئی سرنگیں تباہ کر چکی ہے جب کہ فورسز کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے حماس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو تباہ کر دیا ہے۔
اسرائیل میں وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے استعفے کے لیے مسلسل احتجاج ہو رہا ہے۔
29/35 اسرائیل میں وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے استعفے کے لیے مسلسل احتجاج ہو رہا ہے۔
حماس کے زیرِ انتظام غزہ کے محکمۂ صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کی کارروائیوں میں 33 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 75 ہزار زخمی ہوئے ہیں۔
30/35 حماس کے زیرِ انتظام غزہ کے محکمۂ صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کی کارروائیوں میں 33 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 75 ہزار زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد اسرائیلی شہریوں میں اپنے دفاع کے لیے ہتھیار چلانا سیکھنا اور اپنے پاس رکھنے کی شرح بڑھ رہی ہے۔
31/35 اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد اسرائیلی شہریوں میں اپنے دفاع کے لیے ہتھیار چلانا سیکھنا اور اپنے پاس رکھنے کی شرح بڑھ رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کی قرار داد کثرت رائے سے منظور ہو چکی ہے البتہ اب بھی غزہ میں لڑائی جاری ہے۔
32/35 اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کی قرار داد کثرت رائے سے منظور ہو چکی ہے البتہ اب بھی غزہ میں لڑائی جاری ہے۔
رفح میں قائم عارضی کمیپوں میں فلسطینیوں کو بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں ہیں۔
33/35 رفح میں قائم عارضی کمیپوں میں فلسطینیوں کو بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں ہیں۔
غزہ کے شمالی اور وسطی علاقوں سے فلسطینی نقل مکانی کرکے مصر کی سرحد کے قریب عارضی کمیپوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔
34/35 غزہ کے شمالی اور وسطی علاقوں سے فلسطینی نقل مکانی کرکے مصر کی سرحد کے قریب عارضی کمیپوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔
اسرائیل اور حزب اللہ میں بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور دونوں جانب سے عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
35/35 اسرائیل اور حزب اللہ میں بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور دونوں جانب سے عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
Previous slide
Next slide

حماس کے سات اکتوبر کے حملے میں اسرائیل میں 1200 لوگ مارے گئے تھے جب کہ ڈھائی سو لوگوں کو یرغمال بنالیا گیا تھا۔

حماس نے یرغمال افراد میں سے کئی کی ویڈیوز جاری کی تھیں۔ نوا ارگمانی کے اغوا کی ویڈیو سب سے پہلے منظر عام پر آنے والی ویڈیوز میں شامل تھی۔

ان کے انتہائی خوف زدہ چہرے کی تصاویر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی تھیں۔

نوا ارگمانی کو ایک موٹر سائیکل پر دو مردوں کے درمیان اس عالم میں بیٹھے ہوئے دیکھا گیا تھا کہ ان کا ایک بازو پھیلا ہوا تھا اور دوسرا نیچے تھا اور وہ چیخ رہی تھیں کہ انہیں ہلاک نہ کیا جائے۔

چھبیس سالہ نوا ارگمانی کے بارے میں کم ہی خبریں سامنے آئی ہیں۔ لیکن وسط جنوری میں حماس نے ان کی قید میں ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں وہ کمزور لیکن غصے اور دباؤ میں لگتی ہیں اور ان دوسرے یرغمالوں کے بارے میں بات کر رہی تھیں جو فضائی حملوں میں مارے گئے تھے۔

اس ویڈیو میں انہوں نے انتہائی جزباتی انداز میں اسرائیل سے انہیں اور دوسروں کو گھر واپس لانے کا مطالبہ کیا تھا۔

نصف برس سے جنگ جاری ہے اور ارگمانی جیسے خاندانوں کے لیے وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔

جنگ طول پکڑتی جا رہی ہے اور بظاہر اس کا کوئی اختتام نظر نہیں آتا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ 130 سے زائد یرغمال اب بھی حماس کی تحویل میں ہیں جب کہ ایک چوتھائی یرغمالوں کے بارے میں باور کہا جاتا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیل میں یرغمال افراد کی رہائی کے بارے میں اختلاف بڑھتا جا رہا ہے کہ انہیں واپس لانے کا بہترین راستہ کون سا ہے؟

اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو حماس کو ختم کرنے اور یرغمالوں کو گھر لانے کا عزم ظاہر کرتے رہے ہیں۔ لیکن وہ تھوڑی ہی پیش رفت کر سکے ہیں ان پر استعفے کے لیے دباؤ ہے جب کہ دوسری جانب امریکہ نے غزہ بھی میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتِ حال پر اسرائیل کے لیے اپنی حمایت واپس لینے کی دھمکی دی ہے۔

’اے پی‘ کے مطابق اسرائیل کے شہری دو حصوں میں بٹ چکے ہیں۔ ایک وہ ہیں جو چاہتے ہیں کہ جنگ کو روکا جائے اور یرغمالوں کو آزاد کرایا جائے جب کہ دوسرے وہ اسرائیلی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یرغمال ایک ایسی تکلیف دہ قیمت ہیں جو حماس کو ختم کرنے کے لیے ادا کرنی ہے۔

قطر، امریکہ اور مصر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں بھی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔ یہ مذاکرات کبھی شروع ہو جاتے ہیں جب کہ کبھی رک جاتے ہیں۔

اسرائیلی پارلیمانی کی ایک کمیٹی کی حالیہ میٹنگ میں شرکا ایسے پوسٹرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر یرغمالوں کی تصاویر تھیں۔

یارڈن گونین کی 23 سالہ بہن رومی کو بھی سات اکتوبر کے میوزک فیسٹیول سے اغوا کیا گیا تھا۔ انہوں نے بھی اس میٹنگ کے دوران اسکے لئے حکومت پر تنقید کی جسے انہوں نے حکومت کی بےعملی کہا۔

یرغمالون کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم کس کے لیے لڑ رہے ہیں؟ اس سے زیادہ اہم اور کیا ہے؟

یرغمالوں کے اہلِ خانہ کے ایک فورم کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو کے مطابق لیورا ارگمانی کے کینسر کی حالت اور بھی بگڑ چکی ہے۔

اپنے پیاروں کے لاپتا ہونے کا دباؤ لیورا ارگمانی جیسے افراد کے ساتھ ساتھ صحت مند لوگوں کے لیے بھی برداشت کرنا مشکل ہے۔

’اے پی‘ کے مطابق ایک سائیکو انالسٹ آفرٹ شپیرا برمن کے مطابق یہ صورتِ حال کینسر جیسے مرض کو اور بھی بدتر بنا دیتی ہے۔

اور ویڈیو میں نوا کے والد یاکوو ارگمانی اپنے آنسو پیتے ہوئے کہتے نظر آتے ہیں کہ وہ اپنی بیٹی کے حوالے سے ہر چیز کے لئے ترس رہے ہیں.

وہ اپنی بات شدت غم کے سبب پوری نہیں کرپاتے۔ بس سر ہلاتے ہیں اور کیمرہ بند ہو جاتا ہے۔

اس رپورٹ میں خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پرس‘ سے معلومات شامل کی گئی ہیں۔

This item is part of
XS
SM
MD
LG