رسائی کے لنکس

logo-print

زبردستی مذہب تبدیل کرانے کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں: میاں مٹھو


سابق رکن قومی اسمبلی اور گھوٹکی کی با اثر شخصیت میاں عبدالحق عرف میاں مٹھو نے ہندوؤں کو زبردستی مسلمان کرنے اور گھوٹکی میں مبینہ توہین مذہب کے واقعات کے بعد مندر پر حملوں کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے رد کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے ہاتھوں مسلمان ہونے والے ہندوؤں پر کوئی زبردستی نہیں کی جاتی اور وہ اپنے اوپر عائد الزامات کی تحقیقات کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔

سندھ کے علاقے گھوٹکی کی انتہائی بااثر سمجھی جانے والی مذہبی شخصیت اور سابق رکن قومی اسمبلی میاں عبدالحق عرف میاں مٹھو نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ وہ یا ان کے ساتھی سندھ میں زبردستی تبدیلی مذہب کے واقعات میں ملوث ہیں۔

کراچی میں اخباری کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھرچونڈی شریف درگاہ میں ان کے ہاتھوں مسلمان ہونے والے ہندو اپنی مرضی سے اسلام قبول کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کی جاتی، ’’کیونکہ اسلام امن اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے جس میں کسی پر کوئی زبردستی نہیں اور کسی کو زبردستی مسلمان کرنے پر تو پیغمبر اسلام نے بھی منع کیا ہے‘‘۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’’بعض این جی اوز ملک کو بد نام کرنے کے لیے پیسے لے کر‘‘ ان کے خلاف غلط خبریں نشر کرواتی ہیں، جس کا مقصد، بقول ان کے، ’’بیرونی دنیا میں پاکستان کا تاثر خراب کرنا ہے‘‘۔

میاں عبدالحق عرف مٹھو نے دعویٰ کیا کہ ان کا ہندو برادری کے ساتھ مکمل احترام کا رشتہ ہے اور وہ علاقے میں رہنے والے ہندوؤں کے دکھ درد میں بھی برابر کے شریک ہوتے ہیں جبکہ بطور رکن قومی اسمبلی انہوں نے ہندو برادری کی بہتری کے لئے کئی منصوبے شروع کئےتھے۔ میاں مٹھو نے دعویٰ کیا کہ اگر کسی ایک بھی شخص کو زبردستی اسلام قبول کروایا گیا ہے تو ثابت کیا جائے وہ اس بارے میں ہونے والی ہر تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔

تاہم، میاں عبدالحق عرف میاں مٹھو کے بقول، یہ ایک شرعی مسئلہ ہے کہ اگر کوئی لڑکا لڑکی آپ کے پاس کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کرنے کے لئے آتے ہیں اور اگر آپ ان کو منع کردیں تو آپ خود اسلام سے خارج ہو جائیں گے۔ اس لئے، ان کے بقول، وہ مجبور ہیں کہ جو بھی ان کے پاس مسلمان ہونے کے لئے آئے گا تو وہ اسے کلمہ پڑھائیں گے۔

انہوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ وہ اور ان کے ساتھی نو مسلموں کی مالی معاونت کے لئے ضرور کوشش کرتے ہیں۔

اس سوال پر کہ صرف کم عمر ہندو لڑکیاں ہی کیوں مسلمان ہوتی ہیں، میاں مٹھو کےساتھ پریس کانفرنس میں شریک ان کے بیٹے میاں اسلم کا کہنا تھا کہ کم عمر لڑکیوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں لڑکے حتیٰ کہ ضعیف العمر شخص بھی مسلمان ہوئے ہیں۔ لیکن، ایسی خبریں شائع یا انہیں اہمیت نہیں دی جاتی۔ اس موقع پر انہوں نے صحافیوں کو وہ فہرست بھی دکھائی، جو ان کے بقول، ایسے افراد کی ہے جنہوں نے بھرچونڈی شریف کی درگاہ میں جا کر اسلام قبول کیا۔

میاں اسلم نے دعویٰ کیا کہ وہ اور ان کے خاندان کے دیگر افراد ملکی قوانین کا مکمل احترام کرتے ہیں اور صرف بالغ خواتین ہی کا نکاح پڑھایا جاتا ہے جن میں کئی نومسلم خواتین بھی شامل ہوتی ہیں، تاکہ اسلام قبول کرنے کے بعد انہیں اپنا محرم ساتھی مل جائے اور وہ باآسانی زندگی گزار سکیں۔ اور ایسے افراد کا قانونی دستاویز پر بیان ریکارڈ کرا کر عدالت میں بھی جمع کرایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ سندھ میں رائج قوانین کے تحت 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کرانا جرم ہے جس پر نکاح خوان کو بھی گرفتار اور قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

میاں مٹھو کون ہیں؟

میاں عبدالحق عرف میاں مٹھو کا خاندان سندھ کےشہر گھوٹکی میں واقع مشہور اور تاریخی درگاہ بھرچونڈی شریف کا متولی ہے۔ تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما مولانا عبید اللہ سندھی سمیت کئی مشہور علمائے کرام کا تعلق بھی اس درگاہ سے رہا ہے۔ میاں مٹھو نے سب سے پہلے جنرل ضیا الحق کے دور میں غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور پھر ان کی پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ وابستگی رہی۔ تاہم، انہیں 2008 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کا ٹکٹ ملا اور حلقے سےپارٹی ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرکے رکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہوئے۔تاہم، 2013 کے بعد سےمیاں مٹھو اور پیپلز پارٹی کی راہیں جدا ہوگئیں۔

میاں مٹھو پر ایک جانب کم عمر غیر مسلموں بالخصوص ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کرنے پر مجبور کرنے اور ان کے نکاح کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے وہیں گذشتہ ماہ مبینہ توہین مذہب کا واقعہ سامنے آنے کے بعد گھوٹکی میں مندر پر حملے کا بھی الزام عائد کیا گیا، جس سے انہوں نے مکمل انکار کیا ہے۔

انسانی حقوق کے کئی کارکنان اور بعض سیاسی رہنما بھی میاں مٹھو پر مذہبی اقلیتوں کو دباؤ میں رکھنے اور انہیں زبردستی تبدیلی مذہب پر مجبور کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے آئے ہیں۔ اور اس پر انہیں گرفتار کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آچکا ہے۔

میاں مٹھو نے پیپلز پارٹی سے راہیں الگ کرنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کی بھی کوششیں کیں اور اس دوران ان کی ایک ملاقات عمران خان سے بھی ہوئی۔ لیکن، یہاں بھی پارٹی میں شمولیت کی جب بات آئی تو پارٹی کے اندر سے بہت سے لوگوں نے ان کی شمولیت پر اعتراض کیا اور وہ تحریک انصاف میں بھی شامل نہیں ہو سکے۔ تاہم، اس کے باوجود بھی علاقے میں ان کے اثر و رسوخ سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان ہندو کونسل کا کیا مؤقف ہے؟

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور پاکستان ہندو کونسل کے رہنما رمیش کمار وانکوانی کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی مذہب کا ٹھیکیدار بننے کی اجازت نہیں ہونی چائیے۔ ان کے مطابق، میاں عبدالحق جیسے کئی لوگ انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ یہ کام سر انجام دیتے ہیں جو انکے خیال میں تبدیلی مذہب سے بھی بڑھ کر کسی کو زبردستی شادی کرانے اور اس کی زندگی کے فیصلے کرنے کا ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ تبدیلی مذہب کے بالکل خلاف نہیں۔ لیکن، اس کا ایک ضابطہ کار ہونا ضروری ہے، تاکہ کسی پر زبردستی مسلط نہ کی جا سکے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وجہ ہے کہ ان کی بھرچونڈی شریف درگاہ سے منسلک اوطاق میں ہندو مذہب سے اسلام قبول کرنےوالوں میں سے اکثر کم عمر لڑکیاں ہی کیوں ہوتی ہیں؟ ان کے خیال میں اس مسئلے کا واحد حل اس بارے میں قانون سازی ہی سے ممکن ہے جس کے لئے انہوں نے قومی اسمبلی میں بل پیش کر رکھا ہے جو ابھی زیر التوا ہے۔

واضح رہے کہ تبدیلی مذہب سے متعلق سندھ اسمبلی کی جانب سے پاس کیا گیا بل مذہبی طبقات کی جانب سے زبردست مخالفت کے بعد گورنر کی منظوری حاصل نہ کر سکا تھا، جبکہ صوبے میں برسر اقتدار پیپلز پارٹی نے اسے دوبارہ قانون سازی کے لئے بھی اسمبلی میں پیش نہیں کیا، جس کی وجہ سے وہ بل قانون کی شکل اختیار نہ کر سکا تھا۔

سندھ میں چند سالوں کے دوران زبردستی تبدیلی مذہب کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے: انسانی حقوق کی تنظیمیں

انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ سندھ میں زبردستی تبدیلی مذہب کے واقعات میں گزشتہ چند سالوں کے دوران اضافہ ہوا ہے، خاص طور ایسے واقعات صوبے کے ضلع گھوٹکی، عمر کوٹ، کندھ کوٹ اور کشمور میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

’ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان‘ کی شریک چئیرپرسن عظمیٰ نورانی کے مطابق سندھ میں زبردستی تبدیلی مذہب ایک حقیقت ہے جو ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اور اس میں کئی افراد ملوث ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مذہبی افراد کے نزدیک کسی کو مسلمان کرنے کا مقصد ثواب حاصل کرنا ہوتا ہے اور جب یہ سوچ پروان چڑھتی ہے تو اس کا اثر ہمارے کریمینل جسٹس سسٹم پر پڑتا ہے اور اس نظام میں موجود ہر شخص اس سے متاثر ہوتا ہے۔

اسی سال میرپورماتھیلو سے تعلق رکھنے والی دو ہندو بہنوں رینہ اور روینہ نے بھی بھرچونڈی شریف کے متولی کی اوطاق میں ہی اسلام قبول کیا جس کے بعد انہیں ان کے مسلمان شوہروں کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک کر دیا گیا۔ تاہم، رینہ اور روینہ کے والدین کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹیوں کو اغوا کرکے لے جایا گیا اور اگلے دن خبر آئی کہ وہ مسلمان ہوچکی ہیں، جبکہ والدین کے خیال میں وہ ابھی بلوغت کی عمر کو بھی نہیں پہنچی تھیں اس لئے وہ اپنی شادی کا فیصلہ بھی خود کرنے کی بھی مجاز نہیں تھیں۔

تاہم، معاملہ جب عدالت میں پہنچا اور وہاں میڈیکل بورڈ نے رپورٹ پیش کی کہ دونوں لڑکیوں کی عمر 18 سال سے زائد ہے جس کی روشنی میں عدالت نے خواتین کو اپنے شوہروں کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی تھی۔ اسی طرح ہندو خاتون رینکل کماری کے مبینہ اغوا اور تبدیلی مذہب کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بنتی رہی ہیں۔ لیکن ان تمام واقعات میں میاں مٹھو اور ان کے ساتھی کسی بھی قسم کی زبردستی اسلام قبول کرانے کے عمل کی سختی سے نفی کرتے آئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، اس اہم مسئلے پر جہاں قوانین کی عدم موجودگی مسائل پیدا کرتی ہے وہیں خواتین پر مبینہ دباؤ کے ذریعے بھی باآسانی ان سے عدالت میں اپنی مرضی کا بیان حاصل کروا لیا جاتا ہے جس کے باعث زبردستی تبدیلی مذہب کو روکنا ناممکن بنا جاتا ہے۔

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جبری تبدیلی مذہب کے خلاف تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے قوانین تیار کئے جائیں اور پھر اس پر سختی سے عمل بھی کروایا جائے، جبکہ دوسری جانب معاشرے میں بالخصوص خواتین میں اپنے حقوق سے متعلق شعور اجاگر کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG