رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کو کلبھوشن یادھو تک سفارتی رسائی دینے کی پیشکش


کلبھوشن یادھو (فائل فوٹو)

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے کہا ہے کہ پاکستان نے بھارت کو زیرِ حراست مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادھو تک رسائی دینے کی پیشکش کی ہے اور بھارتی سفارت کار جمعے کو کلبھوشن سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

گزشتہ ماہ عالمی عدالتِ انصاف نے پاکستان کو حکم دیا تھا کہ وہ بھارت کو کلبوشن یادھو تک سفارتی رسائی دے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا ہے کہ بھارت کو پاکستان کی پیشکش موصول ہوگئی ہے اور بھارتی حکومت عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے کے تناظر میں پاکستان کی تجویز کا جائزہ لے گی۔

ترجمان کے بقول، بھارت اس معاملے پر سفارتی ذرائع سے پاکستان سے بات چیت کرے گا۔

طالبان کا مجوزہ دورۂ پاکستان

جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل کا مزید کہنا تھا کہ افغان طالبان کے دورۂ اسلام آباد سے متعلق تفصیلات طے کی جا رہی ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے دورۂ امریکہ کے دوران کہا تھا کہ وہ افغان طالبان سے ملاقات کر کے انھیں افغان حکومت سے بات چیت پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔

واضح رہے کہ امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد اپنا دورۂ کابل مکمل کرنے کے بعد افغان امن عمل کے بارے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت پر پاکستانی حکام سے تبادلۂ خیال کے لیے جمعرات کو اسلام آباد پہنچے ہیں۔

خلیل زاد اسلام آباد میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کے بعد قطر کے دارالحکومت دوحا جائیں گے جہاں وہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ایک اور دور میں امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔

جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان، طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے، تاکہ افغانستان اور خطے میں امن قائم ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کا عزم رکھتے ہیں اور اسی لیے وہ تمام افغان دھڑوں کی شمولیت کے ساتھ افغانوں کی قیادت اور سرپرستی میں امن عمل پر زور دے رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

ترجمان نے اس توقع کا اظہار کیا کہ افغان دھڑوں کے درمیان بات چیت کا آئندہ دور جامع ہوگا جس میں تمام افغان دھڑے شریک ہوں گے۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحا میں بات چیت کے آئندہ دور میں فریقین کے درمیان زیرِ بحث معاملات پر مفاہمت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس تناظر میں فریقین کی پاکستان سے کیا توقعات ہو سکتی ہیں، اس سوال پر ترجمان محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان امن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ مستحکم، جمہوری اور خوشحال افغانستان کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔

ان کے بقول، پاکستان کی مسلسل کوششوں سے امن کو تقویت ملی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ دورۂ پاکستان سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ اس دورے پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے اور اس حوالے سے کام جاری ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے دورۂ امریکہ کے دوران صدر ٹرمپ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تھی جو صدر ٹرمپ نے قبول بھی کرلی تھی۔ لیکن ابھی تک وائٹ ہاؤس کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG