رسائی کے لنکس

logo-print

32 سال پرانا تعلق منقطع، انیس ایڈووکیٹ بھی ایم کیو ایم چھوڑ گئے


مصطفی کمال کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انیس ایڈووکیٹ نے کہا کہ ذہنی طور پر تو وہ تین سال پہلے ہی مصطفی کمال کے قافلے میں شامل ہوگئے تھے لیکن اس کا باضابطہ اعلان اب کر رہے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ سے 32 برسوں تک وابستہ رہنے والے اور لندن سیکریٹریٹ کے سابق اہم رکن انیس ایڈووکیٹ نے بھی کراچی میں پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے سابق ناظم مصطفیٰ کمال کے گروپ میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

پیر کو مصطفی کمال کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انیس ایڈووکیٹ نے کہا کہ ذہنی طور پر تو وہ تین سال پہلے ہی مصطفی کمال کے قافلے میں شامل ہوگئے تھے لیکن اس کا باضابطہ اعلان اب کر رہے ہیں۔

پریس کانفرنس میں مصطفی کمال، ڈاکٹر صغیر احمد اور انیس قائم خانی بھی موجود تھے۔

انیس ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ وہ 32 برسوں تک ایم کیو ایم اور اس کے سربراہ الطاف حسین کے ساتھ رابطے میں اور ان سے منسلک رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جو باتیں مصطفی کمال نے کیں وہ نئی نہیں، انہوں نے ایم کیوایم کے رہنماوٴں اور کارکنوں کے ضمیر کو جھنجوڑا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ لندن سے طے کرکے آئے ہیں کہ اپنے ملک میں رہ کر اپنی قوم کی خدمت کریں گے۔

پریس کانفرنس کے دوران انیس ایڈووکیٹ نے پارٹی پالیسی اور پارٹی کے سربراہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الطاف حسین سے مطالبہ کیا کہ ”وہ پاکستان آئیں اور درباریوں سے جان چھڑائیں۔“

اس موقع پر مصطفی کمال نے کہا کہ وہ انیس ایڈوکیٹ کو اپنے قافلے میں شمولیت پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ انہوں نے انیس ایڈووکیٹ کے تعارف میں کہا کہ وہ متحدہ قومی موومنٹ کے زونل انچارج اور رابطہ کمیٹی کے رکن رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG