رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی وزیرستان: جھڑپ میں چار مبینہ دہشت گرد ہلاک


فائل فوٹو

جمعرات کو شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر عسکریت پسندوں کے حملوں میں کم از کم تین فوجی ہلاک اور سات زخمی ہوئے تھے۔

شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے دو مختلف علاقوں میں حملوں کے بعد دہشت گردوں کے خلاف جوابی کاروائی کی ہے جس میں حکام کے دعوے کے مطابق چار دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں ایک مقامی جنگجو کمانڈر آفتاب عرف پڑاکے بھی شامل ہے۔

دیگر ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی لاشیں حکام نے اپنے قبضے میں لے لی ہیں جن کی شناخت کے لیے مقامی قبائلی عمائدین کی مدد لی جا رہی ہے۔

'آئی ایس پی آر' کے مطابق عسکریت پسندوں کے خلاف جوابی کارروائی خٹی کلی میں کی گئی جہاں پر مقامی رہائشیوں کے مطابق کارروائی سے قبل اور اس کے دوران کرفیو جیسی صورتِ حال نافذ تھی۔

جمعرات کو شمالی وزیرستان کے ضلعی ہیڈکوارٹر میران شاہ اور تحصیل بویا کے گاؤں بادامی میں سکیورٹی فورسز پر عسکریت پسندوں کے حملوں میں کم از کم تین فوجی ہلاک اور سات زخمی ہوئے تھے۔

زخمی اہلکار میران شاہ اور بنوں کے ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جکا رہی ہے۔

عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی لاشیں ان کی آبائی علاقوں کو روانہ کردی گئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک نائب صوبیدار اور دو سپاہی شامل ہیں۔

میران شاہ میں انتظامی عہدیداروں نے بتایا ہے کہ ذنہ خیل روڈ سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے باعث عام شہریوں کی آمد و رفت کے لیے بند ہے جب کہ کرفیو جیسی صورتِ حال کے باعث لوگ گھروں تک محصور ہیں۔

شمالی وزیرستان میں حالیہ چند ہفتوں کے دوران تواتر سے پرتشدد واقعات پیش آئے ہیں جس کے باعث مقامی آبادی میں خوف و ہراس ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG