رسائی کے لنکس

امریکہ میں باسکٹ بال ٹیم کے 14 ارکان کرونا وائرس کا شکار


فائل فوٹو

کہتے ہیں کہ کھیل کے میدان آباد ہوں تو اسپتال ویران ہو جاتے ہیں۔ عام حالات میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ لیکن عالمگیر وبا کے زمانے میں اسپتال بھرے ہوئے ہیں اور کھیلوں کے میدان آباد ہونے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو پا رہی ہیں۔

امریکہ میں کھیلوں کی صنعت اربوں ڈالر مالیت کی ہے اس لیے عام کاروبار کھولنے سے زیادہ اسے بحال کرنے کی فکر زیادہ لوگوں کو ہے۔ بیس بال، باسکٹ بال، امریکن فٹبال اور آئس ہاکی یہاں مقبول کھیل ہیں۔ امریکن فٹبال رگبی جیسے کھیل کو کہتے ہیں۔

امریکہ میں وبا کے ابتدائی زور کے بعد کیسز میں کمی ہوئی تو کاروبار کے ساتھ کھیلوں کی رونقیں بحال کرنے کے منصوبے بننے لگے۔ کیسز اب دوبارہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن، اس امید پر چند کھیلوں کا آغاز کر دیا گیا کہ کنٹرولڈ ماحول میں سب اچھا رہے گا۔

سب اچھا نہیں ہے۔ میجر لیگ بیس سال کا آغاز 23 جولائی کو ہوا ہے۔ صرف چار دن بعد میامی کی ٹیم اور عملے کے 14 ارکان کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے۔ سنسناٹی کی ٹیم کے بھی کئی ارکان کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ اٹلانٹا کی ٹیم کے دو کھلاڑیوں میں علامات ظاہر ہوئی ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی کے اسٹار کھلاڑی یوآن سوٹو آئی سی یو میں ہیں۔

ابتدائی طور پر چند ایک میچ ملتوی کردیے گئے ہیں، لیکن خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ لیگ ہی روک دی جائے گی۔ وسط مارچ میں صرف ایک کھلاڑی روبی گوبرٹ کا کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کے 48 گھنٹوں کے اندر ہر اہم لیگ ملتوی کردی گئی تھی۔

میجر لیگ بیس سال میں 30 ٹیمیں حصہ لیتی ہیں اور 60 میچز کھیلے جاتے ہیں۔ اگر اسے ملتوی نہ کیا گیا تو مقابلے 31 اکتوبر تک جاری رہیں گے۔

کھیلوں کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس سال نیشنل فٹبال لیگ نہیں ہوسکے گی۔ کالج فٹبال سیزن کے بارے میں سوچنا ہی حماقت ہے۔ نیشنل ہاکی لیگ میں وقت ہے لیکن اس کا امکان بھی معدوم ہورہا ہے۔

امید کی ایک کرن نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن کا سیزن ہے جو 11 مارچ کو معطل کیا گیا تھا اور 30 جولائی سے بحال ہورہا ہے۔ اس کے لیے 22 ٹیموں کے 350 کھلاڑیوں اور عملے کے ارکان کو اورلینڈو کے والٹ ڈزنی ورلڈ پہنچایا گیا ہے اور تماشائیوں کے بغیر میچز کا پروگرام ہے۔

لیکن، مسئلہ یہ ہے کہ والٹ ڈزنی ورلڈ ریاست فلوریڈا میں واقع ہے۔ فلوریڈا ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور ہر روز ہزاروں مریضوں کی تصدیق ہورہی ہے۔

ادھر یورپ میں کرونا وائرس کی لہر کمزور پڑنے کے بعد کھیلوں کی سرگرمیاں بحال ہوئی ہیں۔ اگرچہ یورو 2020 فٹبال کو ایک سال کے لیے موخر کردیا گیا تھا، لیکن کئی قومی فٹبال لیگز بحال ہوچکی ہیں۔

انٹرنیشنل کرکٹ مارچ میں معطل کردی گئی تھی جو اس ماہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز سے بحال ہوئی۔ پاکستان کرکٹ ٹیم بھی انگلینڈ میں ہے اور جلد ایکشن میں نظر آئے گی۔ لیکن اس کی تیاریوں کو بھی کئی کھلاڑیوں کے وائرس میں مبتلا ہونے نے متاثر کیا تھا۔

البتہ، ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کو ایک سال کے لیے آگے بڑھایا جا چکا ہے۔ کھیلوں کی دنیا کے سب سے بڑے مقابلے اولمپکس کو اس سال جاپان کے شہر ٹوکیو میں منعقد ہونا تھا۔ لیکن، انھیں بھی عالمگیر وبا کی وجہ سے ایک سال کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔ اگر وبا نہ پھوٹتی تو ان دنوں اولمپک مقابلے جاری ہوتے۔

ٹینس کے چار میں سے دو گرینڈ سلیم وبا سے متاثر ہوئے ہیں جن میں ومبلڈن کو منسوخ کردیا گیا، جبکہ فرنچ اوپن کو ستمبر تک ملتوی کیا گیا ہے۔ لیکن ابھی یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ تب بھی یہ ایونٹ ہوسکے گا یا نہیں۔

اپریل میں ٹینس کی سابق عالمی نمبر ایک فرانس کی امیلی موریسمو نے چار الفاظ میں صرف کھیلوں کا نہیں، پوری دنیا کے مستقبل کا فیصلہ سنادیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا، ''نو ویکسین نو ٹینس''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG