رسائی کے لنکس

logo-print

ٹی ایل پی کا احتجاج: فرانس کا شہریوں کو عارضی طور پر پاکستان چھوڑنے کا مشورہ


فائل فوٹو

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی کی منظوری دے دی ہے۔ جب کہ پاکستان میں فرانسیسی سفارت خانے نے تمام فرانسیسی شہریوں کو عارضی طور پر پاکستان چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق گزشتہ کئی روز سے پاکستان میں جاری پُر تشدد مظاہروں کے بعد فرانس کے سفارت خانے نے اس بارے میں فیصلہ کیا ہے۔

فرانس کے سفارت خانے نے کہا ہے کہ پاکستان میں فرانس کے مفادات کو لاحق سنگین خطرات کے باعث فرانسیسی شہریوں اور کمپنیوں کو عارضی طور پر ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں مقیم فرانس کے شہریوں کو سفارت خانے کی ارسال کی گئی ای میل میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کی روانگی دستیاب کمرشل ایئر لائنز کے ذریعے انجام دی جائے گی۔

سفارت خانے کا کہنا ہے کہ اس نے احتیاطی طور پر پاکستان میں موجود شہریوں کو اگر ممکن ہو تو، ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ حالیہ احتجاج نے فرانس کے شہریوں کے لیے سیکیورٹی کے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ فرانس کا پاکستان میں سفارت خانہ بند نہیں ہوا البتہ محدود عملے کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

ٹی ایل پی اور پولیس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
ٹی ایل پی اور پولیس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

ادھر وفاقی وزیر مذببی اُمور پیر نور الحق قادری کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے تصدیق کی کہ کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی منظوری دے دی ہے اور حکومت اب ٹی ایل پی کو ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ "ہم نے بات چیت سے مسائل حل کرنے کی پوری کوشش کی۔ تحریک لبیک کے عزائم خطرناک تھے اور وہ اپنے ایجنڈے سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھے۔"

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ یورپی سفیروں کو ملک سے نکالنے سے مسائل پیدا ہو سکتے تھے تاہم اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فرانس کے تمام شہری محفوظ ہیں۔

'حکومت اور ریاست کا کام منت سماجت نہیں ہوتا'

وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا کہ ہم اسمبلی میں قرارداد کے حوالے سے کبھی اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔ ہم ایسی قرارداد لانا چاہتے تھے جس کے سفارتی اثرات کم سے کم ہوں اور سفارتی و عالمی محاذ پر پاکستان کسی بحران کا شکار نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ حکومت 'ٹی ایل پی' کے ساتھ مذاکرات کر رہی تھی لیکن باخبر ذرائع سے پتا چلا کہ ان کی 20 اپریل سے دھرنا دینے کی بھرپور تیاریاں جاری ہیں۔

نورالحق قادری نے کہا کہ ٹی ایل پی کی قیادت نے حکومتی وفد سے ملاقات سے پہلے ہی 20اپریل کو رات 12 بجے دھرنے کی کال دے دی۔ مذاکرات جب نتیجے پر نہیں پہنچے تھے تو ایسی کال دینے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں تھا۔

وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ ہم نے پارلیمانی کمیٹی بنا کر متفقہ مسودہ لانے کی پیش کش کی لیکن وہ بضد تھے کہ جو ہم نے کہا ہے وہ مان لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتوں اور ریاستوں کا کام منت سماجت نہیں ہوتا لیکن ہم نے انہیں سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی۔

ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری پر آنے والے ردِعمل سے متعلق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سیاسی قائدین کی گرفتاریاں ہوتی رہتی ہیں لیکن اس گرفتاری پر جیسا ردعمل دیا گیا اس کو اخلاقی، سیاسی اور شرعی نہیں کہا جا سکتا۔

کیا تحریکِ لبیک عسکریت پسندی کی جانب جا سکتی ہے؟

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اس بارے میں ٹوئٹ کی تھی کہ تحریک لبیک جیسے شدت پسند گروہ اسلام کی شناخت کو بدلنا اور تشدد، انتہا پسندی کو ہوا دینا چاہتے ہیں، لہذٰا ایسے گروہ کی کوششوں کو ناکام بنانا ہر مسلمان کا فرض ہے۔

اس سوال پر کہ یہ جماعت آئندہ کس صورت میں سامنے آئے گی، سینئر صحافی اعزاز سید کہتے ہیں کہ اس جماعت پر دہشت گردی کے واضح الزامات عائد کیے گئے ہیں اور اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ یہ جماعت انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کی جانب راغب ہو سکتی ہے۔

اعزاز سید کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز کالعدم تحریک طالبان نے بھی ٹی ایل پی کی حمایت کا اعلان کیا جس سے یہ امکان ظاہر ہوتا ہے کہ ٹی ایل پی میں موجود سخت گیر مؤقف رکھنے والے افراد عسکریت پسندی کی طرف بھی جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی سطح پر اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ اس جماعت کا وجود ملک کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے جس سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ لہذٰا اس جماعت کو موجودہ قیادت کے ہوتے ہوئے مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار شکیل انجم کہتے ہیں کہ اس جماعت پر پابندی میں صرف مقامی نہیں بلکہ بین الاقوامی دباؤ بھی موجود تھا، پورا یورپ اس حوالے سے ایک پیج پر تھا، ایسے میں پاکستان کے لیے سخت سے سخت قدم اٹھانا بہت ضروری ہو گیا تھا۔

ٹی ایل پی کے مستقبل کے حوالے سے شکیل انجم کا کہنا تھا کہ ریاست کے ساتھ ٹکرانے والی جماعتوں کو کوئی مستقبل نہیں ہوتا کیوں کہ اُنہیں دوبارہ ابھرنے نہیں دیا جاتا۔

ٹی ایل پی کے خلاف 115 مقدمات درج، 2063 کارکنان گرفتار

دوسری جانب پنجاب حکومت کی وفاق کو ارسال کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کی ملک کے مختلف شہریوں میں ہنگامہ آرائی اور سڑکوں کی بندش سے معمولات متاثر ہوئے، پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار ہلاک جب کہ 580 زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق اس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 30 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ پولیس نے ٹی ایل پی کے 2063 کارکن گرفتار کیے جب کہ ان کےخلاف 115مقدمات درج کیے گئے۔

ٹی ایل پی پر پابندی کی کابینہ سے منظوری

تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کے حوالے سے کابینہ نے منظوری دے دی ہے جس کے بعد اب اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

سرکاری اعلامیے کے اجرا کے بعد الیکشن کمیشن کو بھی اس جماعت کے کالعدم ہونے کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا۔

ٹی ایل پی کے ارکان اسمبلی کو اجازت ہو گی کہ وہ آزاد حیثیت میں یا پھر کسی اور جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں۔

وفاقی وزیرِ فواد چوہدری نے اس بارے میں ٹوئٹ کی تھی کہ تحریک لبیک پاکستان جیسے شدت پسند گروہ اسلام کی شناخت کو بدلنا اور تشدد، انتہاپسندی کو ہوا دینا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے گروہ کی کوششوں کو ناکام بنانا ہر مسلمان کا فرض ہے۔

دوسری جانب وزیرِ داخلہ شیخ رشید کا اس بارے میں کہنا تھا کہ سڑکوں پر کیا ہو رہا تھا پوری دنیا نے دیکھ لیا ہے۔ صورتِ حال خرابی کی طرف ‏جا رہی تھی۔ پابندی لگانا ضروری ہو گیا تھا۔

تحریک لبیک پاکستان سے معاہدے کے حوالے سے وزیر داخلہ نے کہا کہ ٹی ایل پی ‏سے جو معاہدہ تھا وہ سابق وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ نے کیا تھا۔ اب اس کے مسودے کے معاملے کو لے کر آگے بڑھا جا رہا تھا۔ ٹی ایل پی ‏والوں سے مسودے پر دو دن مذاکرات ہوتے رہے۔ وہ ایسا مسودہ چاہتے تھے جو کسی صورت قبول ‏نہیں کیا جا سکتا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG