رسائی کے لنکس

logo-print

ایران پر نئی تعزیرات سے خطہ مزید عدم استحکام سے دوچار ہو جائے گا: فرانس


فائل

فرانس کے وزیر خارجہ ژاں ایولا دریاں نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف نئی سخت تعزیرات عائد کیں، تو اس سے مشرق وسطیٰ مزید عدم استحکام کا شکار ہو جائے گی۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اس ہفتے کے اوائل میں ایران کے خلاف ’’غیر معمولی مالی دباؤ‘‘ ڈالنے کی دھمکی دی تھی، اگر ایران اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا۔ اُنھوں نے یہ بات نئے جوہری سمجھوتے کے لیے اپنے 12 نکاتی مطالبات پیش کرتے ہوئے کہی تھی۔

لا دریاں نے فرانس کے ’انٹر ریڈیو‘ کو بتایا کہ نئی تعزیرات لاگو کرنے سے مکالمہ فروغ نہیں پائے گا۔ لیکن، اس کے برعکس، اس سے ایران کے قدامت پسندوں کو شہ ملے گی کہ وہ صدر حسن روحانی کو کمزور کرنے کی کوششیں کریں۔

بقول اُن کے ’’یہ انداز اپنانے سے خطہ مزید خطرات سے دوچار ہو جائے گا‘‘۔

ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اُس کی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرنے کے علاوہ، پومپیو نے اس بات کا بھی عہد کیا کہ ایران میں یرغمال بنائے گئے امریکیوں کو واپس وطن لایا جائے گا۔

اُنھوں نے منگل کے روز کہا کہ ’’ساری امریکی حکومت مستعدی سے کام کر رہی ہے‘‘ ، جس کے لیے ’’تمام راستے‘‘ اور ’’طریقہٴ کار‘‘ استعمال کیے جار رہے ہیں۔

امریکہ کےچوٹی کے سفارت کار نے امریکی محکمہٴ خارجہ کی بریفنگ میں پہلی جھلک دکھاتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے کَل چند ناموں کا ذکر کیا۔ دنیا بھر میں بہت سارے ایسے نام بھی ہیں جن کی شناخت میں نے کَل ظاہر نہیں کی‘‘۔

پیر کے روز امور خارجہ کے اپنے پہلے خطاب میں، پومپیو نے کہا کہ ایران امریکی قیدیوں کو رہا کرنے میں ناکام رہا ہے جن میں باقر نمازی، سیامک نمازی، ژیو وینگ اور بوب لیونسن شامل ہیں، اُس وقت بھی جب امریکہ نے 2015ء کے جوہری سمجھوتے کے تحت ایران کو تعزیرات میں نرمی دی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG