رسائی کے لنکس

logo-print

'فرانس کو ایران سے بات چیت کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں'


فرانس کے وزیر خارجہ جان ایو لودریان(فائل فوٹو)

فرانس نے واضح کیا ہے کہ اسے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور ایران سے بات چیت کے لیے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ فرانس ایک خود مختار ملک اور اپنے فیصلے خود کر سکتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ کسی ملک کو امریکہ کے توسط سے ایران کے ساتھ بات چیت کی اجازت نہیں دی گئی۔

فرانس کے وزیر خارجہ جان ایو لودریان کا کہنا ہے کہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے سیاسی قدم اٹھانا ضروری ہوتے ہیں اور فرانس کے صدر کی بھی یہی کوشش ہے۔ اور اس ضمن میں فرانس امریکی حکام کو آگاہ کرتا رہتا ہے۔

امریکی صدر کا یہ بیان ان میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آیا تھا جس کے مطابق فرانس کے صدر ایمنوئل میکرون کی جانب سے جی سیون ممالک کے اجلاس میں ایران کے صدر حسن روحانی کو صدر ٹرمپ سے ملاقات کی دعوت دی گئی تھی۔

تاہم فرانس کے حکام کی جانب سے ان خبروں کی تردید کر دی گئی تھی۔

امریکہ کے اتحادی برطانیہ اور یورپی ممالک جرمنی اور فرانس گزشتہ ایک سال سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق اقدامات سے ناخوش ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ سال یکطرفہ طور پر ایران کے ساتھ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے دستبردار ہو گئے تھے۔

اس معاہدے کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیوں کے عوض اسے خام تیل فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

یورپی ممالک نے ایران کے علاقائی اقدامات اور میزائل پروگرام پر امریکی تحفظات کو جائز قرار دیا تھا تاہم انہوں نے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے امریکی اقدام کو غلطی قرار دیا تھا۔

امریکہ کے صدر نے مئی کے آغاز میں ایران سے تیل درآمد کرنے والے آٹھ بڑے ممالک کا استثنٰی ختم کر دیا تھا۔ جس کے بعد یورپی ممالک نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ مشرق وسطٰی میں کشیدگی کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔

جولائی کے آخر میں امریکہ اور فرانس کے درمیان کاروباری اختلافات بھی سامنے آئے تھے جب صدر ٹرمپ نے فرانس کی جانب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر ٹیکس عائد کرنے کے اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG