رسائی کے لنکس

logo-print

ورلڈ کپ فٹ بال: پہلے سیمی فائنل کے لیے فرانس اور بیلجیم تیار


فرانس ایک مرتبہ 1998ء کا ورلڈ کپ جیت چکا ہے جبکہ بیلجیم ابھی تک کوئی ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکا البتہ موجودہ ٹورنامنٹ میں بیلجئیم اور فرانس ابھی تک ناقابل شکست ہیں ۔

روس میں جون کے تیسرے ہفتے سے جاری ’ورلڈ کپ فٹ بال ٹورنامنٹ 2018‘ کا اختتام قریب آرہا ہے۔ منگل کو اس ٹورنامنٹ کا پہلا سیمی فائنل سینٹ پیٹرز برگ میں بیلجیم اور فرانس کے درمیان کھیلا جائے گا جو پاکستان میں رات گیارہ بجے شروع ہوگا۔

ایونٹ کا دوسرا سیمی فائنل بدھ 11 جولائی کو کروشیا اور انگلینڈ کے درمیان کھیلا جائے گا۔

فرانس ایک مرتبہ 1998ء کا ورلڈ کپ جیت چکا ہے جبکہ بیلجیم ابھی تک کوئی ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ البتہ موجودہ ٹورنامنٹ میں بیلجیم اور فرانس دونوں ابھی تک ناقابلِ شکست رہے ہیں۔

بیلجیم کی کارکردگی

پوائنٹس ٹیبل پر بیلجیم کے 9 پوائنٹس ہیں لیکن چونکہ فرانس کا ایک میچ ڈرا ہوچکا ہے اس لیے اس کے سات پوائنٹس ہیں۔

ٹورنامنٹ کے پہلے مرحلے میں بیلجیم گروپ بی اور فرانس گروپ سی میں شامل تھا۔

بیلجیم اس ٹورنامنٹ میں پاناما کو 0-3، تیونس کو 2-5 اور انگلینڈ کو 0-1 سے شکست دے چکا ہے جبکہ اس نے ناک آؤٹ مرحلے میں جاپان کو 2-3 اور کوارٹر فائنل میں برازیل کو 1-2 سے ہرایا تھا۔

فرانس کا مقابلہ کرنے کے لیے بیلجیم کی ٹیم کے پاس کیون ڈی برین، ایڈین ہیزارڈ اور رومیلو لوکاکو جیسے بڑے کھلاڑی ہیں۔

بیلجیم مجموعی طور پر روس میں جاری اس ٹورنامنٹ کی واحد ٹیم ہے جو اپنے تمام میچز جیتی ہے۔

اسی ٹیم نے سب سے زیادہ گولز کرنے کا اعزاز بھی حاصل کیا ہے۔ ان کے گولز کی تعداد 14 ہے۔ برازیل جیسی شاندار ٹیم کو ہرانے کے بعد آج کے میچ کے لے بھی بیلجیم کے حوصلے بہت بلند ہیں۔

فرانس کی پرفارمنس

فرانس نے گروپ میچز میں آسٹریلیا اور پیرو کو شکست دی تھی جبکہ ڈنمارک سے کھیلا گیا میچ ایک، ایک گول سے ڈرا ہوا تھا۔

’ٹاپ 16‘ ہائی اسکورنگ میچ میں اس نے ارجنٹائن کو 3-4 سے اور کوارٹر فائنل میں یوراگوئے کو 0-2 سے ہرایا تھا۔

فرانس کی ٹیم آج کا سیمی فائنل جیتنے کے لیے جن کھلاڑیوں پر انحصار کرے گی ان میں اسٹرائیکر اولیور گیراؤڈ، ہنری، انتونیو گریزمین اور کیلیان ایمباپے شامل ہیں۔

چاروں ٹیمیں یورپی ممالک سے

رواں ورلڈ کپ کے اس آخری مرحلے میں یورپ کے علاوہ کسی اور برِ اعظم کی کوئی ٹیم شامل نہیں۔ حتیٰ کہ گزشتہ ورلڈ کپ کی سرِ فہرست چار ٹیمیں جرمنی، برازیل، ارجنٹائن اور ہالینڈ بھی ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکی ہیں۔ اس لیے اس بار یہ ورلڈ کپ یورپ ہی کے ہاتھوں میں جائے گا۔

تاریخ میں ایسا چوتھی مرتبہ ہوگا کہ عالمی ورلڈ کپ یورپ کے پاس ہی رہے گا۔ 2006ء میں اٹلی، 2010ء میں اسپین اور 2014ء میں جرمنی عالمی چیمپئن قرار پائے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG