رسائی کے لنکس

logo-print

پیرس: ریل گاڑی حملہ کیس، فرانس کا واقع کی چھان بین کا اعلان


پیرس کے وکیل استغاثہ، فریڈرک مولینز نے کہا ہے اس حملے کے سلسلے میں ایک دہشت گرد تنظیم کی ایما پر قتل کی کوشش کے الزام پر زیر حراست لیے گئے شخص، ایوب الخزانی سے کیا جانے والا تفتیشی عمل جاری ہے

فرانسیسی وکلائے استغاثہ نے منگل کے روز اِس بات کا اعلان کیا کہ اُنھوں نے گذشتہ ہفتے ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی کی چھان بین کا آغاز کیا ہے، جس میں ایمسٹرڈم سے پیرس جانے والی تیز رفتار ریل گاڑی پر مسلح حملے کی کوشش کی گئی تھی۔

پیرس کے وکیل استغاثہ، فریڈرک مولینز نے کہا ہے اس حملے کے سلسلے میں ایک دہشت گرد تنظیم کی ایما پر قتل کی کوشش کے الزام پر زیر حراست لیے گئے شخص، ایوب الخزانی سے کیا جانے والا تفتیشی عمل جاری ہے۔

مولینز نے بتایا کہ 25 برس کے اس مراقشی شخص کو ایک شدت پسند تنظیم کی وڈیو میں اپنے فون پر گفتگو کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جس کے بعد وہ حملے کے لیے استعمال ہونے والی رائیفل، پستول، متعدد کارتوس اور ایک ’باکس کٹر‘ کی کھیپ کے ساتھ وہ ٹرین کے اندر گھومتا دکھائی دیتا ہے۔

منگل کی شام دیر گئے تک حکام ملزم کے خلاف متعدد مزید الزامات عائد کریں گے، جن میں دہشت گردی کے سلسلے میں قتل کے کئی ایک الزام شامل ہیں۔

خزانی پر تین امریکی حاوی پائے، جن میں سے ایک زخمی ہوا، جس میں ایک برطانوی شہری بھی شامل ہے۔ دوسرا فرد، فرانسیسی امریکی جنھوں نے خزانی کی لڑاکا رائیفل پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی، اُن پر گولی چلائی گئی اور وہ اسپتال میں داخل ہے۔

خزانی کے وکیل نےملزم کے دہشت گردانہ عزائم کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے اخبار ’لے موندے‘ کو بتایا کہ وہ مسافروں کو لوٹنا چاہتا تھا۔

فرانسیسی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ خزانی نے 10 مئی کو جہاز کے ذریعے برلن سے استنبول کا سفر کیا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے نے مولینز کے حوالے سے منگل کو بتایا کہ کچھ ہفتے بعد، چار جون کو، خزانی ہوائی پروارز سے ترکی کے شہر انتکیہ کی طرف پہنچے تھے، جو شام کی سرحد سے ملحقہ ہے۔

پیر کو فرانسیسی صدر فرنسواں اولاں نے خزانی کو قابو کرنے والے ایک برطانوی اور تین امریکیوں کو فرانس کے اعلیٰ ترین میڈل ’لیجن آف آنر‘ دینے کا اعلان کیا۔

پیرس میں منعقدہ ایک تقریب میں، مسٹر اولاں نے برطانیہ کے شہری کِرس نارمن اور امریکیوں اسپینسر اسٹون، الیک اسکارلیٹوس اور اینتھونی سیڈلر کے سینے پر میڈل لگائے۔ اُنھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعہ کے دوران گذشتہ ہفتے دکھائی گئی بہادری، ہمت، یکجہتی اور امید کی ایک کرن کی مانند ہے۔

مسٹر اولاں نے کہا کہ ’ایک دہشت گرد نے ایک گھناؤنے عمل کے ارتکاب کی کوشش کی۔ اُس کے پاس کافی اسلحہ اور گولہ بارود تھا جس سے وہ قتل عام کی واردات کر سکتا تھا، اور وہ یہی کچھ کرتا اگر اپنی زندگیاں داؤ پر لگا کر اُنھیں قابو کرنے کی کوشش نہ کی جاتی‘۔

صدر نے اُس فرانسیسی شہری کو بھی عزت بخشی جس نے سب سے پہلے ریسٹ روم کے پاس مسلح شخص کی موجودگی کا پتا لگایا، اُس وقت جب ریل گاڑی پیرس کے لیے روانہ ہوچکی تھی۔

XS
SM
MD
LG