رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی گیٹ اسکینڈل: فرانسیسی حکومت کے سابق عہدے داروں کو سزائیں


عدالتی کارروائی کا خاکہ

فرانس کے دارالحکومت پیرس کی ایک عدالت نے پاکستان اور سعودی عرب کو نوے کی دہائی میں اسلحے کی فروخت کے معاہدوں میں لاکھوں یوروز کمیشن لینے کے الزام میں تین سابق حکومتی عہدے داروں سمیت چھ افراد کو سزا سنا دی ہے۔

پیر کو سنائے گئے عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ اہل کاروں پر اسلحے کی فروخت کے معاہدے میں لاکھوں یوروز کمیشن لینے کا الزام ثابت ہو گیا ہے۔

فرانس میں اس مبینہ کرپشن کا معاملہ 'کراچی افیئر' یا 'کراچی گیٹ اسکینڈل' کے نام سے مشہور ہوا تھا۔

کمیشن کی اس رقم کے کچھ حصے کو 1995 میں فرانس کے سابق وزیرِ اعظم ایڈوارڈ بالادور کی ناکام صدارتی مہم پر خرچ کرنے کا بھی الزام تھا۔ البتہ ایڈوارڈ بالادور ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

ایڈوارڈ بالادور اور ان کے وزیرِ دفاع فرانسوا لیوٹارڈ کے خلاف بھی کرپشن الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔

پیر کو ایڈوارڈ بالادور کی انتخابی مہم کے انچارج نکولس بزیر اور فرانسوا لیوٹارڈ کے مشیر رینا ڈونیڈیو دی وابریس کو تین، تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

آگسٹا 90B آبدوز (فائل فوٹو)
آگسٹا 90B آبدوز (فائل فوٹو)

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نکولس بزیر بخوبی جانتے ہیں کہ 16 لاکھ یوروز کی رقم کن مشکوک ذرائع سے ایڈوارڈ بالادور کی انتخابی مہم کے اکاؤنٹ میں جمع ہوئی۔

عدالت نے فرانس کے اس وقت کے وزیرِ بجٹ اور بعد میں فرانس کے صدر بننے والے نکولس سرکوزی کے مشیر تھیئر گابرٹ اور فرانس کی وزارتِ دفاع میں اسلحے کی فروخت کے بین الاقوامی ڈویژن کے سابق کانٹریکٹر ڈامینک کیسٹیلن کو دو، دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔

معاہدے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کے الزام میں دو لبنانی شہریوں کو بھی پانچ، پانچ برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

آگسٹا آبدوز معاہدہ تھا کیا؟

فرانس نے 1994 میں پاکستان کو لگ بھگ ایک ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت تین آگسٹا 90B ساخت کی آب دوزیں فروخت کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔

ان میں ایک آب دوز فرانس میں جب کہ دو آب دوزیں کراچی میں تیار کی جانی تھیں۔

اس وقت پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت اور بے نظیر بھٹو ملک کی وزیرِ اعظم تھیں۔ اس معاہدے پر پاکستان میں کافی شور اُٹھا تھا اور ذرائع ابلاغ میں معاہدے کی شفافیت سے متعلق سوالات اُٹھائے گئے تھے۔

پاکستان کے اس وقت کے نیول چیف ایڈمرل منصور الحق اور نیوی کے دیگر افسران پر کمیشن لینے کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔

بعد ازاں الزامات سامنے آنے پر وزیرِ اعظم نواز شریف نے ایڈمرل منصور الحق کو جبراً ریٹائر کر دیا تھا جس کے بعد وہ امریکہ منتقل ہو گئے تھے۔ اپریل 2001 میں امریکی حکام نے اُنہیں پاکستان کے حوالے کیا لیکن وہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے ساتھ پلی بارگین کر کے دبئی چلے گئے جہاں فروری 2018 میں اُن کا انتقال ہو گیا۔

فرانس کی سیاست میں یہ معاملہ کئی سالوں سے زیرِ بحث ہے۔
فرانس کی سیاست میں یہ معاملہ کئی سالوں سے زیرِ بحث ہے۔

فرانس کے سابق وزیرِ اعظم ڈومینک ڈی ویلن نے جو صدر یاک شیراک کے پہلے دور میں صدر کے مشیر تھے، نے دورانِ تحقیقات بتایا تھا کہ رشوت کے شبہے میں صدر کے حکم پر ادائیگیاں روک دی گئی تھیں۔

فرانسیسی انجینئرز آگسٹا آب دوزوں کی تیاری کے سلسلے میں کراچی میں موجود تھے۔ سن 2002 میں ان کی ایک بس پر خود کش حملہ کیا گیا جس میں 11 فرانسیسی انجینئرز سمیت 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ابتداً اس حملے کا الزام القاعدہ پر عائد کیا گیا تھا۔ لیکن دورانِ تحقیقات اس واقعے کو ان عناصر کی جانب سے بدلہ قرار دیا گیا جن کو کمیشن کی رقم ادا نہیں کی گئی تھی۔

صدر یاک شیراک کے بعد فرانس کے صدر بننے والے نکولس سرکوزی کے دور میں بھی یہ اسکینڈل فرانس کی سیاست پر چھایا رہا تھا۔ 2008 کے بعد سے ہی اس سودے میں مبینہ رشوت کے الزامات کی تحقیقات کا سلسلہ جاری تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG