رسائی کے لنکس

logo-print

پاک بھارت کشیدگی اور ایف-16 لڑاکا طیاروں کا تنازع


ایف 16 لڑاکاجیٹ طیارے محو پرواز، فائل فوٹو

امریکہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن گزشتہ ہفتے بھارت کے خلاف کے پاکستان کی فضائی کارروائی کے دوران ایف۔ 16 طیاروں کے مبینہ استعمال کی اطلاعات کا جائزہ لے رہا ہے۔

بھارت کا دعویٰ ہے کہ حالیہ پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے بھارتی کنڑول کے کشمیر میں اس کی فوجی تنصیبات کو نشانے بنانے کی کوشش کے دوران امریکی ساختہ ایف۔16 لڑاکا طیارے استعمال کیے تھے۔ پاکستان اس دعویٰ کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے معاون ترجمان رابرٹ پلاڈینو سے منگل کو اپنی معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران ان سوالات کے جواب دیئے کہ آیا پاکستان نے ایف 16 طیاروں کے استعمال سے متعلق معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور کیا امریکہ نے پاکستان سے اس بارے میں معلومات فراہم کرنے کا کہا ہے؟

پلاڈینو کا کہنا تھا کہ ہم اس معاملے کا غور سے جائزہ لے رہے ہیں۔ میں کسی بھی بات کی تصدیق نہیں کر سکتا۔ ہم کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ دو طرفہ معاہدوں اور رابطوں کے متعلق کھلے عام بات نہیں کرتے۔"

پاکستان کے دفتر خارجہ نے تاحال امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ترجمان کے بیان پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا، تاہم قبل ازیں پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور یہ کہ چکے ہیں کہ پا کستان نے 27 فروری کو بھارتی کنٹرول کے کشمیر میں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ایف 16 لڑاکا جیٹ استعمال نہیں کیے۔ تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں دی۔

دوسری جانب پاکستانی فضائیہ کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار شاہد لطیف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی فراہمی سے متعلق ان کے بقول ایسی کوئی شرط نہیں تھی کہ یہ طیارے دفاعی کارروائی استعمال نہیں کیے جائیں گے۔

" 2007ء میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان 52 ایف 16 طیاروں کی خریداری کے لیے ڈرافٹ سمجھوتے کی تیاری میں میں بھی شامل تھا۔ اس وقت میں (پاکستانی فضائیہ) میں ڈپٹی چیف آف اسٹاف ایئر آپریشنز تھا۔ اور وہ سارا معاہدہ میرا دیکھا ہوا ہے۔ "

انہوں نے مزید کہا۔ "اس معاہدے میں جو قابل اعتراض باتیں تھیں ان کے بقول وہ ختم کر دی گئی تھی۔

شاہد لطیف نے مزید کہا کہ چین کے تعاون سے پاکستان میں بنائے جانے والے جے ایف 17 تھنڈر طیارے بھی ان تمام صلاحیتوں کی حامل ہیں جو ایف 16 طیاروں میں میسر ہیں۔

دوسری طرف واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان نے یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں گفتگو کے دوران بھارت کی طرف سے پاکستان پر گزشتہ ہفتے کی فضائی کارروائی میں ایف-16 طیاروں کے استعمال کے الزام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا، "بھارت پاکستان پر کئی الزامات عائد کر رہا ہے، اس لے وہ ہر الزام میں نہیں الجھنا چاہتے۔"

پاکستانی سفارت کار نے مزید کہا،"وہ ایف -16 طیاروں کے استعمال کے بارے امریکہ کی جانب سے کی جانے والی کسی درخواست سے آگاہ نہیں ہیں۔"

تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ کی طرف ایف-16 کی خریداری کے معاہدے میں پاکستان پر یہ طیارے بھارت کے خلاف استعمال پر پابندی لگائی گئی تھی تو پاکستانی سفارت کار نے کہا کہ انہوں نے یہ معاہدہ نہیں دیکھا۔

بھارت کی فضائیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے گزشتہ ہفتے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی فضائیہ نے بھارتی زیر انتظام کشمیر میں اس کی فوجی تنصیبات کو نشانے بنانے کے لیے ایف 16 طیارے استعمال کیے تھے اور جس میزائل سے بھارتی لڑاکا طیاروں کا نشانہ بنایا گیا وہ میزائل صرف ایف 16 طیاروں میں ہی استعمال ہو سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG