رسائی کے لنکس

logo-print

مسلمان امریکہ میں: فن ایشیا


شارق حامد نے کہا کہ بنیادی طور پر یہ ایک تفریحی کامپلیکس ہے ، جوتھیٹر، ریڈیو اور میگزین پر مشتمل ہے

گیارہ ستمبر 2001ء میں امریکہ پر دہشت گرد حملوں کے بعد سے مسلمانوں نے جہاں مذہبی اور سماجی طور پر اپنے تشخص کو ابھارنے کی کوشش کی وہیں کچھ نوجوانوں نے اپنی فنی سرگرمیوں کو بھی یہاں کے معاشرے میں روشناس کروایا۔

ڈیلس فورٹ ورتھ میں شارق حامد اور اُن کے بھائیوں نے ’فن ایشیا‘ کے نام سے ایک انٹرٹینمنٹ کامپلیکش قائم کیا ہے، جو ریڈیو اسٹیشن بھی چلارہا ہے۔

تفصیل بتاتے ہوئے، شارق حامد نے کہا کہ بنیادی طور پر یہ ایک تفریحی کامپلیکس ہے ، جوتھیٹر، ریڈیو اور میگزین پر مشتمل ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ ریڈیو اسٹیشن 700AMچار برس قبل شروع کیا گیا جس میں زیادہ تر ٹاک شوز، مشاعرے اور نعتیہ پروگرام ہوتے ہیں، جب کہ دوسرا ریڈیو اسٹیشن 104FMچوبیس گھنٹے پاکستانی اور بھارتی میوزک نشر کرتا ہے۔

یہ معلوم کرنے پر کہ فن ایشیا کا خیال کیسے ذہن میں آیا، اُنھوں نے کہا کہ 9/11کے بعد جب حالات خراب تھے۔ ’دراصل، ہم بتانا چاہتے تھے کہ اور لوگوں کی طرح ہم بھی اُسی طرح کا انٹرٹینمنٹ چاہتے ہیں ۔ اُس وقت یہاں کے مقامی لوگوں میں جنوب ایشیا اور پاکستان کے خلاف ایک تاثر بن گیا تھا،اور یہ ایک کوشش تھی کہ اُس ذہن کو تبدیل کیا جائے۔‘

کامپلیکس میں ایک ریستوراں بھی ہے اور 200صفحات پر مشتمل ماہوار رسالہ بھی نکتا ہے۔

ریڈیو سامعین کے بارے میں سوال پر، شارق حامد نے کہا کہ فورٹ ورتھ سے لوزیانا اور اکلوہامہ تک لوگ یہ نشریات سنتے ہیں، جب کہ آن لائن www.funasia.net پرلوگ دور دور تک فن ایشیا کی نشریات سنتے ہیں۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG