رسائی کے لنکس

'پنجاب میں سیاسی زلزلے سے وفاق زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہے گا'


پاکستان تحریکِ انصاف کی پنجاب کے ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق کی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اب مرکز میں شہباز شریف کی حکومت پر بھی سوالیہ نشان لگ گئے ہیں جب کہ بعض سیاسی ماہرین کے مطابق اب فوری انتخابات ہی مسئلے کا واحد حل ہیں۔

سیاسی اور عوامی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ چاروں صوبوں میں سے کسی ایک صوبے میں بھی وزیراعظم کی جماعت مسلم لیگ(ن) کی حکومت نہ ہونے سے کیا وفاقی حکومت چل پائے گی؟ یا پھر نئے انتخابات کی طرف جانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب کی سیاست میں تبدیلی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کو حکومت چھوڑ کر نئے انتخابات کی طرف جانا چاہیے۔

لیکن بعض ماہرین کہتے ہیں کہ حکومت چھوڑ دینے سے ملک کے معاشی مسائل پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ ابھریں گے جنہیں کنٹرول کرنا نئی حکومت کے بس میں بھی نہیں ہو گا۔

پنجاب میں حالیہ ضمنی الیکشن کے بعد اس وقت چاروں صوبوں میں الگ الگ حکومتیں موجود ہیں۔ پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) اکثریت کھو چکی ہے اور امکان ہے کہ 22 جولائی کو ہونے والے اجلاس کے دوران پنجاب اسمبلی نیا قائد ایوان منتخب کرلے گی۔

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف، سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور بلوچستان حکومت میں بلوچستان عوامی پارٹی اور دیگر جماعتیں شامل ہیں۔ چاروں صوبائی حکومتوں میں مسلم لیگ(ن) کی ایک بھی حکومت نہ ہونے سے وفاق میں ان کی حکومت کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔


شہباز کسی اورکے فائدے کے لیے حکومت میں رہے تو نقصان ہو گا:حامد میر

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کہتے ہیں کہ شہباز شریف کو اس بات کا احساس کرنا چاہیے کہ وہ اور ان کے اتحادیوں نے عمران خان کی حکومت کو تو گرا دیا، لیکن حکومت بنانے کے بعد اُن کے فیصلوں سے عوام ناراض ہوئی۔

حامد میر کہتے ہیں کہ جب اسحاق ڈار نے وطن واپسی کا اعلان کیا تو ان کے اپنے وزرا نے مفتاح اسماعیل کے حق میں ٹویٹس کرنا شروع کر دیں۔ یہ سب ظاہر کررہی تھیں کہ حکومتی رٹ بہت کمزور ہے۔ لہذٰا شہباز شریف کو چاہیے کہ وہ اس بات کا احساس کریں کہ مسلم لیگ(ن) کے تبدیل شدہ بیانیے کو بھی ان کے ووٹرز نے مسترد کیا ہے ۔

حامد میر کے بقول اس وقت شہباز شریف کسی اور کے فائدے کے لیے حکومت میں بیٹھیں رہیں گے تو انہیں مزید نقصان ہو گا۔ شہباز شریف کو چاہیے کہ وہ استعفیٰ دے دیں اور نئے انتخابات کی طرف جائیں۔


'اسلام آباد کے اطراف چار حکومتیں عمران خان کی ہیں'

حامد میر کا کہنا تھا کہ اس وقت اسلام آباد کے اطراف عمران خان کی چار حکومتیں ہیں جن میں پنجاب، خیبر پختونخواہ، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی حکومت ہے جب کہ پنجاب میں جلد تحریکِ انصاف کی حکومت بن جائے گی۔

اُن کے بقول اگر عمران خان یہ سب حکومتیں تحلیل کردیں تو الیکشن کا ماحول بن جائے گا لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہوگا کیونکہ پنجاب میں پرویز الہی ایک سال کی وزارت اعلیٰ چاہتے ہیں جب کہ خیبر پختونخوا میں بھی وہ حکومت جاری رکھنا چاہتے ہیں لہذا صرف شہباز شریف نہیں عمران خان کے لیے بھی مشکلات موجود ہیں۔


مسلم لیگ(ن) کے پاس آئندہ الیکشن کے لیے کوئی بیانیہ نہیں: طلعت حسین

سینئر صحافی اور اینکر پرسن طلعت حسین کہتے ہیں کہ عمران خان نے ثابت کر دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کو 'رگڑا' دیا جائے تو کامیابی مل سکتی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے طلعت حسین کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ(ن) نے بھی یہیں بیانیہ دیا تھا لیکن وہ اس بیانیے سے پیچھے ہٹ گئے اور اس کا انہیں نقصان اٹھانا پڑا۔

طلعت حسین کا کہنا تھا کہ آئینی طور پر پنجاب میں حکومت کی تبدیلی سے اگرچہ وفاق کو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن پنجاب میں جتنی بڑی تبدیلی آئی ہے اس کی وجہ سے جو زلزلہ آ رہا ہے وہ ان کی وفاق کی حکومت کو بھی لے ڈوبے گا۔لیکن حکومت سے نکلنے کے بعد بھی اس کے اثرات برقرار رہیں گے۔

طلعت حسین کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان شاید ان انتخابات کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے نرم رویہ اختیار کریں گے لیکن اگر وہ ایسا کریں گے تو مجھے حیرانی ہو گی کیونکہ اسی اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کی مدد سے انہوں نے اپنا ووٹ یبنک بڑھایا ہے۔

طلعت حسین کا کہنا تھا کہ اس وقت عمران خان کے پاس بہت سے بیانیے ہیں جن کی مدد سے وہ الیکشن میں جاسکتے ہیں لیکن مسلم لیگ(ن) نے اپنے سیاسی بیانیے کو خود دفن کردیا ہے اور اب ان کے پاس الیکشن میں جانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ایسی صورتِ حال میں مزید تاخیر ملک کے لیے بہت سے معاشی مسائل کا سبب بنے گی۔


نئے انتخابات کے لیے بال حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی کورٹ میں ہے: سلمان عابد

تجزیہ کار اور کالم نگار سلمان عابد کہتے ہیں کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتیں زیادہ طاقت ور اور بااختیار ہوگئی ہیں۔ شہباز شریف کی بنیاد پنجاب اور پنجاب کی سیاست ہے، ایسے میں اگر ان کے سیاسی مخالف چوہدری پرویز الہی صوبہ پنجاب میں بیٹھیں ہوں گے تو اس کا مطلب ہے کہ شہباز شریف کے ہاتھ کاٹ دیے گئے ہیں۔ ایسے میں ان کے لیے حکومت چلانا خاصا مشکل ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت مسلم لیگ(ن) خاصی مشکل صورتِ حال میں ہے کیونکہ اگر وہ انتخابات کی طرف جاتے ہیں تو اس وقت عمران خان کا بیانیہ ان سے الیکشن چھین لے گا، اس لڑائی میں عمران خان فوری طور پر ان سے جیت سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ حکومت میں رہتے ہیں تو پنجاب نہ ہونے کی وجہ سے ان کے لیے حالات مزید مخدوش ہوں گے۔

سلمان عابد کہتے ہیں کہ اُنہیں لگتا ہے کہ ملک انتخابات کی طرف جا رہا ہے۔ اس وقت بال حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی کورٹ میں ہے۔ اگر انتخابات کی طرف نہ گئے تو اس حکومت کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

اس سوال پر کہ معاشی حالات کیا اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ فوری انتخابات کی طرف جایا جائے؟ سلمان عابد کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخابات کےنتائج تمام عالمی ادارے دیکھ رہے ہیں کہ ملک میں اس وقت سیاسی غیریقینی کی صورتِ حال ہے۔ آئی ایم ایف بھی اس صورتِ حال کا جائزہ لے رہی ہے کہ اس سیاسی عدم استحکام میں وہ کس طرح حکومت کے ساتھ ڈیل کریں۔

تجزیہ کار افتخار احمد کا کہنا تھا کہ صورتِ حال اتنی آسان نہیں ہے ، پنجاب الیکشن کے اگلے دن ڈالر کی گرتی ہوئی قیمت اور اسٹاک مارکیٹ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سیاسی غیر یقینی کیسے ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ آپ بے شک نئے انتخابات کروا لیں لیکن اگر صورتِ حال ایسی ہی رہی تو پاکستان کو سری لنکا بننے سے روکنا مشکل ہو جائے گا۔

XS
SM
MD
LG