رسائی کے لنکس

سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ’’کچھ بھی ہوجائے اب میاں نواز شریف سے صلح نہیں ہوسکتی‘‘۔ بقول اُن کے ’’میاں نواز شریف نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا اور ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا گیا۔ میاں نواز شریف اب لمبی جنگ کی تیاری کرلیں‘‘۔

گڑھی خدا بخش لاڑکانہ میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 39 ویں برسی کے موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’میاں نواز شریف سیاست دان نہیں بلکہ مغل شہنشاہ ہیں‘‘۔

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ’’پیپلز پارٹی میاں نواز شریف کو سیاست سے بھی باہر کرے گی‘‘، اور دعویٰ کیا کہ ’’آئندہ انتخابات میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ بھی حاصل کرے گی‘‘۔

سابق صدر نے کہا ہے کہ ’’آئندہ انتخابات میں کسی سے بھی اتحاد ہو سکتا ہے۔ لیکن، نواز شریف سے نہیں۔ نواز شریف اور ان کی جماعت کو اقتدار میں گزارے 40 برسوں کا حساب اب دینا ہوگا‘‘۔

آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ وہ بہت جلد پنجاب کے دورے کرنا شروع کریں گے ’’اور، آئندہ انتخابات تک تخت رائیونڈ کو ہلا ڈالیں گے‘‘۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ میاں نواز شریف ’’بے حد کنفیوز دکھائی‘‘ دیتے ہیں۔ بقول اُن کے، ’’وہ صبح کو عدلیہ اور ججز کو گالیاں دیتے ہیں اور شام کو اپنے ہی وزیر اعظم کو معافی کیلئے بھیج دیتے ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’پوری زندگی ووٹ کو عزت نہ دینے والے آج ووٹ کی عزت کی بات کرتے ہیں جس پر ہنسی آتی ہے‘‘۔ بلاول بھٹو کے مطابق، ’’نواز شریف کا نظریہ سرمایا، جھوٹ اور فریب ہے‘‘۔

بلاول بھٹو نے تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان پر خوب تنقید کی اور انہیں ’’طالبان کا بِچھڑا بھائی‘‘ قرار دیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ’’ان کی جماعت مذہبی انتہا پسندوں کی بی ٹیم کو اقتدار میں نہیں آنے دے گی‘‘۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت آج بھی ذوالفقار علی بھٹو کے ’’عدالتی قتل کی تحقیقات‘‘ کا مطالبہ کرتی ہے۔ ان کی جماعت کو اکثر غلط عدالتی فیصلوں کا سامنا کرنا پڑا؛ ’’لیکن، کبھی عدلیہ کی توہین یا بے توقیری نہیں کی‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’عدلیہ کا ادارہ ہماری میراث ہے۔ ہم اس کی عزت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے‘‘۔

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر ہونے والے جلسے میں بڑی تعداد میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ملک بھر سے شرکت کی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979 کو سابق فوجی صدر ضیاٗ الحق کے دور میں سیاسی مخالف نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل میں مبینہ معاونت پر سزائے موت دے دی گئی تھی، جسے پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ’’سیاہ ترین فیصلہ‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں اس کیس کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایک ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا جس کی سماعت اب تک نہیں ہوسکی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG