رسائی کے لنکس

اِس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ پاکستان کو بن لادن کا پتا تھا: گیٹس


اِس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ پاکستان کو بن لادن کا پتا تھا: گیٹس

کچھ امریکی قانون سازوں نے اوباما انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کو مزید سکیورٹی امداد دینے سے قبل دہشت گرد گروپوں سے لڑنے کے پاکستانی عزم کا اندازہ لگایا جائے

امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے بدھ کے روز کہا کہ ایساکوئی ثبوت موجود نہیں جِس سےیہ پتا چلتا ہو کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت کو القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کا اتہ پتہ معلوم تھا، تاہم ابھی تک اُن کا خیال ہے کہ شاید پاکستان میں کسی فرد کو یہ معلوم تھا کہ دنیا کا سب سے زیادہ مطلوب شخص کہاں چھپا ہوا ہے۔

پینٹاگان میں نامہ نگاروں سے باتیں کرتے ہوئے گیٹس نے کہا کہ درحقیقت اُنھیں کچھ ایسا ثبوت ملا ہے جس کا پاکستان کے اعلیٰ عہدے داروں کوعلم نہیں۔

اُنھوں نے توجہ دلائی کہ پاکستان کی اِس بات پر پہلے ہی کافی زیادہ تذلیل ہو چکی ہے کہ امریکہ کی خصوصی افواج نے اُس کی سرزمین میں اندر جاکر ایک کامیاب اور خفیہ کارروائی کے ذریعے القاعدہ کے بانی کو ہلاک کیا۔

بن لادن کی پاکستانی چھاؤنی والے شہر ایبٹ آباد میں برآمد ہونے سے اِن سوالات نے جنم لیا، آیا اُن کو پاکستان کی فوجی یا انٹیلی جنس سروس سے تعلق رکھنے والے ملزموں نے پناہ دے رکھی تھی۔

کچھ امریکی قانون سازوں نے اوباما انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کو مزید سکیورٹی امداد دینے سے قبل دہشت گرد گروپوں سے لڑنے کے پاکستانی عزم کا اندازہ لگایا جائے ۔

گیٹس نے کہا کہ جہاں وہ اُن کی مایوسی کو سمجھ سکتے ہیں، وہ نہیں سمجھتے کہ پاکستان کو امریکی امداد بند ہونی چاہیئے۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ اب امریکہ اور پاکستان کواپنے مشترکہ مفاد کی طرف آگے بڑھنا چاہیئے۔

گیٹس کے ہمراہ بات کرتے ہوئے امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیرمین، ایڈمرل مائیک ملن نے کہا کہ 1989ء میں سویت یونین کے انخلا کے بعد ملک اور علاقے کو کافی حد تک خیرباد کرنے کے معاملے پر امریکہ ابھی تک پاکستان کے ساتھ اعتماد کی دوبارہ بحالی پر کام کر رہا ہے۔ملن نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان بہت اہمیت رکھتا ہے جسے الگ تھلگ نہیں کیا جاسکتا۔

دریں اثنا، صدر براک اوباما جمعے کےروز سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کرنے والے ہیں ، جہاں وہ ادارے کے ملازمین سے بن لادن کو ڈھونڈ نکالنے کا کام کرنے پرشکریہ ادا کریں گے۔

اُنھوں نے بدھ کے روز کہا کہ ہر امریکی کو بہادر فوج اور انٹیلی جنس کے اہل کاروں پر فخر کرنا چاہیئے جنھوں نے، اُن کے بقول، اِس بات کو یقینی بنایا کہ بن لادن پھر کبھی اُن کے ملک کے لیے خطرے کا باعث نہ بن سکے۔

ملک کی مشرقی ریاست ، کنے ٹیکٹ میں امریکی کوسٹ گارڈ اکیڈمی میں منعقدہ ڈگری عطا کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر اوباما نے کہا کہ امریکہ کی حفاظت کا کام جانفشانی سے جاری ہے اور اِس بات کا عہد کیا کہ ملک کے دفاع کے معاملے میں کبھی کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔

گذشتہ اکتوبرمیں ختم ہونے والے مالی سال تک پاکستان کو امریکہ سے سکیورٹی سے متعلق 2.7بلین ڈالر کی مجموعی امداد موصول ہو چکی تھی، اور اُسے آئندہ برسوں کے دوران مزید اربوں ڈالر ملیں گے۔ افغانستان اور اسرائیل کے بعد، پاکستان امریکہ سے سکیورٹی امداد اور اخراجات کی ادائیگی حاصل کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔

XS
SM
MD
LG