رسائی کے لنکس

'گوادر کے نوجوانوں کو یونیورسٹی کے لیے بھی احتجاج کرنا پڑتا ہے'


یونیورسٹی میں زیادہ تر لیکچر بلوچی زبان میں دیے جاتے ہیں۔
یونیورسٹی میں زیادہ تر لیکچر بلوچی زبان میں دیے جاتے ہیں۔

''یہاں کا نوجوان یونیورسٹی کے لیے بھی سڑکوں پر نکلتا ہے۔ اس کے لیے بھی ہمیں ایک پرامن مارچ کرنا پڑتا ہے کہ ہمیں ایک یونیورسٹی دے دو۔یہ حکومت کی ذمہ داری ہے، ان کی ترجیہات ہونی چاہیے، اس کے لیے کسی فرد کو سڑکوں پر آنے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ پانی، بجلی، تعلیم کے لیے احتجاج کرے، یہ تو ہمارا آئینی اور بنیادی حق ہے۔ لیکن جب ہم یہ حق مانگتے ہیں تو ہم غلط سمجھے جاتے ہیں۔''

یہ کہنا ہے مریم شاہد کا جو صوبۂ بلوچستان کے ضلع گوادر کی رہائشی اور گوادر یونیورسٹی میں بی بی اے کی طالبہ ہیں۔

بلوچستان کا ضلع گوادر اپنے خوب صورت ساحل کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ گوادر کو ہوا کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے لیکن گوادر یونیورسٹی کا کوئی مرکزی دروازہ نہیں ہے۔ اس عمارت میں ایک اسکینر دروازےسے گزر کر اس میں داخل ہوا جاسکتا ہے۔ یونیورسٹی کے اندر داخل ہوتے ہی دائیں اور بائیں جانب کلاس رومز دکھائی دیتی ہیں۔

کلاسز میں طلبہ کی ایک بڑ ی تعداد موجود ہے جہاں وہ اساتذہ کے لیکچر سن رہے ہیں، زیادہ تر لیکچر بلوچی زبان میں دیے جاتے ہیں۔ یونیورسٹی میں موجود لابی طلبہ سے آباد ہے جب کہ طالبات اپنے روایتی لباس میں کلاس لیتی ہیں یا کامن روم میں بیٹھ کر گپ شپ کرتی نظر آتی ہیں۔

گوادر یونیورسٹی کا اعلان 2016 میں کیا گیا تھا لیکن اس کا باقاعدہ آغاز 2021 میں ہوا۔ اس وقت اس یونیورسٹی کو گوادر ڈگری کالج سے ملحقہ نئی تعمیر شدہ عارضی عمارت میں چار ڈپارٹمنٹ کے ساتھ شروع کیا گیا ہے، جن میں ایجوکیشن، کامرس، بزنس ایڈمنسٹریشن اور کمپیو ٹر سائنس شامل ہیں۔اس یونیورسٹی میں انتظامیہ کے مطابق ساڑھے چار سو طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔

گوادر یونیورسٹی کا اعلان 2016 میں کیا گیا تھا لیکن اس کا باقاعدہ آغاز 2021 میں ہوا۔
گوادر یونیورسٹی کا اعلان 2016 میں کیا گیا تھا لیکن اس کا باقاعدہ آغاز 2021 میں ہوا۔

مریم کی ہی طرح گوادر یونیورسٹی میں زیرتعلیم مائرہ بشیر کہتی ہیں کہ ''مجھے آگے پڑھنے کی اجازت اس شرط پر ملی کہ گوادر میں یونیورسٹی ہے تو یہی پڑھ لو حالانکہ میں لاہور جاکر پڑھنا چاہتی تھی۔ میرا تعلق جس علاقے سے ہے وہاں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کالج ہے نہ یونیورسٹی، بس ایک سیکنڈری اسکول بنایا گیا ہے تو وہاں سے گوادر یونیورسٹی بس آتی ہے اس لیے میں یہاں پڑھ رہی ہوں۔''

یونیورسٹی میں ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں زیرتعلیم نعیمہ عبدالراحمٰن کہتی ہیں کہ گوادر میں تیز انٹرنیٹ کی اشد ضرورت ہے، جب ہمیں اسائنمٹ یا کوئی ضروری کام ہو تو ہمیں یا تو بہت رات گئے یا صبح سویرے تیز انٹر نیٹ ملتا ہے جو خاصی دشواری کا باعث ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کے بہتر سگنلز کے لیے لڑکے تو سمندر کنارے چلے جاتے ہیں مگر ہمارے کے لیے یہ مشکل ہے تو ہم کوئی اور طریقہ اپناتے ہیںَ۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے نعیمہ نے بتایا کہ وہ پشوخان کی رہائشی ہیں اور انہیں گوادر یونیورسٹی پہنچنے میں چالیس منٹ لگتے ہیں، لیکن وہ یونیورسٹی کی ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتی ہیں۔

زیر تعلیم طالبہ نعیمہ کے مطابق انہیں گوادر یونیورسٹی پہنچنے میں چالیس منٹ لگتے ہیں۔
زیر تعلیم طالبہ نعیمہ کے مطابق انہیں گوادر یونیورسٹی پہنچنے میں چالیس منٹ لگتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی یہاں صرف چار ڈپارٹمنٹ ہیں تو یہاں ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ البتہ ان کے بقول یونیورسٹی ہونے کا یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ جو لڑکیاں پڑھنے کے لیے تربت نہیں جاسکتی تھیں، انہیں یہاں موقع ملا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ یونیورسٹی میں اگر بجلی کا مسئلہ ہو تو جنریٹر موجود ہے لیکن گوادر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور روزانہ دس سے 12 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔

گلناز کا تعلق بھی گوادر سے ہے وہ بھی ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی طالبہ ہیں۔ ان کے مطابق ان کے والدین کی خواہش تھی کہ وہ اس شہر سے دور
کسی اور یونیورسٹی میں جاکر پڑھیں لیکن انہوں نے یہاں پڑھنے کو ترجیح دی۔ وہ مستقبل میں ایم فل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور پھر شعبہ تدریس سے منسلک ہونے کی خواہش مند ہیں۔

گوادر یونیورسٹی میں ایک ڈپارٹمنٹ کمپیوٹر سائنس کا بھی ہے، جہاں تربت سے تعلق رکھنے والی گل ثمین پڑھاتی ہیں۔ آئی بی اے سے تعلیم یافتہ گل ثمین نے تربت یونیورسٹی میں انٹرن شپ کی لیکن اپنے شوہر کی گوادر میں ملازمت کے سبب اب وہ گوادر یونیورسٹی میں پڑھا رہی ہے۔

ان کے مطابق تربت یونیورسٹی کے مقابلے میں یہاں سہولیات محدود ہیں۔ تربت یونیورسٹی 2012 میں شروع ہوئی تھی جبکہ گوادر یونیورسٹی 2021 میں۔ لیکن جیسے کہا جاتا ہے کہ یونیورسٹی ڈویلپمنٹ کی جانب پہلا قدم ہوتی ہے، اسی طرح مستقبل میں یہاں بھی بہتری آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں کے طلبہ میں آگے بڑھنے کی لگن بہت زیادہ ہے۔پہلے سیمسٹر میں 25 طلبہ ہیں جو اپنی پڑھائی کو لیکر بہت سنجیدہ ہیں۔ چوں کہ یہ پہلابیچ ہے کمپیوٹر سائنس کا تو یونیورسٹی انتظامیہ کی بھی کوشش ہے کہ سہولیات بڑھائی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چوں کہ اسی صوبے سے ہیں اور جانتے ہیں کہ ہمارے یہاں اسکول کالجوں میں تعلیم کا معیار کیا ہے تو یہاں پہنچنے والے طلبہ کو کسی بھی چیز کو اس کے پس منظر کے ساتھ زیادہ سمجھانا پڑتا ہے۔یہ ایک اضافی محنت ہے لیکن طلبہ محنتی ہیں اور ہم بھی اسی لیے اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں۔

منیجمنٹ سائنس میں تھرڈ سیمسٹر کے طالب علم ہارون کا تعلق صوبۂ پنجاب کے شہر ملتان سے ہے وہ بھی اسی ڈپارٹمنٹ میں زیرتعلیم ہیں۔ ان کے مطابق یونیورسٹی میں مزید شعبوں میں اضافے اور تجربہ کار اساتذہ کی فوری ضرورت ہے ۔یہاں زیادہ تر ایسے اساتذہ ہیں جو کچھ وقت پہلے ہی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوئے ہیں اور ہمیں پڑھا رہے ہیں، اگر ہمیں تجربہ کار اساتذہ ملیں تو ہمیں اور بھی فائدہ ہوگا۔

گوادر کے مکین عالی انور کہتے ہیں کہ جب سہولیات کی کمی ہو تو پڑھنا اور بھی مشکل ہے۔
گوادر کے مکین عالی انور کہتے ہیں کہ جب سہولیات کی کمی ہو تو پڑھنا اور بھی مشکل ہے۔

دوسری جانب گوادر کے مکین عالی انور ہیں،جو دن میں پڑھتے اور شام میں دکان چلاتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جب سہولیات کی کمی ہو تو پڑھنا اور بھی مشکل ہے۔ ابھی وہ بی بی اے کر رہے ہیں جس میں بینکنگ اور اکاؤنٹنٹ پڑھنا پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کو چاہیے کہ وہ ہمیں کوئی ایجوکیشنل ٹرپ کرائے تاکہ جو ہم پڑھ رہے ہیں وہ باہر کیسے عملی طور پر نظر آتا ہے، ہمیں معلوم ہو۔

عالی شکوہ کرتے ہیں کہ بلوچ قوم کے بارے میں لوگوں کا ایک ذہن بن چکا ہے، ہمیں ایک ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے جو درست نہیں ہے۔بطورِ نوجوان وہ اس بات سے بہت تنگ ہیں اور کبھی کبھی ایسا رویہ دیکھ کر وہ سوچتے ہیں کہ اس ملک سے باہر چلا جایں۔

ان کا کہنا تھا کہ کبھی کبھار تو ہمیں اس طرح بھی تنگ کیا جاتا ہے کہ تضحیک محسوس ہوتی ہے اور ہم خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ اگر یونیورسٹی یا کہیں سے سے گھر آنے میں دیر ہوجائےتو ہمارے گھر والے پریشان ہوجاتے ہیں۔ یہی بات میرے ذہن میں بھی رہتی ہے کیوں کہ بلوچستان کے حالات تو سب کے سامنے ہیں۔

مریم شاہد کے مطابق انہیں میڈیکل کے شعبے میں جانا تھا لیکن چوں کہ یہاں یہ ڈپارٹمنٹ موجود نہیں تھا تو انہوں نے بی بی اے میں داخلہ لے لیا۔یونیورسٹی میں اسکالرز ، ریسرچرز کی کمی ہے جب کہ اس علاقے میں سافٹ ویئر اتنے جدیدنہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں اسپتال نہیں ہے، اگر کوئی دوسری جامعہ یا شہر سے لکچرار پڑھانےیہاں آ بھی جائے تو سہولیات کی کمی ہے۔ اگر وہ اہل خانہ کے ساتھ آئےگا تو اور مسائل بھی ہوں گے۔

مریم کا کہنا تھا انہیں شکایت یہاں کی حکومت اور سیاست دانوں سے ہے۔ یہ ان کی نااہلی ہے وہ چاہتے تو بلوچستان کےعوام کے لیےبہت کچھ کرسکتے تھ۔ اس یونیورسٹی کو بہت پہلے بن جانا چاہیے تھا لیکن تاخیر ہوتی گئی ۔

ان کے بقول بلوچستان کے طلبہ باخبر ہیں اور سیاسی شعور بھی رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کو بھی سب کچھ میسر ہونا چاہیے جو باقی صوبوں کی جامعات میں پڑھنے والوں کو حاصل ہے۔ اگر حکومت سنجیدگی سے یہاں کے مسائل حل کرے اور تاخیر نہ کرے تو اس یونیورسٹی سے ہزاروں طلبہ ڈگری لے کر صوبے کے لیے کار آمد ثابت ہوسکتے ہیں۔

یونیورسٹی میں نئے ڈپارٹمنٹ کے قیام اور تجربہ کار اساتذہ کی موجودگی کے سوال پر گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرعبدالرزاق صابر کا کہنا تھا آئندہ دس برسوں یعنی 2032 تک یونیورسٹی میں 30نئے ڈیپارٹمنٹ آچکے ہوں گے جبکہ آنے والے برسوں میں مزید6 نئے ڈپارٹمنٹ کا اضافہ ہوجائے گا۔

وائس چانسلر کے مطابق اس وقت یونیورسٹی کے لیے پانچ ارب کا پی سی ون پراجیکٹ وفاق میں زیرِغور ہے۔
وائس چانسلر کے مطابق اس وقت یونیورسٹی کے لیے پانچ ارب کا پی سی ون پراجیکٹ وفاق میں زیرِغور ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت یونیورسٹی کے لیے پانچ ارب کا پی سی ون پراجیکٹ وفاق میں زیرِ غورہے۔ وائس چانسلر کے مطابق فی الحال یونیورسٹی کا عارضی قیام یہاں کیا گیا ہے۔گوادر یونیورسٹی کے لیےپانچ سو ایکٹر زمین الگ سے مختص ہے جس کے لیےفنڈز کی منظوری جلد متوقع ہے۔ وہاں طلبہ اور اساتذہ کے لیے ہاسٹلوں کی بھی سہولت رکھی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی نے حال ہی میں چین کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کیےہیں جس کے تحت اگلے سال ایکسچینج پروگرام میں آٹھ سے دس اسکالرز اور گریجیویٹ کو بھیجا جائے گا جس میں پہلی ترجیح فیکلٹی ہے اور اس کے بعد طلبہ کو بھی چین کی جامعات میں بھیجا جائے گا۔

وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ آنے والے وقت میں ملک کی بڑی جامعات سے ہم اساتذہ کو یہا ں لائیں گے تاکہ ہمارے طلبہ کو بہترین تعلیم کا حصول ممکن ہوسکے اور وہ جس شعبے میں بھی ڈگری حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں انہیں اس میں رسائی ہو۔

XS
SM
MD
LG