رسائی کے لنکس

logo-print

عورتوں کی عدم شرکت پر غزہ میں 'میراتھن' منسوخ


'حماس' کی جانب سے خواتین کو شرکت کی اجازت نہ دینے پر اقوامِ متحدہ نے غزہ میں ہونے والی سالانہ 'میراتھن' منسوخ کردی ہے۔

فلسطین کے علاقے غزہ کی حکمران جماعت 'حماس' کی جانب سے خواتین کو شرکت کی اجازت نہ دینے پر اقوامِ متحدہ نے علاقے میں ہونے والی سالانہ 'میراتھن' منسوخ کردی ہے۔

غزہ میں سرگرم اقوامِ متحدہ کے ادارے 'یونائیٹڈ نیشنز ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی' (یوا ین آر ڈبلیو اے) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں " یہ مایوس کن فیصلہ غزہ کے حکام کے ساتھ مذاکرات کےبعد کرنا پڑا ہے جو مْصر تھے کہ خواتین کو اس دوڑ میں شرکت نہ کرنے دی جائے"۔

حماس کا کہنا ہے کہ 10 اپریل کو ہونے والی اس سالانہ دوڑ میں خواتین کی شرکت اسلامی روایات کے منافی ہوگی۔

خیال رہے کہ ماضی میں ہونے والے دو 'میراتھن' میں درجنوں فلسطینی طالبات بھی شریک ہوتی رہی ہیں تاہم حماس نے اس بار دوڑ میں بڑی عمر کی خواتین کی شرکت پر اعتراض کیا ہے۔

'یو این آر ڈبلیو اے' کے مطابق اس سال دوڑ میں اسکولوں کے 1500 طلبہ و طالبات اور 800 بالغ افراد نے شریک ہونا تھا جن میں 260 فلسطینی اور 119 غیر ملکی خواتین بھی شامل تھیں۔

عالمی ادارے کے مطابق دوڑ میں اسکولو ں کے طلبہ کی شرکت علامتی تھی جنہیں صرف چند سو میٹر تک ہی دوڑنا تھا جب کہ ریس کے دیگر 800 شرکا کو 42 کلومیٹر کا طے شدہ راستہ مکمل کرنا تھا۔

غزہ میں عالمی ادارے کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اس سالانہ سرگرمی کا مقصد فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور 'یو این آر ڈبلیو اے' کے تحت غزہ میں چلنے والے 'سمر کیمپس' کے لیے فنڈز اکٹھے کرنا تھا جس سے اسکولوں کے ڈھائی لاکھ طلبہ مستفید ہوتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی مذکورہ ایجنسی اسرائیلی ناکہ بندی کا شکار فلسطین کے اس محصور علاقے کی 16 لاکھ سے زائد آبادی کی اکثریت کو خوراک اور ہنگامی ضروریات کی دیگر اشیا فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے۔

تاہم اس ایجنسی کے اہلکاروں اور غزہ کی حکمران جماعت حماس کے ذمہ داران کے مابین ماضی میں مختلف معاملات پر اختلافات رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG