رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیلی محاصرہ، غزہ کے شہریوں کا سمندر میں احتجاج


اسرائیلی فوج نے فلسطینی ماہی گیروں کو سمندر میں چھ ناٹیکل میل تک جا کر مچھلی شکار کرنے کی اجازت دے رکھی ہے جسے فلسطینی ناکافی قرار دیتے ہیں۔

فلسطین کے علاقے غزہ کے سیکڑوں نوجوانوں نے اسرائیل کی جانب سے ماہی گیری پر عائد پابندیوں اور کئی برسوں سے جاری محاصرے کے خلاف کھلے سمندر میں احتجاج کیا ہے۔

غزہ کی ایک مقامی تنظیم کی جانب سے منظم کیے جانے والے اس احتجاج کے دوران پیر کو قومی پرچم اٹھائے سیکڑوں فلسطینی نوجوان ماہی گیروں کی کشتیوں میں سوار ہو کر اسرائیل کی جانب سے مقرر کی جانے والی بحری سرحد تک گئے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

منتظمین کے مطابق بعض نوجوان اسرائیلی محاصرے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زیادہ گہرے پانی تک بھی گئے۔

نوجوانوں کے اس علامتی احتجاج کے موقع پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا اور تمام فلسطینی کچھ دیر سمندر میں ٹہرنے کے بعد بحفاظت غزہ کے ساحل پر واپس لوٹ آئے۔

احتجاج منظم کرنے والے ادارے کی ایک خاتون ترجمان کے مطابق احتجاج کا مقصد غزہ کے ماہی گیروں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا اور دنیا کی توجہ اسرائیلی محاصرے کی جانب مبذول کرانا تھا تاکہ وہ کئی برسوں سے جاری اس محاصرے کو ختم کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

اسرائیلی فوج کی ایک خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ مظاہرین کی کسی کشتی نے اسرائیلی ناکہ بندی کی خلاف ورزی نہیں کی۔ ماضی میں اسرائیلی فوج مقررہ حد سے باہر نکلنے والے فلسطینی ماہی گیروں کی کشتیوں پر فائرنگ کرتی رہی ہے۔

خیال رہے کہ 2007ء میں اسلام پسند جماعت 'حماس' کی جانب سے غزہ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے اسرائیل نے اس فلسطینی علاقے کی زمینی اور بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

ابتداً اسرائیل نے غزہ کے ماہی گیروں کو سمندر میں مچھلی شکار کرنے سے روک رکھا تھا جو غزہ کے باشندوں کی غذائی ضروریات پورا کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

بعد ازاں اسرائیلی فوج نے 2010ء میں فلسطینی ماہی گیروں کو سمندر میں چھ ناٹیکل میل (لگ بھگ 11 کلومیٹر ) تک جا کر مچھلی شکار کرنے کی اجازت دیدی تھی۔

لیکن غزہ کے ماہی گیروں اور حکام اسرائیل کی اس رعایت کو ناکافی قرار دیتے ہیں کیوں کہ ان کا موقف ہے کہ اتنی گہرائی میں مناسب تعداد میں مچھلیاں نہیں ملتیں۔
XS
SM
MD
LG