رسائی کے لنکس

logo-print

جرمنی: یونان کے لیے بیل آؤٹ پیکج پارلیمان سے منظور


سب سے زیادہ رقم فراہم کرنے کی وجہ سے یونان کو دیا جانے والا بیل آؤٹ پیکج جرمن پارلیمان کی منظوری سے مشروط تھا۔

جرمنی کی پارلیمان نے معاشی بحران میں گھرے یونان کے لیے 95 ارب ڈالر مالیت کے بیل آؤٹ پیکج کی منظوری دیدی ہے۔

جرمن پارلیمان کی منظوری کےبعد امید ہے کہ یونان کو بیل آؤٹ کی رقم کی پہلی قسط آج ہی منتقل کردی جائے گی تاکہ ایتھنز حکومت قرض دہندگان کو جمعرات کی ڈیڈلائن سے قبل اپنے ذمے واجب الادا ساڑھے تین ارب ڈالر کی ادائیگی کرسکے۔

یونان کو نا دہندہ ہونے سے بچانے کے لیے یورو کرنسی استعمال کرنے والوں یورپی یونین کے رکن ملکوں نے جس بیل آؤٹ پیکج کا اعلان کیا ہے اس کے لیے سب سے زیادہ رقم جرمنی فراہم کر رہا ہے۔

سب سے زیادہ رقم فراہم کرنے کی وجہ سے یونان کو دیا جانے والا بیل آؤٹ پیکج جرمن پارلیمان کی منظوری سے مشروط تھا۔

بدھ کو ایوان میں رائے شماری سے قبل جرمنی کے وزیرِ خزانہ والف گینگ شنوبل نے ارکانِ پارلیمان پر زور دیا تھا کہ وہ یونان اور یورپی یونین کی بقا کے لیے بیل آؤٹ پیکج منظور کرلیں۔

یونان کی پارلیمان نے جمعے کو بیل آؤٹ پیکج کی منظوری دی تھی جس میں قرض فراہم کرنے والے ملکوں نے سخت شرائط اور مطالبات رکھے ہیں جن کےتحت ایتھنز حکومت کو اپنے سرکاری اخراجات میں کٹوتی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پینشنوں اور مراعات میں کمی کرنا ہوگی۔

یونان کی پارلیمان سے منظوری کے بعد جمعے کو ہی یوروزون کے وزرائے خزانہ نے ایتھنز حکومت کو بیل آؤٹ پیکج کی پہلی قسط کے طور پر 29 ارب ڈالر فراہم کرنے کی منظوری دی تھی۔

یورو زون ملکوں کی جانب سے رقم کی فراہمی کے باعث یونان اپنے بین الاقوامی قرضوں کی عدم ادائیگی پر نادہندہ ہونے سے بچ گیا ہے۔

یونان گزشتہ پانچ برسوں سے معاشی بحران کا شکار اور بجٹ خسارے کا سامنا کر رہا ہے جس کے باعث وہ اپنے قرضوں کی واپسی کے قابل نہیں رہا۔

یورو زون کے رکن ملک اور بین االاقوامی ادارے یونان کو اس سے قبل دو بار بیل آؤٹ پیکج کے تحت رقم فراہم کرچکے ہیں تاکہ اسے نادہندہ ہونے سے بچایا جاسکے لیکن یونان کی معیشت بدستور خسارے میں ہے۔

XS
SM
MD
LG