رسائی کے لنکس

logo-print

جرمنی: یہودی عبادت گاہ پر حملے کی کوشش ناکام


جرمنی کے شہر ہیلی میں ایک یہودی عبادت گاہ پر مبینہ حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔ پولیس نے اب تک دو افراد کی ہلاکت اور ایک مشتبہ شخص کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

یہودی عبادت گاہ میں ’یوم کپور‘ کا تہوار منایا جا رہا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے عبادت گاہ کی قریبی سڑک پر ایک عورت اور سامنے موجود ریسٹورنٹ میں ایک شخص پر فائر کئے۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ حملے کا ہدف سینی گاگ تھا یا ریستوران۔ تفتیش کاروں نے واقعے کی چھان بین کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق، عینی شاہدین نے بتایا کہ حملہ آور ایک گہرے سبز رنگ کے فوجی لباس، ہیلمٹ اور ویسٹ میں ملبوس تھا۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں دو دہشت گرد ملوث تھے، جن میں سے کار میں بھاگ نکلنے کی کوشش کرنے والا ایک مشتبہ حملہ آور پکڑا گیا ہے۔ حکام نے زیر حراست مشتبہ شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔

واقعے کے بعد تقریباً 200 افراد نے سینیگاگ کے باہر جمع ہو کر موم بتیاں جلائیں۔ کچھ افراد نے اسرائیلی پرچم تھام رکھے تھے۔ جرمن حکام نے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا اور یہودیوں کے خلاف تشدد کے واقعات کی سختی سے روک تھام پر زور دیا ہے۔

جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے متاثرہ سینیگاگ کا دورہ کیا اور ان کے ترجمان نے ٹوئٹ کی کہ ہم یہود مخالف ہر اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ جرمنی کے مشرقی علاقے میں واقع ہیلی شہر کی آبادی دو لاکھ چالیس ہزار ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG