رسائی کے لنکس

logo-print

سانپ نے محلہ خالی کروا دیا


فائل فوٹو

کالے رنگ کے ناگ نے جرمنی کے ایک قصبے ہیرن کا ایک محلہ خالی کروا دیا۔ پولیس نے آس پاس کی آبادی کو ہدایت کی ہے کہ اپنے گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں تاکہ سانپ ان کے گھر میں گھس کر انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔

لوگوں کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ گھاس میں چہل قدمی نہ کریں اور گھنے پودوں سے دور رہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ سانپ نے خود کو وہاں چھپا رکھا ہو۔

جرمنی سے آنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ کالے رنگ کے سانپ کی لمبائی تین فٹ سے زیادہ ہے۔ وہ ایک زہریلا سانپ ہے جس کے ڈسنے سے انسان ہلاک ہو سکتا ہے۔

کوبرا سانپ کہیں باہر سے نہیں آیا تھا بلکہ محلے کے ہی ایک شخص نے اسے پال رکھا تھا۔ تاہم سانپ کے مالک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس کے پاس صرف ایک کوبرا ہی نہیں بلکہ 20 سانپ اور بھی تھے، جنہیں قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ حکام نے یہ نہیں بتایا کہ باقی ماندہ سانپوں کا کیا کیا گیا۔ آیا انہیں چڑیا گھر کو دے دیا گیا یا جنگل میں آزاد کر دیا گیا۔

اپنے مالک کے گھر سے سانپ کے فرار ہونے کے بعد ان چار عمارتوں کو خالی کروا لیا گیا ہے جن کے قریب آخری بار سانپ کو دیکھا گیا تھا۔ مقامی حکام نے کہا ہے کہ سانپ کے ملنے تک ان عمارتوں کو بند رکھا جائے گا اور ان کی نگرانی کی جائے گی۔

حکام نے خالی کرائے جانے والی عمارتوں کے مکینوں سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلاشبہ انہیں گھر چھوڑ کر پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن زندگی کا تحفظ اس پریشانی سے زیادہ اہم ہے۔

قصبے ہیرن کی انتظامیہ کے ایک ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ زیادہ امکان یہی ہے کہ سانپ اپنے مالک کے گھر میں واپس آ جائے گا۔ لیکن جب تک وہ لوٹ نہیں آتا اس وقت تک احتیاطی تدابیر جاری رکھی جائیں گی۔

ترجمان نے کہا کہ ہم نے سانپ کا کھوج لگانے کے لیے خالی کرائے جانے والی عمارتوں کے فرش پر آٹا بکھیر دیا ہے تاکہ اگر سانپ وہاں سے گزرے تو آٹے میں لکیر بن جائے اور ہم اس تک پہنچ سکیں۔

ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ سانپ پکڑنے کے لیے ایک ماہر کو بلوا یا گیا ہے۔ جب تک سانپ پکڑ لیا نہیں جاتا، نگرانی کا عمل جاری رہے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG