رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ طالبان مذاکرات میں شامل نہ ہونے پر اشرف غنی کا اظہار تشویش


ایسے میں جمعے کے روز بات چیت پانچویں روز میں داخل ہوئی۔ آثار ہیں کہ 17 برس پرانی مہلک لڑائی کے خاتمے کے سلسلے میں پیش رفت ہو رہی ہے، جو بیرون ملک طویل ترین امریکی فوجی مداخلت ہے

ایسے میں جب قطر میں امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات جاری ہیں، افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ افغانستان اور سرکشوں کے درمیان بی الآخر جو امن معاہدہ ہوگا اُس میں اُن کے ملک کے آئین اور قانونی طریقہٴ کار کے تقاضوں کی حرمت کا خیال رکھنا لازم ہوگا۔

صدر نے یہ کلمات ڈیووس کانفرنس کے دوران عام گفتگو کے دوران کہے، جسے اُن کے دفتر نے جمعے کے روز ذرائع ابلاغ کو متن کی صورت میں جاری کیا۔

غنی نے مزید کہا کہ صرف افغان قیادت والا مکالمہ ہی ملک میں غیر ملکی فوجوں کی موجودگی سے متعلق کسی بات کا تعین کر سکے گا۔

نمائندہٴ خصوصی برائے افغان مفاہمت، زلمے خلیل زاد طالبان ایلچیوں کے ساتھ مذاکرات میں امریکی وفد کی سربراہی کر رہے ہیں۔ ایسے میں جمعے کے روز بات چیت پانچویں روز میں داخل ہوئی۔ آثار ہیں کہ 17 برس پرانی مہلک لڑائی کے خاتمے کے سلسلے میں پیش رفت ہو رہی ہے، جو بیرون ملک طویل ترین امریکی فوجی مداخلت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG