رسائی کے لنکس

logo-print

کارلوس کو بھاگ نکلنے کا موقع کمزور نگرانی کے باعث ملا


فائل

نسان کے سابق سربراہ، کارلوس غصن ٹوکیو میں اپنی رہائش گاہ سے اس وقت فرار ہوئے جب نسان موٹر کمپنی کی جانب سے مامور نجی سیکیورٹی ادارے نے غفلت برتنا شروع کی۔ یہ بات معاملے سے آگاہ تین مختلف ذرائع نے ہفتے کے روز رائٹرز کو بتائی۔

کارلوس اس وقت بین الاقوامی مفرور بنے جب منگل کے روز انھوں نے اعلان کیا کہ جاپان کے ''دھاندلی زدہ عدالتی نظام'' سے بچنے کے لیے وہ لبنان فرار ہوئے۔ جاپان میں ان کے خلاف مالی بدعنوانی کے جرائم پر فرد جرم عائد ہے۔

نسان نے سیکیورٹی کی ایک نجی کمپنی کی خدمات حاصل کی تھیں، تاکہ کارلوس کی نگرانی کی جا سکے، جو ضمانت پر تھا اور مقدمے کی پیشی کا انتظار کر رہا تھا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ نگرانی اس لیے کی جا رہی تھی کہ مقدمے میں شامل افراد میں سے کون ان سے ملتا ہے۔

لیکن، ان کے وکلا نے خبردار کیا ہے کہ سیکیورٹی کمپنی کی جانب سے ان کی نگرانی انسانی حقوق کی خلاف ورزی شمار ہو گی، اور ذرائع نے بتایا کہ غصن کمپنی کے خلاف شکایت درج کرانے کا ارادہ رکھتا تھا۔

جاپانی حراستی مرکز کا وہ کمرہ جہاں کارلوس قید تھے
جاپانی حراستی مرکز کا وہ کمرہ جہاں کارلوس قید تھے

ذرائع نے بتایا ہے کہ سیکیورٹی کمپنی نے 29 دسمبر کو نگرانی کا عمل روک دیا تھا۔

ان کے ایک وکیل، جونی چیرو ہیروناکا نے نومبر میں اخباری نمائندوں کو بتایا تھا کہ وہ ان اقدامات پر غور کر رہے تھے جن کے ذریعے کارلوس سے بات کرنے کے خواہش مند افراد کو ایسا کرنے سے روکا جا سکے۔

نسان کمپنی کے ترجمان نے بیان دینے سے گریز کیا۔

جاپان کے سرکاری تحویل میں کام کرنے والے نشریاتی ادارے، این ایچ کے نے تفتیشی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکام کی جانب سے غصن کے گھر پر نصب نگرانی کے کیمرے کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اتوار کی شام تن تنہا اپنے گھر سے روانہ ہوا اور پھر لوٹ کر نہیں آیا۔

کارلوس غصن (فائل)
کارلوس غصن (فائل)

یہ راز ابھی نہیں کھلا آیا غصن نے، جن کے پاس فرانس، برازیل اور لبنان کی شہریت ہے، جاپان سے روانگی کے لیے کس کو اپنے ساتھ ملایا تھا۔ حالات سے واقف ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ فرانسیسی پاسپورٹ پر جائز طور پر لبنان میں داخل ہوا۔

غصن نے کہا ہے کہ وہ آٹھ جنوری کو فرار ہونے کی اپنی داستان سے پردہ اٹھائیں گے۔

غصن کے ایک وکیل، تکاشی تکانو نے ہفتے کے روز اپنے بلاگ میں تحریر کیا ہے کہ جب انھیں یہ خبر ہوئی کہ غصن جاپان سے فرار ہو گئے ہیں تو ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی اور انہیں یہ محسوس کیا جیسے انہیں دھوکا دیا گیا ہو۔ لیکن، ساتھ ہی انھیں یہ بات سمجھ آ گئی کہ انھوں نے ایسا عمل کیوں کیا۔

بقول تکانو، ''مجھے دھوکا دیا گیا۔ لیکن، دھوکہ دہی کا ذمہ دار کارلوس غصن نہیں ہے''۔

تکانو نے کہا کہ غصن کو بغیر اجازت کے اپنی بیوی تک سے بھی رابطے کی اجازت نہیں تھی؛ اور نسان کے سابق سربراہ کو شک تھا کہ انھیں کبھی انصاف میسر نہیں آئے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG