رسائی کے لنکس

logo-print

پاک افغان تجارتی گزر گاہ غلام خان پانچ سال بعد دوبارہ فعال


فائل فوٹو

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کے لیے استعمال ہونے والی سرحدی گزرگاہ غلام خان دوبارہ کھول دی گئی ہے۔

شمالی وزیرستان میں 'غلام خان' پاکستان اور افغانستان میں دو طرفہ تجارت کے لیے چوتھی اہم گزرگاہ ہے۔ اس کے علاوہ طورخم بارڈر، چمن اور کرم ایجنسی کی خرلاچی گزر گاہیں پہلے سے ہی فعال ہیں۔

پاکستان نے 9 مارچ 2018 کو یہ گزرگاہ کھولنے کا فیصلہ کیا تھا مگر افغان حکومت کی جانب سے بعض اشیاء کی پاکستان برآمد پر تحفظات کی وجہ سے اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا۔

غلام خان کے انتظامی تحصیل دار، غنی رحمٰن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ افغانستان کے یوم آزادی کے موقع پر افغان حکام نے خیرسگالی کے طور پر کوئلے اور دیگر سامان سے لدے 40 ٹرک پاکستان آنے کی اجازت دی تھی۔ یوں باقاعدہ طور پر دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

غنی رحمٰن نے کہا کہ غلام خان گزرگاہ پر موجود ضلع کے انتظامی اور سیکورٹی حکام نے بھی افغان حکام کے ساتھ ان کے یوم آزادی کی تقریب میں شرکت تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ دوطرفہ تجارت کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے اور سہل بنانے کے لیے تمام اداروں کے اہل کاروں کو غلام خان گزر گاہ پر تعینات کر دیا گیا ہے۔

سرحدی گزر گاہ غلام خان کے ذریعے تجارت سے نہ صرف مقامی آبادی کو بلکہ ملحقہ علاقوں جیسے بنوں، جنوبی وزیرستان اور ڈیرہ اسمٰعیل خان سے تعلق رکھنے والے تاجروں اور کاروباری حلقوں کو بھی فائدہ ہو گا۔

شمالی وزیرستان سے نو منتخب رکن صوبائی اسمبلی میر کلام خان نے سرحدی گزرگاہ کھلنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت کو فروغ ملے گا، بلکہ شمالی وزیرستان کے طول و عرض میں رہنے والے لوگوں کو روزگار کے نئے مواقع بھی میسر آ سکیں گے۔

سرحدی گزر گاہ سے دوطرفہ تجارت اور آمد و رفت جون 2014 میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن 'ضرب عضب' کے باعث بند ہو گئی تھی۔

حکومت غلام خان گزرگاہ کے بعد جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ اور باجوڑ کے 'نوا پاس' کو بھی تجارت کی غرض سے کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG