رسائی کے لنکس

logo-print

اگلے ماہ سے طورخم کراسنگ کو دن رات کھلا رکھنے کا اعلان


فائل فوٹو

پاکستان نے پیر کے روز کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اگلے مہینے سے سرحدی گزرگاہ طورخم دن رات کھلی رہے گی۔

عہدے داروں نے اس پیش رفت کو روایتی طور پر کشیدہ تعلقات کے حامل دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان ایک اچھی خبر قرار دیا ہے۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان قریبی رابطوں کے اہم نتائج میں سے ایک ہے، خاص طور پر پچھلے ہفتے صدر اشرف غنی کے پاکستان کے دورے کے دوران ہونے والی ملاقاتیں۔

انہوں نے کہا کہ اشرف غنی کے دو روزہ دورے نے دوطرفہ تعلقات کی بہتری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

افغانستان خشکی سے گھرا ہوا ایک ملک ہے جو اپنی بیرونی تجارت کے لیے زیادہ تر پاکستانی راستوں اور بندرگاہوں کا استعمال کرتا ہے۔ پاکستانی ماہرین بھی اپنے اس ہمسایہ ملک کو اپنے سامان تجارت کی ایک بڑی منزل سمجھتے ہیں۔

اس وقت تجارتی قافلے شمال مغربی سرحدی گزرگاہ طورخم سے طوع آفتاب سے سورج کے غروب ہونے تک گزر سکتے ہیں، جس کے متعلق تاجروں کا کہنا ہے کہ یہ وقت اتنا نہیں ہوتا کہ ہر روز کراچی بندرگاہ سے تجارتی سامان افعانستان لے جانے والے سینکڑوں ٹرک وہاں سے گزر سکیں۔

سیاسی کشیدگی کے باعث اکثر موقعوں پر یہ سرحدی گزرگاہ بند ہو جاتی ہے جس سے افغان تاجروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے کابل انتظامیہ حالیہ برسوں میں اپنی تجارت کے لیے متبادل راستوں پر غور کرتی رہی ہے۔

افغان حکومت نے حال ہی میں بھارت اور چین کے ساتھ اپنا فضائی راستہ کھول دیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بھارت کے ساتھ تجارت کے لیے ہمسایہ وسطی ایشائی ملکوں کا روٹ استعمال کر رہی ہے۔ لیکن افغان تاجر کہتے ہیں کہ بندرگاہ تک مختصر ترین روٹ کی وجہ سے پاکستان کے راستے تجارت بدستور فائدہ مند ہے۔

پاکستان کے پاس بھی برآمد کرنے کے لیے بہت کچھ ہے اور اگر سرحدی گزرگاہوں کی آمد و رفت کو بہتر بنا دیا جائے تو پاکستان بڑے پیمانے پر اپنی مصنوعات اور مال برآمد کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔

ماہرین یہ اصرار بھی کرتے ہیں کہ پاکستانی حکام کو تجارتی سامان کی کراچی اور طورخم کے درمیانی راستے میں کسٹمز اور پولیس کے ذریعے نگرانی کرنی چاہیے تاکہ اس راستے کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔

طورخم کے علاوہ جنوب مغربی سرحدی گزرگاہ چمن اور شمال مغربی سرحدی گزرگاہ غلام خان بھی دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور ٹرانزٹ کے لیے اہم راستوں کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

پاکستانی حکام نے حالیہ برسوں میں سرحدی کنٹرول سخت کیا ہے اور وہ دونوں ملکوں کے درمیان بے ضابطہ گزرگاہوں کے ذریعے اسمگلنگ اور غیرقانونی آمدو رفت، بالخصوص عسکریت پسندوں کو روکنے کے لیے ایک مضبوط باڑ بھی نصب کر رہے ہیں۔

سرحدی بندوبست کی کوششوں اور سیاسی کشیدگی نے بھی دو طرفہ تجارت کم کرنے میں ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ دونوں ملکوں کی تجارت اس وقت تقریباً ایک ارب 60 کروڑ ڈالر سالانہ ہے جو زیادہ تر پاکستان کے حق میں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG