رسائی کے لنکس

logo-print

ہمالیائی گلیشئرز آخر تیزی سے کیوں پگھل رہے ہیں؟


(فائل فوٹو)

ایک تحقیق کے مطابق رواں صدی کے آغاز سے ہمالیائی گلیشئرز کے پگھلنے کی رفتار دوگنی ہو گئی ہے جس سے خدشہ ہے کہ آنے والے سالوں میں جنوبی ایشیائی ممالک میں کروڑوں افراد کو پانی کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین نے ہمالیائی گلیشئرز سے متعلق 40 سالہ کا ڈیٹا مرتب کیا ہے، جس میں دو ہزار کلو میٹر کے علاقے کا سٹیلائٹ مشاہدہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ جن میں چین، بھارت، نیپال اور بھوٹان کے علاقے بھی شامل ہیں۔

مشاہدے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رواں سال کے آغاز سے لیکر اب تک ان گلیشئرز کی سطح ڈیڑھ فٹ سالانہ کی بنیاد پر گھٹ رہی ہے اور یہ مقدار 1975ء سے 2000ء کے عرصے کے دوران پگھلنے والی برف سے دوگنا زیادہ ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسا عالمی سطح پر رونما ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں اور درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ جبکہ بارشوں میں کمی اور صنعتی فضلات کا اخراجات بھی گلیشئرز کے تیزی سے پگھلنے کی وجہ بن رہے ہیں۔

ماضی میں بھی ہمالیائی گلیشئرز سے متعلق تحقیق سامنے آ چکی ہیں تاہم ماہرین کے مطابق تازہ ترین تحقیق زیادہ مستند ہے۔

ماہرین کے مطابق اس مشاہدے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمالیائی گلیشئرز کتنے بڑے خطرے سے دوچار ہیں، ان کے بقول اگر عالمی درجہ حرارت اور ماحولیاتی تبدیلیاں ایسے ہی جاری رہیں تو گلیشئرز پگھلنے کی رفتار میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG