رسائی کے لنکس

logo-print

’گوگل‘ کے سربراہ رواں ہفتے شمالی کوریا کا دورہ کریں گے


’گوگل ارتھ‘ پر موجود دستیاب مواد میں شمالی کوریا کے ان رازوں سے بھی پردہ اٹھایا گیا ہے جو یقینا ایرک شمٹ کے میزبان دنیا بھر سے مخفی رکھنا چاہتے تھے۔

انٹرنیٹ کے مشہور سرچ انجن ’’گوگل‘‘ کے سربراہ ایرک شمٹ رواں ہفتے شمالی کوریا کا دورہ کریں گے۔ ان کے اس دورے کوبعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دوسری طرف انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ سرچ انجن ’’گوگل‘‘ کی ہی ایک کمپنی ’گوگل ارتھ‘ نے شمالی کوریا کے ایک ایسے بھید کا راز افشاں کیا ہے جسے بلاشبہ شمالی کوریا کی تاریخ کے تاریک رازوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

’گوگل ارتھ‘ کی ویب سائیٹ پر سیٹلائیٹ کی مدد سے دنیا کے کسی بھی حصے کو تصویری شکل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ’گوگل ارتھ‘ پر موجود دستیاب مواد میں شمالی کوریا کے ان رازوں سے بھی پردہ اٹھایا گیا ہے جو یقینا ایرک شمٹ کے میزبان دنیا بھر سے مخفی رکھنا چاہتے تھے۔

’گوگل ارتھ‘ کو دنیا بھر میں تفریحی، تعلیمی اور خرید و فروخت کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور انٹرنیٹ کی دنیا میں پائے جانے والے بلوگرز نے گوگل کے اس پروگرام کو استعمال کرتے ہوئے شمالی کوریا میں موجود درجنوں قید خانوں کا ایک نقشہ بنایا ہے۔

شمالی کوریا رقبے کے لحاظ سے یونان سے بھی چھوٹا ہے اور اسکی آبادی دو کروڑ تیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

انسانی حقوق کے گروپس کی جانب سے پیش کردہ اعداد کے مطابق دور افتادہ علاقوں اور پہاڑوں پر واقع ان قید خانوں میں تقریبا ڈھائی لاکھ کے قریب سیاسی قیدی موجود ہیں۔

ریاست نیو میکسیکو کے سابق گورنر بل رچرڈسن کے ساتھ ایرک شمٹ کے پیانگ یانگ کے دورے کو امریکی دفتر ِ خارجہ کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب شمالی کوریا نے اقوام ِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک راکٹ لانچ کیا ہے۔
دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایرک شمٹ کے پیانگ یانگ کے دورے سے مثبت نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ وہ اس بات کی تعریف بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ’گوگل ارتھ‘ نے شمالی کوریا کی ’حقیقت‘ دنیا کے سامنے لانے میں کردار ادا کیا۔

واشنگٹن کی ایک خاتون وکیل جوشوا سٹینٹن جو اپنے فارغ وقت کو انٹرنیٹ پر بلوگنگ کے لیے استعمال کرتی ہیں کا کہنا ہے کہ، ’’ ایرک شمٹ کا یہ دورہ کچھ عرصے میں لوگوں کے ذہنوں سے محو ہو جائے گا۔ لیکن ’گوگل ارتھ‘ نے شمالی کوریا کی حقیقی تصویر دنیا کو دکھا کر تاریخی نوعیت کا کام کیا ہے۔‘‘

’گوگل‘ نے ایرک شمٹ کے شمالی کوریا کے اس دورے کو ذاتی نوعیت کا قرار دیا ہے۔ ایرک شمٹ نے شمالی کوریا جانے سے پہلے اپنے دورے کے حوالے سے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے گریز کیا ہے۔ ’گوگل‘ نے ’گوگل ارتھ‘ کی جانب سے شمالی کوریا پر نظر رکھنے کے حوالے سے بھی کسی بھی سوال کا باضابطہ طور پر جواب دینے سے گریز برتا ہے۔
XS
SM
MD
LG